جب کوئی پیار سے بلائے گا جیسے متعدد لازوال گیتوں کی موسیقی مرتب کرنے والے موسیقار ایم اشرف نے بطور میوزک ڈائریکٹر شباب کیرانوی کی فلم سپیرن سے اپنے کام کا آغاز کیا اور آنے والے چالیس برس تک بِلا تکان اردو اور پنجابی فلموں کے لیے ہر طرح کے گانوں کی موسیقی مرتب کرتے رہے۔ ان کا زیادہ تر کام شباب پروڈکشن کے لیے ہی تھا۔
ایم اشرف نے مجموعی طور پر چھ سو سے زیادہ فلموں کی موسیقی ترتیب دی۔فلم کی موسیقی آرٹ سے زیادہ ایک کرافٹ کا درجہ رکھتی ہے جس میں کہانی کی صورتِ حال اور گیت کے بولوں کو مدِ نظر رکھ کر دھن بنانی ہوتی ہے۔
ایم اشرف نے بلا شبہ اِن تمام تقاضوں کو پورا کیا اور دھنیں بھی ایسی تخلیق کیں جو فوراً عوام کو ذہن نشین ہوجائیں۔ ملکہ ترنم نورجہاں اور سر کے بادشاہ مہدی حسن سے لیکر طاہرہ سید، رجب علی، اخلاق احمد، نیرہ نور اور انور رفیع تک ہر گلوکار اور گلوکارہ نے ان کے مرتب کردہ گیت گائے۔
اِن کے ترتیب دیے ہوئے کچھ گیتوں کی موسیقی تو امر ہے جیسے ہمارے دِل سے مت کھیلو، جب کوئی پیار سے بلائے گا،تمہی ہو محبوب میرے، ’تو جہاں کہیں بھی جائے میرا پیار یاد رکھنا، میرا بابو چھیل چھبیلا میں تو ناچوں گی، دِل کو جلانا ہم نے چھوڑ دیا، چھوڑ دیا وغیرہ۔
اسی طرح لوک دھنوں پہ ترتیب دیے ہوئے ان کے پنجابی نغمے بھی فوراً ہی زبان زدِ خاص و عام ہو جاتے تھے مثلاً ’نمبواں دا جوڑا اسی باگے وچوں توڑیا، یا پھر مشہورِ عالم ’میرا لونگ گواچا‘۔
سنہ ساٹھ اور ستر کے عشروں میں مرحوم کو بہترین موسیقار کے طور پر ایک درجن سے زیادہ ایوارڈ ملے۔
ربع صدی پیشتر کی بنائی ہوئی ان کی دھنیں آجکل ری۔مکس کے نام سے مارکیٹ میں آ رہی ہیں۔وہ چار فروری 2007ءکو دل کا دورہ پڑنے کے باعث اس دنیا فانی سے کوچ کرگئے۔