Rani’s Death Anniversary – لالی ووڈ کی معروف اداکارہ رانی کی برسی

تھا یقین کہ آئیں گی یہ راتاں کبھی جیسے لازوال گیتوں کو اپنے رقص سے امر بنا دینے والی پاکستانی فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ رانی آٹھ دسمبر انیس سو چھیالیس کو لاہور میں پیداہوئیں۔رانی کا اصل نام ناصرہ تھا،ہدایتکار انور کمال پاشانے ناصرہ کورانی کے نام سے 1962ءمیں اپنی فلم محبوب میں متعارف کرایا۔

1964 تک رانی نے کئی فلموں میں اداکاری کی جن میں سے اکثر ناکام رہیں جس کی وجہ سے رانی پر بدقسمت اداکارہ کا ٹھپہ لگ گیا۔مگر 1967ءمیں ہدایتکار حسن طارق کی فلم دیور بھابی کی کامیابی کے بعد رانی کی قسمت کا ستارہ چمک اٹھا۔اس فلم کا گیت اے رات بتا کیا ان سے کہے بہت مقبول ہوا۔

اس سے اگلے سال ہی ان کی ایک اور سپر ہٹ فلم بہن بھائی ریلیز ہوئی جو سپرہٹ ثابت ہوئی، اس کے گیت جیسے ہیلو ہیلو مسٹر عبدالغنی، نے تو مقبولیت کی تمام حدود کو عبور کرلیا۔

تاہم رانی کو بام عروم پر پہنچانے والی فلم 1970ءمیں ریلیز ہونے والی انجمن تھی جس کے بعد انھوں نے کبھی پیچھے موڑ کر نہیں دیکھا۔ اس فلم کے تمام گیت انتہائی معروف ہوئے، جیسے اظہار بھی مشکل ہے کچھ کہہ بھی نہیں سکتے، یا آپ دل کی انجمن میں حسن بن کر آگئے ہو وغیرہ۔

اس کے بعد ان کی فلم تہذیب اور ان کی زندگی کی سب سے ہٹ فلم امراﺅ جان ادا ریلیز ہوئی۔اس فلم کے گیتوں نے بھی تہلکہ مچایا، جیسے جو بچا تھا وہ لٹانے کیلئے آئے ہیں، اس کے رانی کی یکے بعد دیگرے ان کی سپر ہٹ فلمیں آتی چلی گئیں، جن میں ایک گناہ اور سہی ، بہارو پھول برساﺅ، ناگ منی اور ثریا بھوپالی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

اردو کے ساتھ ساتھ رانی نے پنجابی فلموں میں بھی نمایاں کامیابی حاصل کی، جن میں چن مکھناں سب سے نمایاں تھی، جس کا گیت چن میرے مکھناں آج تک مقبول ہے۔

فلموں میں بے انتہا کامیابی کے باوجود رانی ازدواجی زندگی کے سکون سے محروم رہی جس کا انہیں ہمیشہ افسوس رہا۔انہوں نے تین شادیاں کیں۔ انہیںکینسر جیسا جان لیوا مرض لاحق تھا،جسکے باعث وہ27مئی 1993کو 46برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔آج وہ ہم میں نہیں مگر ان کے منفرد کردار اب بھی ان کے پرستاروں کے دلوں میں زندہ ہیں۔