عید الاضحیٰ کا تیسرا روز بھی ملک بھر میں روایتی جوش و خروش سے منایا جارہا ہے اور شہرشہر گاﺅں گاﺅں پارکوں اور تفریحی مقامات پر بچوں اور بڑوں کا رش لگا ہوا ہے۔مگر دیہی زندگی میں عید کے رنگ ہی شہروں سے بالکل منفرد ہوتے ہیں ،
یہاں بھی مرد اور بچے تو عید کی آخری چھٹی بھرپور انداز میں گزارتے ہیں مگر خواتین کیلئے زیادہ مواقع دستیاب نہیں ہوتے۔
خواتین شہر کی ہوں یا دیہات کی خواتین کو عید کی تےاری سے ہی عید منانے کا اصل لطف آتا ہے،رنگ برنگے ملبوسات،کھنکتی چوڑیاں،مہندی کی خوشبو ،ان سب تےاریوں سے ہی عید کے رنگ ہیں۔
دیہات میں عید قرباں پر خواتین کا بیشتر وقت کام کرتے ہی گزر جاتا ہے۔قربانی کے بعد گوشت کو سنبھالنا، اس سے نت نئے پکوان بنانا اور دیگر کام خواتین کے ہی ذمے ہوتے ہیں، جس کے بعد تیاری وغیرہ کیلئے زیادہ وقت ہی نہیں بچتا۔عید کی رات کا بیشتر حصہ خواتین کا باورچی خانے میں گزرتا ہے۔ قربانی کوئی کرے یا نہ کرے کھانے کا بھرپور انتظام ضروری ہے۔ اس میں امیر غریب کی کوئی قید نہیں۔ اور پکوانوں میںساگ،پالک گوشت ،بھنڈی گوشت ،دال گوشت ،اور مختلف سبزیوںکے ساتھ گوشت کے پکوان تیار کیے جاتے ہیں۔
دیہاتوں میں جہاں بجلی نہیںہیں وہاں فریج کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ،مگر گوشت کو ذیادہ عرصے تک پکانے کے قابل بنانے کے لیے گوشت کو ایک خاص طریقے سے محفوظ کیا جاتا ہے ،گوشت کے ٹکڑے کر کے اس میں نمک اور ہلدی ڈال کر ابال لیا جا تا ہے ،پھر اس کے ہار بنائے جاتے ہیں اور اسے خشک کیا جاتا ہے اور اگر یہ صحیح خشک ہو جائے تویہ چند مہینوں تک خراب نہیں ہو تا،اور اس گوشت سے تیار کیاے جانے والے پکوان کا ذائقہ بھی اپنی مثال آپ ہو تا ہے۔
دیہی زندگی میں ،مال مویشیوں کے لیے چارہ اور جانوروں کی خاطر داری کا کام بھی بیشتر اوقات خواتین ہی کر تی ہیں۔تاہم اگر وقت ہو بھی تو شہروں کے مقابلے میں دیہات میں خواتین اکثر اپنے کپڑے گھر میں ہی تیار کرتی ہیں بلکہ اکثر جگہوں پر مہندی کا پودا گھر میں لگا ہوتا ہے ،جس کے پتے چھاوں میں خشک کر کے پیس لیے جاتے ہیں، اور مہندی تیار کی جاتی ہے،اور مہندہ ہاتھوں پے لگا کر رنگ گہرا کرنے کے لیے ،مہندی لگا کے کچھ دیر بعد خشک ہو نے پر ہاتھ دھو کرہلکاسا شیرا لگا لیا جاتا ہے ،جس سے رنگ گہرا ہو جا تا ہے ، مگر اپنی ذات کے ساتھ ساتھ گھروں کو بنانا سنوارنا بھی ان کے ہی ذمہ ہے جس کی وجہ سے عام طور پر دیہات میں خواتین کی عید کافی سادگی اور بھرپور کام کرتے ہی گزر جاتی ہے۔