جزیرہ نما کوریا آج کل شدید تناﺅ کی زد میں ہے جس کی وجہ Pyongyang کی جانب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ تھا، جو 13 اپریل کو کیا گیا، اور یہ ناکام رہا۔ تاہم اس تجربے نے خطے کا ماحول شدید کشیدہ کردیا ہے۔
ٹوکیو میں جاپان کی وزارت دفاع کے دفتر کے باہر پیٹریاٹ میزائلوں کی دو بہت بڑی بیٹریاں نطر آرہی ہیں۔ جاپان نے دھمکی دی ہے کہ شمالی کوریا کا راکٹ اس کی سرزمین میں دو ملی میٹر اندر بھی آیا تو وہ اسے مارگرائے گا۔ تاہم جاپانی شہری وسطی ٹوکیو میں ان بیٹریوں کی موجودگی پر خوش نہیں۔
شہری(male) “میں سمجھ سکتا ہوں کہ وہ جاپان کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں۔ مگر ان میزائلوں کو وسطیٰ ٹوکیو میں رکھنا کیا کافی ثابت ہوگا؟”
چند شہری اسے کچھ نہ ہونے کے مقابلے میں تو غنیمنت ہی مانتے ہیں۔
شہری دوم(male) “یہ قابل فہم ہے کہ ہم شمالی کورین میزائل کو اپنے سروں پر سے گزرتے ہوئے مار گرائے”۔
جاپان اور جنوبی کوریا نے شمالی کورین میزائل کو مارگرانے کی دھمکی دی تھی، جس کے جواب میں Pyongyang نے بھی سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ایک شمالی کورین نیوز کاسٹر اس حوالے سے بات کررہا ہے۔
نیوزریڈر(male) “جو بھی ہمارے میزائل کو گرائے گا یا اس کا ملبہ اکھٹا کرے گا اسے شمالی کوریا کی جانب سے بے رحم سزا کا سامنا کرنا پڑے گا”۔
شمالی کورین حکومت کا اصرار ہے کہ وہ میزائل نہیں بلکہ پرامن طریقے سے سیٹلائٹ خلاءمیں بھیجنے کا تجربہ کررہا ہے، تاکہ موسموں کا جائزہ اور قدرتی وسائل کو تلاش کیا جاسکے۔اسی سلسلے میں شمالی کوریا کی جانب سے پچاس غیرملکی صحافیوں کو راکٹ لانچ پیڈ تک بھی لے جایا گیا۔ یہ اقدام عالمی برادری کو اس پر قائل کرنے کے لئے کیا گیا کہ یہ بیلاسٹک میزائل کا تجربہ نہیں۔ Jang Myong-jin شمالی کورین عہدیدار ہیں۔
” (male) Jang Myong-jin اگر یہ بیلسٹک میزائل ہوتا تو اسے کسی زیرزمین جگہ پر چھپا کر رکھا جاتا۔ اگر کوئی کہے کہ یہ میزائل تجربہ ہے تو وہ شخص احمق ہے۔ اس تجربے کی منصوبہ بندی طویل عرصے پہلے کی گئی تھی جسکا مقصد شمالی کوریا کے بانی صدر Kim Il-Sung کے 100 ویں یوم پیدائش پر انہیں خراج عقیدت پیش کرنا ہے”
تجربے کے مقام پر صحافیوں کو شمالی کوریا نے مبینہ سیٹلائٹ بھی دکھایا، مگر اس عوامی مظاہرے سے بھی جاپان یا جنوبی کوریا کے خدشات کم نہیں ہوسکے۔جاپانی وزیرخارجہ Koichiro Gemba چینی اور جنوبی کورین ہم منصبوں سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کررہے ہیں۔
(male) Koichiro Gemba “یہ بات واضح ہے کہ اگر میزائل تجربہ کیا گیا تو یہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہوگی”۔
یہاں تک کہ شمالی کوریا کے قریبی حلیف چین بھی اس تجربے پر خدشات ظا ہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے خطے میں تصادم کا خطرہ ہے۔ Yang Jiechi چین کے وزیر خارجہ ہیں۔
(male) Yang Jiechi “چین اس صورتحال پر اپنے تحفطات کا اطہار کرتا ہے، ہم تمام فریقین سے تحمل سے کام لینے کی درخواست کرتے ہیں، تاکہ ہم سفارتی اور پر امن طریقے سے اس مسئلے کو حل کرسکیں”
اس تجربے سے امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان کچھ عرصہ قبل شروع ہونے والے مذاکرات بھی متاثر ہوئے ہیں۔