نیپال میں ایسے بچے جو ایچ آئی وی وائرس کے شکار ہوں، کو تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے انکار کردیا جاتا ہے۔ ایڈز سے متعلق غلط فہمیوں کے باعث بیشتر اسکول ایسے مریض بچوں کو داخلہ دینے سے ہچکچاتے ہیں۔اس خلاءکو بھرنے کے لئے ایک نجی اسکول نے ان مریض بچوں کیلئے ایک اسکول Saphalta HIV Shiksya Sadan قائم کیا ہے۔
یہ ایچ آئی وی وائرس کے شکار بچوں کے اسکول میں صبح کا آغاز ہے، کھانے کے کمرے میں ناشتے کے بعد یہ بچے اپنی دوا لے رہے ہیں۔
بہت سے بچے کھیل رہے ہیں مگر نوسالہ Urmila Aryal کی طبیعت آج کچھ بہتر نہیں۔ گزشتہ شب اس نے اپنی ماں کو خواب میں دیکھا تھا یہی وجہ ہے کہ وہ اب اپنی ماں کو خط لکھنا چاہتی ہے۔
ارمیلا کی ماں کی کھٹمنڈو سے چھ سو کلومیٹر دور رہتی ہے، ان دونوں کا ملاپ سال میں ایک دفعہ ہی ہوتا ہے۔ ارمیلا “ میرے والد کافی برسوں تک نئی دہلی میں کام کرتے رہے، جب وہ واپس گھر آئے تو ان سے ایڈز کا وائرس میری والدہ میں منتقل ہوگیا، جس کے بعد وہ حاملہ ہوئیں تو میں بھی اس موذی مرض کا شکار بن گئی”۔
وہ ہرشخص کو یہ بات نہیں بتاتی، تاہم جب وہ اپنے علاقے کے ایک اسکول میں پہلی جماعت میں زیرتعلیم تھی تو اسے اسکول چھوڑ دینے کا کہا گیا۔ ارمیلا “ میں اسکول میں اکثر ایڈز سے متعلق اے وی آر ادویات لیتی تھی، تاہم جب میرے دوست اس بارے میں پوچھتے تو میں کہتی کہ یہ سردرد کی ادویات ہیں۔ مجھے معلوم تھا کہ اگر کسی شخص کو میری بیماری کا پتا چلا تو مجھے اسکول چھوڑنا پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ میں اپنے دوستوں سے جھوٹ بولتی رہی، مگر ایک دن میری پرنسپل نے مجھے بلایا اورکہا کہ تم ایڈز کی مریضہ ہو لہذا اسکول سے نکل جاﺅ”۔
اس دن کے بعد سے کافی عرصے تک اسکول کے دروازے ارمیلا کیلئے بند رہے۔ پھر جب Rajkumar Pun اور Uma Gurung نے ارمیلا کی کہانی ایک اخبار میں پڑھی تو وہ اسے اپنے اسکول میں لے آئے۔
دس بچے اس اسکول میں قائم ہوسٹل میں مقیم ہیں، جن کی عمریں تین سے دس سال کے درمیان ہیں۔ Dattaram Rai بچوں کو پڑھانے میں مصروف ہیں، انھوں نے اس اسکول میں پڑھانے کیلئے اپنی پرانی ملازمت کو چھوڑا تھا۔ دَتا رام رائے “ میں ایک اور دفتر میں کام کرتا تھا، مگر جب مجھے اس اسکول کا پتا چلا تو میں یہاں آیا اور بہت متاثر ہوا۔ یہ بہترین ملازمت ہے، یعنی ایسے بچوں کو پڑھانا جنھیں معاشرہ قبول کرنے کیلئے تیار نہیں۔ دولت ہی زندگی میں سب کچھ نہیں، یہ ایک سماجی خدمت ہے۔ میں یہاں کام کرکے بہت خوش ہوں”۔
یہ نیپال میں اپنی طرز کا پہلا اسکول ہے، اٹھائیس سالہ Rajkumar Pun اس کے بانی اور صدر ہیں۔ راج کُمار پُن” دیگر اسکولوں نے ان بچوں کو داخلہ دینے سے انکار کردیا تھا، انکا کہنا تھا کہ اگر وہ ایڈز کے مریضوں کو داخلہ دیں گے تو ان کا کاروبار متاثر ہوگا۔ یہاں تک کہ سرکاری اسکولوں میں بھی ان بچوں کو داخلہ نہیں ملتا تھا”۔
دس سالہ منجو چاند کی زندگی بہت سخت گزری ہے۔ منجو” والدین کی وفات کے بعد میری خالہ مجھے اپنے گھر لے گئیں۔ اس گاﺅں کے رہائشی اپنے بچوں کو میرے ساتھ کھیلنے سے روکتے تھے، اور کہتے تھے کہ میں ایڈز کی مریضہ ہوں۔ میں نے جب یہ سنا تو میرا دل ٹوٹ گیا اور میں رونے لگی۔ میری خالہ کہنے کو تو میری پرورش کررہی تھیں مگر حقیقت میں وہ مجھ سے نفرت کرتی تھیں”۔
منجو کی بڑی بہن اس اسکول کے قریب رہائش پذیر ہے مگر وہ کبھی اس سے ملنے نہیں آتی۔ منجو” وہ میرے لئے کوئی حیثیت نہیں رکھی کیونکہ وہ بھی مجھ سے محبت نہیں کرتی۔ گزشتہ برس اس نے یہاں آکر مجھے ایک تہوار کیلئے گھر لیکر جانے کا وعدہ کیا تھا، مگر وہ نہیں آئی۔ میرے رشتے دار مجھ سے نفرت کرتے ہیں مگر مجھے اسکی پروا نہیں۔ ہمارے پاس سر راجکمار اور میڈم اوما موجود ہیں، وہ ہمیں خوراک، تعلیم اور رہائش دے رہے ہیں۔ سر میرے والد اور میڈم میری ماں ہیں۔ میں مستقبل میں انکے بتائے گئے راستے پر چلوں گی”۔
اسکول کے بعد ارمیلا بچوں کے ساتھ رقص کررہی ہے، اسے رقص سے محبت ہے اور وہ مستقبل میں ایک مشہور رقاصہ بننا چاہتی ہے۔