نیپالی حکومت نے تیس سال سے کم عمر خواتین کو خلیجی ممالک جاکر ملازمتیں کرنے سے روک دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے خواتین کو عرب ممالک میں برے سلوک سے بچایا جاسکے گا
Kamala Chaudhari کویت میں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرنے کے لئے چند ماہ قبل گئی تھیں۔
کملا چوہدری(female) “مجھے اس روز میرے شوہر یاد آرہے تھے اور میری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ اگر میرے شوہر ٹھیک ہوتے تو مجھے اپنا ملک اور اپنے پانچ بچوں کو نہیں چھوڑنا پڑتا۔ میری زندگی میں کبھی خوشی کا گزر نہیں ہوا، میرے تمام بچے ائیرپورٹ کے باہر جبکہ میں اندر رو رہی تھی۔ میںپرواز کے دوران اپنے آنسوﺅں پر قابو نہیں پاسکی۔ میں نے یہ سب اپنے بچوں کو خوش رکھنے کیلئے کیا”۔
انہیں کویت میں کام کرنے سے قبل یہاں کی ثقافت یا زبان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔ کملا کے ایجنٹ نے وعدہ کیا تھا کہ اسے کویت میں ماہانہ دو سو ڈالر ملیں گے، مگر پیسوں کی جگہ اسے تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
کملا(female) “ایک صبح میں نے باورچی خانے کے باہر آواز سنی۔ میں باہر آئی تو میں نے چند مردوں کو کھڑے دیکھا۔ انھوں نے اچانک مجھ پر کوئی سیال چیز پھینک دی، جس کے بعد میری سانس رک گئی اور مجھے نہیں معلوم کہ اس کے بعد کیا ہوا، میری آنکھ دوبارہ ہسپتال میں کھلی، میرے جسم میں ہر جگہ خراشیں اور خون بہہ رہا تھا۔ ایک بہت بڑا زخم میری ران پر تھا، جبکہ پیٹ اور جسم کے دیگر حصے بھی بری طرح زخمی تھے”۔
کملا کویت میں صرف چار ماہ ہی رہ سکیں، انکا کہنا ہے کہ خواتین کو کبھی خلیجی ممالک میں ملازمت نہیں کرنی چاہئے۔ کملا اب تک ٹھیک طرح چلنے کے قابل نہیں ہوسکیں، جبکہ ان کے سر اور جسم میں ہر وقت درد رہتا ہے۔
وہ ایک این جی او Paurakhi کی مدد سے گھر واپس پہنچیں۔ اگنی رائے اس این جی او کی عہدیدار ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ کملا جیسی خواتین کے اکثر واقعات خلیجی ممالک میں سامنے آتے رہتے ہیں۔
اگنی(female) “ہمارے پاس پانچ سو زائد تارکین وطن خواتین ملازمین کی شکایات آئی ہیں، ان شکایات میں جنسی تشدد اور دیگر مظالم شامل ہیں۔ بیشتر خواتین کو گھروں میں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا، انہیں خوراک نہیں دی جاتی، اکثر کو تو کام کرنے کے باوجود تنخواہ نہیں ملتی۔ ایسے نوے فیصد کیسز میں یہ تارکین وطن ملازمین بغیر کسی دستاویزات کے بیرون ملک موجود ہوتے ہیں”۔
یہ پہلی بار نہیں کہ نیپال نے خواتین کو خلیجی ممالک جانے سے روکا ہو، اس سے قبل پہلی بار Kani Sherpa کے ساتھ کویت میں اجتماعی زیادتی اور ہلاکت کا واقعہ پیش آنے کے بعد 1998ءمیں اس طرح کی پابندی لگائی گئی تھی۔کویتی حکام نے اس ہلاکت کو خودکشی کا نتیجہ قرار دیدیا تھا۔اس پابندی کو دو سال قبل اٹھالیا گیا تھا، اور اس وقت روزانہ نیپال سے دو ہزار افراد ملازمت کی تلاش میں خلیجی ممالک جارہے ہیں، جن میں سے پندرہ فیصد یا تین سو خواتین ہوتی ہیں۔ Foreign Employment Department کے ڈائریکٹر Kashi Raj Dahal بتارہے ہیں کہ یہ پابندی دوبارہ کیوں لگائی گئی ہے۔
(male) Kashi Raj Dahal “اصل مسئلہ یہ ہے کہ لیبر قوانین کا اطلاق خلیجی ممالک میں کام کرنے والے افراد پر نہیں ہوتا۔ ہمارے سفارتخانے مسلسل جسمانی اور جنسی تشدد کے واقعات رپورٹ کررہے ہیں۔ ہماری خواتین کو انکی تنخواہیں ادا نہیں کی جاتیں، اس خطے میں روزانہ آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی کا اطلاق ان پر نہیں ہوتا۔ اپنی خواتین کا تحفظ ہمارا فرض ہے”۔
سوال”مگر آپ یہ کیوں سوچتے ہیں کہ تیس سال سے کم عمر خواتین پر پابندی سے یہ مسئلہ حل ہوجائے گا؟
