پاکستان میں اسلامی سرمایہ کاری کے نام سے لوگوں کے کروڑوں روپے لوٹ لئے گئے، مضاربہ سرمایہ کاری پلان نامی اس فراڈ کے بارے میں ہی سنتے ہیں آج کی رپورٹ
سینتیس سالہ مصالحوں کے تاجر ارشاد خان نے اپنی گاڑی فروخت کرکے اور اپنی تمام بچت مضاربہ سرمایہ کاری منصوبے پر لگادی۔انہیں پندہ فیصد سود سے پاک منافع دینے کا یقین دلایا گیا، جو کہ عام بینکوں کے مقابلے میں بھی پانچ فیصد زائد تھا۔
خان”ہم نے جن افراد کے پاس اپنی رقم جمع کرائی وہ سب مذہبی شخصیات تھیں، ہمیں ان پر بہت زیادہ اعتماد تھا”۔
ایک ہزار سے زائد افراد اب اپنی جمع پونجی سے محروم ہوچکے ہیں۔
درزی عشرت حسین نے اپنی بیوی کا تمام زیور فروخت کردیا۔
ان کی دو سال کی بچی ہے اور جلد ہی وہ ایک اور بچے کے باپ بننے والے ہیں۔
حسین”میں نے ایک دوست سے ایک ہزار ڈالر کے قریب رقم بھی ادھار لی اور وہ اب مجھ سے روزانہ رقم واپس کرنے کا مطالبہ کررہا ہے۔ آخر میں اب کیسے اسے یہ رقم ادا کرسکتا ہوں؟”
یہ فراڈ ایک سال تک چلتا رہا اور رواں سال ستمبر میں بلی تھیلے سے باہر نکل آئی۔
کراچی پولیس نے اب تک اس فراڈ میں مبینہ طور پر ملوث چار افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ شفیق تنولی پولیس انسپکٹر ہیں۔
تنولی”ان کےخلاف گیارہ شکایات درج کرائی گئی تھیں، جبکہ شہر کے دیگر پولیس اسٹیشنز پر بھی اس حوالے سے مقدمات درج کرائے گئے، یشتر متاثرہ افراد مذہبی رجحان رکھنے والے تھے، جنھوں نے اپنی گاڑیاں، رکشے، زیور اور دیگر وغیرہ فروخت کرکے سرمایہ کاری کی”۔
اس فراڈ میں پاکستان کے معروف مذہبی مدرسے جامعہ بنوریہ کے ملوث ہونے کا دعویٰ سامنے آیا، تاہم مدرسے کے سربرہ مفتی نعیم نے اس کی دوٹوک تردید کی۔
نعیم”اگر کوئی اس بات کو ثابت کردیں کہ اس سرمایہ کاری میں میری ذات یا ہمارا ادارہ ملوث ہے تو میں اس پورے فراڈ کی ذمہ داری اپنے سر لے لوں گا، کچھ اخبارات میں جامعہ بنوریہ پر عائد کئے جانے والے الزامات مکمل طور پر بے بنیاد ہیں”۔
پاکستان میں اسلامک بینکنگ کا رجحان تیزی سے فروغ پارہا ہے، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اسکینڈلز سے یہ شعبہ متاثر ہوگا۔ ندیم بیگ اسلامی بینکاری کے ماہر ہیں۔
بیگ”پوری دنیا میں اسلامی سرمایہ کاری کی بڑھوتری میں سترہ فیصد تک اضافہ دیکھا گیا، مگر پاکستان میں اس کی شرح میں سات سے آٹھ فیصد کمی ہوئی۔ اس کا مطلب ہے کہ اسلامی مصنوعات پر صارفین کا اعتماد کم ہوا ہے، جس کی وجہ یہ مضاربہ اسکینڈل ہے”۔
مگر ارشاد خان کیلئے یہ ایک بہت بڑا سبق ہے، جو اپنی تمام جمع پونجی سے محروم ہوگئے ہیں۔
خان”ہر ایک رقم کی واپسی کیلئے اللہ سے دعائیں کررہا ہے، ہمیں اس بحران کے حل کیلئے حکومت پر کوئی بھروسہ نہیں”۔