Nepalese Prison on the Verge of Collapseنیپالی جیلیں

نیپالی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدیوں کو رکھا گیا ہے، خاص طور پر سب سے قدیم جیل کی حالت انتہائی خراب ہے اور سماجی کارکن اس کے منہدم ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے رہتے ہیں، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

پالپا جیل نوے سال قبل تعمیر ہوئی تھی اور اب اس کی حالت انتہائی خراب ہے، سماجی کارکن مادیو باسیا ہرماہ اس جیل کا دورہ کرکے وہاں قیدیوں کی حالت و زار کا جائزہ لیتے ہیں۔

مادیو باسیا”جیل کی عمارت کی حالت بہت خراب ہے، یہاں کی دیواریں لکڑی کے ستوں سے تعمیر کی گئی تھی، اور یہ کبھی بھی گر کر قیدیوں کی جانوں کیلئے خطرہ بن سکتی ہیں، وہاں قید قیدی خود کو انتہائی غیرمحفوظ تصور کرتے ہیں”۔

مقامی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس حوالے سے فکرمند ہیں کیونکہ بارشوں کا سیزن شروع ہوچکا ہے۔ ناورال بارل، پالپاکے چیف ڈسٹرکٹ آفیسر ہیں۔

ناورال بارل”عمارت انتہائی مخدوش حالت میں ہے اور بارشوں کے دوران ہم نے پولیس اور فوج سے الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ برساتی پانی سے جیل کی دیواریں متاثر ہونیکا خدشہ ہے”۔
یہ جیل دو سو سے بھی کم قیدیوں کیلئے تعمیر کی گئی تھی مگر یہاں ابھی چار سو کے لگ بھگ قیدی موجود ہیں، یہاں چار سال قبل خواتین قیدیوں کیلئے نئی عمارت تعمیر کی گئی تھی، تاہم جیل کے گارڈ دریندرا راج پنٹاکا کہنا ہے کہ ابھی تک نئی عمارت کا افتتاح نہیں ہوسکا ہے۔

دریندرا راج پنٹا”چونکہ ضلعی سیکیورٹی کمیٹی کا کہنا ہے کہ نئی عمارت سیکیورٹی کے نکتہ نظر سے بھی بہتر نہیں، اس لئے وہاں ابھی کافی کام کیا جانا باقی ہے”۔

گنجائش سے زیادہ قیدیوں کا مسئلہ صرف پالپاکا نہیں بلکہ نیپال کی ہر جیل میں اس کی گنجائش سے قیدی موجود ہیں، ناورال بارل کا کہنا ہے کہ حکومت نظام میں تبدیلیاں لانا چاہتی ہے۔

ناورال بارل”جیلیں دوبارہ تعمیر کی جانی چاہئے، تاکہ وہاں اضافی جگہ اور جم، لائبریری اور دیگر سہولیات وغیرہ فراہم کی جاسکیں، یہ سب تبدیلیاں انسانی حقوق کے حوالے سے انتہائی اہم ہیں”۔