Women Police ویمن پو لیس

خواتین پولیس کاکردار ہمارے معاشرے میں بے حداہمیت کاحامل ہے۔ ساﺅتھ زون ،صدر ٹاﺅن ، کراچی کی ایس ایچ او ، انسپکٹر حاجرہ عثمان کا کہنا ہے کہ گزشتہ سالوں میں عام لوگوں کی سوچ میں خاصی تبدیلی آئی ہے اور اب لوگ ویمن پولیس کا نہ صرف بے حد احترام کرتے ہیں بلکہ اُن کے ساتھ تعاون بھی کرتے ہیں
پاکستان میں ویمن پولیس کا باقاعدہ آغاز محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے دور میں ہوا،انسپکٹر حاجرہ عثمان کا کہنا ہے کہ انھیں اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں پیش آنے والے تمام تر مسائل کے بارے میں مکمل ٹریننگ فراہم کی جاتی ہے۔
لاءاینڈآرڈر کی صورتحال میں خواتین پولیس بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔اس سلسلے میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران یونیفارم میں ملبوس خواتین پولیس اہلکاروں کو لوگوں کے ناروا سلوک کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ویمن پولیس کے حوالے سے کرخت مزاج اور کھردری طبیعت کی حامل خواتین کاتصور پایا جاتا ہے جسکا شاید حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔
صدر ٹاﺅن میں بحیثیت ایس ایچ او خدمات انجام دینے والی انسپکٹر حاجرہ عثمان کا کہنا ہے کہ بعض اوقات پولیس کا یونیفارم ہمیں ایسے مسائل سے بچا لیتا ہے جن سے عام لوگ دوچار رہتے ہیں،اس سلسلے میں حاجرہ اپنے ساتھ پیش آنے والاایک واقعہ شیئر کرتے ہوئے ہمیں بتاتی ہیں۔
خواتین پولیس کے شعبے میں مزید خواتین کو آگے آنے آنا چاہئیے،اسکے علاوہ اس شعبے کو مزید ترقی دینے کیلئے ویمن پولیس کے بارے میں عام لوگوں کی سوچ کوبدلنے کی ضرورت ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *