Malaysian Prices Rises after Government Cut Subsidiesملائیشیاءمیں شرح مہنگائی میں اضافہ

ملائیشین حکومت نے پٹرول اور چینی پر سبسڈی میں کمی کا اعلان کیا ہے، اس کا کہنا ہے کہ حکومتی اخراجات میں کمی کیلئے یہ اقدام ضروری تھا۔ تاہم اس پر شدید عوامی احتجاج سامنے آرہا ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

یہ ریلی حکومت کی جانب سے سبسڈی کے خاتمے کے اعلان کیخلاف نکالی جارہی ہے، جس میں کسی میلے کے ماحول کیساتھ ساتھ عوامی اشتعال بھی نظر آرہا ہے۔اذان سفر مہنگائی کیخلاف قائم ایک این جی او تورانکے چیئرمین ہیں۔

اذان سفر”حکومت نے ایندھن اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے، انھوں نے جائیدادوں کی قیمت بڑھا دی ہے، جس پر عوامی اشتعال بھی بڑھ گیا ہے”۔
حکومت کی جانب سے چینی اور پٹرول پر سبسڈی ختم کرنے کا نتیجہ مہنگائی میں اضافے کی صورت میں نکلا ہے، جبکہ رواں برس بجلی کی قیمتوں میں بھی پندرہ فیصد اضافے کا امکان ہے۔ ایک شہری یاگا باران شکایت کررہے ہیں۔

یاگا باران”یہ مجھ پر اور میرے خاندان پر بہت بڑا بوجھ ہے، مجھے یہ سب قبول نہیں، ماضی میں اس طرح قیمتوں کو نہیں بڑھایا جاتا تھا، مگر اب اشیائے خورونوش اور کپڑوں کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے، اور یہ سب ہم پر بوجھ بڑھا رہا ہے”۔

ملائیشین وزیراعظم کا کہنا ہے کہ توانائی اور فوڈ سبسڈیز کا بوجھ اب حکومت نہیں اٹھاسکتی، تاہم نچلے طبقے کیلئے حکومتی امداد کا سلسلہ جاری رہے گا۔ مگر اپوزیشن کے رہنماﺅں کا کہنا ہے کہ حکومت عوام پر بوجھ ڈال رہی ہے۔ رافضی راملی، اپوزیشن پارٹی کے پی آ رکے اسٹرٹیجک ڈائریکٹر ہیں۔

رافضی راملی”وزیراعظم نجیب رزاق ہمیشہ کہتے تھے کہ ہمارا ملک اقتصادی لحاظ سے آگے بڑھ رہا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ اقتصادی ترقی کے ثمرات عوام تک پہنچانے میں ناکام بھی نظر آتے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر ملائیشیاءواقعی ترقی کررہا ہے تو پھر چینی اور دیگر اشیاءپر سے سبسڈی ختم کرکے ہم سے اضافی رقم کیوں لی جارہی ہے”۔