Problems Of Nurses نرسو ں کے مسا ئل

اسپتالوںکے اعصاب شکن ماحول میں بھی چہرے پہ خوشگوارمسکراہٹ سجائے،مریضوںکی تیماررداری میںمصروف نرسزعزت واحترام کی حقدارسمجھی جاتی ہیں،یہی وجہ ہے کہ نرسنگ کو دنیا بھر میںقابل احترام پروفیشن مانا جاتاہے،لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان میں نہ صرف نرسزکو وہ مراعات اور عزت واحترام نہیںدیا جاتا جس کی وہ حقدارہیںبلکہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک بھی برتاجاتا ہے۔
خراب موسم اورشہر کی بگڑتی صورتحال کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنی ڈیوٹی پر حاضرہونااور خندہ پیشانی سے مریضوں اور اِنکے تیمار رداروں کے کبھی تلخ تو کبھی شیریں رویوں کو برداشت کرنا نرسز کی پیشہ ورانہ ذمے داریوں کا حصہ ہے۔پاکستان نرسنگ ایسوسی ایشن کی فنانسمنسٹر فرحت ناز کا کہنا ہے کہ دیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں خواتین نرسوں کا احترام کرنے والوں کی تعدادآٹے میں نمک کے برابر ہے:
انسانیت کی خدمت کرنے والی نرسوں کو دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ عدم تحفظ کی صورتحال کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے،خصوصاً نائٹ شفٹس کے دوران بیشتر سرکاری اسپتالوں میں سیکورٹی کے انتظامات انتہائی ناقص ہونے کے باعث خواتین نرسز کو ہراساں کرنے اور اُنکے ساتھ زیادتی کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ مریضوں ، اُنکے عزیز و اقار ب یا مرد کولیگز کی جانب سے نرسوں کو دوستی کی پیش کش کی جاتی ہے ،اُنکے سیل نمبرز حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ،انکار کی صورت میں نہ صرف انھیں ہتک آمیز رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ بعض اوقات اپنی پیشہ ورانہ ذمے داریاںجاری رکھنا بھی اُنکے لئے مشکل ہو جاتا ہے،اس بارے میں فرحت ناز اپنے تجربات و مشاہدات بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں:
شفا کا وسیلہ بننے والی نرسز سے مریضوں اور اُنکے تیماررداروں کا رویہکس قدر تلخ ہوتا ہے ،اس بارے میںپی این اے کی فنانسمنسٹرکا کہنا ہے:
اس مسئلے کو لے کر جب دیگر نرسز سے بات کی گئی تو اُنکے تاثرات بھی کم و بیش ایک جیسے ہی تھے،جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں بحیثیت نرس خدمات انجام دینے والی فاخرہ کا کہنا ہے:
قابل ذکر بات یہ ہے کہ نرسنگ کے پروفیشن سے تعلق رکھنے والی خواتین کے تحفظ کیلئے کسی قسم کا کوئی قانون موجود نہیں ہے ،زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین نرسز کہاں اور کس کے پاس اپنی شکایات درج کروائیں اس سلسلےمیں کسی سرکاری و پرائیویٹ اسپتال میں کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے،فرحت ناز تمام نرسز کی نمائندگی کرتے ہوئے پارلیمنٹرینز سے شکوہ کرتی ہیں کہ آخر نرسز کیلئے قانون سازی کیوں نہیں کی جاتی اور اُنکےمسائل کو سامنے کیوں نہیں لایا جاتا:
نرسز کا پروفیشن جس قدر مشکل اور اعصاب شکن سمجھا جا تا ہے اسکے مقابلے میں نرسنگ اسٹاف کی تنخوائیں اور مراعات انتہائی کم ہیں،جبکہ پرکشش مراعات کے حصول کیلئے بیرون ملک جا کر ملازمت کرنے والی خواتین نرسز کی تعداد میں بھی اضافہ ہواہے ،ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ٹرینڈ نرسز کی تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے۔حال ہی میں کراچی میں نرسنگ اسٹافنے تنخواہوں میں اضافے کیلئے احتجاج اور ڈیوٹیز کا بائیکاٹ کیا تھا جسکے نتیجے میں اُنکے مطالبات پر غور کرنے کے بجائے احتجاج میں شریک نرسز پر لاٹھی چارج اور شیلنگ کی گئی:
اس حوالے سے فرحت ناز کا کہنا ہے کہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں صوبہ سندھ کے نرسنگ اسٹاف کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے:
انتہائی حساس پیشے سے منسلک مشکل ترین خدمات انجام دینے والی نرسزمعاشرے کی جانب سے عزت احترام اوررواداری کی متقاضی ہیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمے داری ہے کہ نرسنگ اسٹاف کیلئے پر کشش تنخواہ اورمرا عات جاری کی جائیں تاکہ بہتر ملازمتکے حصول کیلئے نرسز کے بیرون ملک جانے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی جاسکے،اسکےعلاوہ ملک بھر میں نرسنگ اسکولز کی تعدادبڑھانےکے ساتھ ساتھ طالبات کے وظائف میں بھی اضافہ کیا جانا چاہئیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *