نئی دہلی میں ایک چلتی بس کے اندر طالبہ سے اجتماعی زیادتی کے ہولناک واقعے نے بھارتی معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، اس واقعے کے بعد سے خواتین اور لڑکیوں نے ذاتی دفاع کی کلاسز میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ بھوپال میں ذاتی دفاع کے کورس میں شمولیت اختیار کرنے والی لڑکیوں کے بارے میں جانتے ہیں ۔
راج لکشمیکی عمر آٹھ سال ہے اور وہ بھوپال میں قائم اس ذاتی دفاع کے کیمپ میں سب سے کم عمر لڑکی ہے۔وہ اپنی دو بڑی بہنوں اور والدہ کے ہمراہ اس کیمپ میں آئی ہے۔ راج لکشمی” ہم یہاں یہ سیکھ رہے ہیں کہ کسی اور کے حملے سے ہم اپنا بچاﺅ کیسے کریں۔ مجھے اس کیمپ میں اپنی بہنوں کے ساتھ آکر بہت مزہ آرہا ہے۔میں اس کیمپ کے بعد بھی ذاتی دفاع کی تربیت جاری رکھنا چاہتی ہوں”۔
نوسالہ مہالکشمی کا کہنا ہے کہ اس نے تربیت کے دوران کئی نئے تیکنیکس سیکھی ہیں۔ مہالکشمی” میں اس کیمپ میں آکر بہت خوش ہوں، گھر جاکر ہم یہاں سے جو کچھ سیکھتے ہیں اس کی مشق کرتے ہیں۔ مجھے توقع ہے کہ میں اس سے بہت کچھ سیکھ سکوں گی اور میں اس کورس کے اختتام کے بعد کھیلوں کی تربیت لینا پسند کروں گی”۔
بھارتی حکومت کے مطابق ملک میں ہر بیس منٹ میں ایک خاتون جنسی زیادتی کا شکار بن جاتی ہے، نئی دہلی میں اجتماعی زیادتی کے واقعے کے بعد خواتین نے اپنا دفاع خود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھوپال میں ریاست مدھیہ پردیش کے کھیلوں و امور نوجواناں کے محکمے نے اسی سلسلے میں پہلی بار ذاتی دفاع کا کیمپ لگایا۔ یہاں آنے والی خواتین کو کراٹے، کنگفو اور مارشل آرٹس کی دیگر تیکنیکس سیکھائی جارہی ہیں۔ Vikas Khardakar کیمپ کوآرڈنیٹر ہیں۔ وِکاس کھرداکر “ ہم نہ صرف انہیں جسمانی تربیت فراہم کررہے ہیں، بلکہ ان کی ذہنی تربیت بھی کررہے ہیں۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ انہیں ذہنی طور پر مضبوط کیا جائے تاکہ وہ دنیا کا سامنا کرسکیں۔ کیمپ کے آغاز میں صرف پچاس خواتین تھیں مگر اب ان کی تعداد دو سو سے تجاوز کرچکی ہے۔ ہم اس کیمپ میں آنے والی خواتین کو شرپسند عناصر سے اپنے
تحفظ کے قابل بنانا چاہتے ہیں، جبکہ ہم چاہتے ہیں کہ وہ دیگر کی بھی مدد کرسکیں”۔
کیمپ میں وڈیو دکھا کر بھی سیکھایا جاتا ہے کہ حملہ آور سے کیسے بچانا چاہئے۔ انیس سالہ کِرِتِکا اوستھی میڈیکل کے پہلے
سال کی طالبہ ہیں، وہ اپنے کالج کی چالیس ساتھیوں کے ہمراہ اس کیمپ میں شریک ہے۔ اس نے پہلے کبھی اس طرح کے کورس کا نہیں سوچا تھا مگر دہلی واقعے نے اسکا ذہن تبدیل کردیا۔ کِرِتِکا اوستھی” ہم ڈاکٹر بننے کی تربیت حاصل کررہے ہیں اور گریجویشن کے بعد ہمیں کسی بھی مقام پر تعینات کیا جاسکتا ہے۔ ہمیں مختلف قسم کے مریضوں کا سامنا ہوگا اور ہم ان کے ارادوں کا اندازہ نہیں لگاسکتے۔ یہی وقت ہے کہ ہم ذاتی دفاع کی بنیادی تیکنیکس سیکھ لیں تاکہ کسی بھی مشکل کا سامنا کرکسیں۔ ہوسکتا ہے کہ ہم تمام تیکنیکس یاد نہ رکھ سکیں مگر پھر بھی چند طریقے ہمارے ذہنوں میں محفوظ رہیں گے ، جنھیں ہم ضرورت پڑنے پر استعمال کرسکیں گے”۔
جے دیو شرما کراٹے انسٹرکٹر ہیں، وہ بتارہے ہیں کہ اس طرح کے کورسز سے لوگوں کا اعتماد بھی بڑھتا ہے۔ جے دیو”آغاز میں چند لڑکیوں اور خواتین کافی ہچکچا رہی تھیں، وہ کیمپ میں پوری طرح سرگرم نظر نہیں آتی تھیں،ہم چاہتے تھے کہ یہ خواتین اور لڑکیاں سمجھ سکیں کہ وہ سب کچھ کرسکتی ہیں۔ ایک یا دو ہفتے بعد ہم نے محسوس کیا کہ یہ خواتین زیادہ پراعتماد اور اپنی طاقت کے کے اظہار کیلئے تیار ہیں۔ یہ ذاتی دفاع کا کورس ہے، ہم یہاں ایسی تیکنیکس پر توجہ دے رہے ہیں جسے وہ کسی حملہ آور کیخلاف استعمال کرسکیں”۔
ہر عمر کی اور مختلف پس منظر رکھنے والی خواتین اس کیمپ میں شریک ہورہی ہیں، کچھ خواتین روایتی ساڑھیوں میں ملبوس نظر آتی ہیں، تیس سالہ پریتی پانڈے بھی ان میں سے ایک ہیں۔ تین بچوں کی ماں پریتی اس کورس میں شرکت کے بعد خود کو زیادہ پراعتماد محسوس کرنے لگی ہیں۔ پریتی” میرے خیال میں دہلی واقعے نے خواتین کو اپنے تحفظ کے بارے میں سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ ذاتی دفاع کی تیکنیکس سیکھنا اب ہماری ترجیح بن چکی ہے۔ میں اپنی بیٹیوں کو بھی مضبوط بنانا چاہتی ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ بھارتی لڑکیاں زیادہ محفوظ نہیں۔ دہلی اجتماعی زیادتی کے واقعے نے ثابت کردیا ہے کہ جب آپ مشکل میں ہو تو آپ کی مدد کیلئے کوئی آگے نہیں آتا۔ میں چاہتی ہوں کہ میری بیٹیاں اپنی لڑائی خود لڑنے کی اہل ہوں”۔