(male) Kashi Raj Dahal “اس کی وجہ یہ ہے کہ خلیجی ممالک میں جانے والی خواتین کی اکثریت بیس سال سے بھی کم عمر ہیں۔ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ان خواتین کو یہ اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ کہاں جارہی ہیں، اور انہیں وہاں جاکر کیا کام کرنا ہوگا۔ہمارے پڑوسی ملک بھارت نے بھی تیس سال سے کم عمر خواتین پر خلیجی ممالک میں کام کرنے پر پابندی عائد کررکھی ہے”۔
یہ کھٹمنڈو کے نواح میں بیرون ملک کام کرنے کی خواہشمند خواتین کیلئے قائم تربیتی مرکز ہے۔یہاں بیرون ملک جانے والے افراد کیلئے ایک لازمی کورس کرایا جاتا ہے۔Shiva Chandra Mandal یہاں تربیت دیتے ہیں۔
(male) Shiva Chandra Madnal “ہم طالبعلموں کو مختلف زبانیں سیکھانے کے ساتھ ساتھ انہیں مختلف ممالک کے کھانے پکانے اور صفائی ستھرائی وغیرہ کا ماہر بناتے ہیں۔ ہم انہیں مختلف دفتری معلومات جیسے سفارتخانوں، وزارت محنت اور تارکین وطن ملازمین کے حقوق سے آگاہ کرتے ہیں۔ میں انہیں بتاتا ہوں کہ بیرون ملک اپنے مالکان کے مظالم سے بچنے کیلئے کیا حکمت عملی اختیار کی جانی چاہئے”۔
بائیس سالہ Sabina Bajgain کلاس پر بھرپور توجہ دے رہی ہے، وہ مغربی نیپال کے ایک چھوٹے سے گاﺅں سے آئی ہیں۔تشدد کے واقعات سامنے آنے کے باوجود وہ خلیجی ممالک میں جاکر کام کرنے کیلئے تیار ہیں۔
(female) Sabina Bajgain ” ہمارے لئے گھریلو ملازمہ کا کام آسان ہے، کیونکہ ہم یہاں بھی یہیں کام کررہی ہیں۔ مجھے اس بات پر یقین نہیں کہ عرب ممالک میں خواتین محفوظ نہیں۔ اگر ان ممالک میں ہم پر ظلم ہو تو وہاں اس حوالے سے قوانین موجود ہیں۔ہمیں بس متعلقہ اداروں سے تک اپنی شکایت ہی پہنچانی ہوگی۔ ہم وہاں ملازمت کیلئے جانا چاہتے ہیں، اگر میں پراعتماد ہوں تو کوئی مجھے میری مرضی کے خلاف کام کرنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔ متعدد خواتین وہاں کام کررہی ہیں اور ہراساں کئے جانے واقعات بہت کم ہیں۔ اگر مجھے پرکشش تنخواہ ملے گی تو مجھے عرب ممالک جانے پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا”۔
حکومت کے مطابق اس وقت چالیس ہزار نیپالی خواتین خلیجی ممالک میں کام کررہی ہیں، تاہم این جی اوز کا دعویٰ ہے کہ حقیقی تعداد اس سے زیادہ ہے۔عالمی ادارے ہیومین رائٹس واچ نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ پابندی کو ختم کرکے تارکین وطن افراد کی تربیت کو موثر، نگران ایجنسیوں کے کردار اور تارکین وطن ملازمین کی مدد کو ممکن بنائے۔ Saru Joshi Shrestha اقوام متحدہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ حکومت خواتین سمیت تمام تارکین وطن افراد کے تحفظ کیلئے مزید اقدامات کرنے چاہئے۔
(female) Saru Joshi Shrestha “حکومت کو مقامی سطح پر یعنی بلدیاتی سطح پر کمیٹیاں بنانی چاہئے۔ یہ کمیٹیاں باہر جانے کے خواہشمند افراد کو غیرملکی لیبر قوانین سے آگاہ کریں۔ نیپال کو گھریلو کاموں کو بھی لیبرقوانین کا حصہ بنانا چاہئے،اس کے علاوہ خلیجی ممالک بغیر دستاویزات کے جانے والے افراد کو دستاویزات فراہم کی جائیں۔ خلیجی ممالک میں سفارتخانوں کو مناسب اقتصادی اور دیگر وسائیل فراہم کئے جائیں، تاکہ وہ متاثرہ افراد کی مدد کرسکیں”۔
نیپالی حکومت کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک میں صورتحال تبدیل ہوئی تو پابندی پر نظرثانی ہوسکتی ہے، تاہم اس وقت باہر جانے والے خواتین کے تحفظ کیلئے کویت میں دو سال گزارنے والی Sobha Mogar چند نکات بتارہی ہیں۔
(female) Sobha Mogar “پہلے تو ہمیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ ہم کہاں کام کرنے جارہی ہیں، اگر ہمیں وہاں کی زبان آتی ہو تو اس سے بہت مدد ملتی ہے۔ آپ کو اپنے مالکان سے اچھے تعلقات بنانے ہوں گے، اپنے تمام مسائل سے انہیں آگاہ کریں، اس کے علاوہ کوشش کریں کہ آپ کو باہر بھجوانے والے اداروں کے ایجنٹ ہر ماہ آپ سے ملاقات کرے۔ اس سے مالکان پر دباﺅ بڑھتا ہے اور ان کا سلوک اچھا ہوجاتا ہے”۔