کمبوڈیا میں غریب خواتین اپنے خاندان کی ضروریات پوری کرنے کیلئے اپنے بال فروخت کرتی ہیں۔ کمبوڈیا کی پچیس فیصد خواتین کی روز کی آمدنی ایک ڈالر سے بھی کم ہے، یہ خواتین بالوں کو پیسے کمانے کا مختصر راستہ سمجھتی ہیں۔
اس وقت صبح کے نوبجے ہیں، اور بچے ضلع Phnom Bat کے بے دخلی کیمپ کے اندر کھیل رہے ہیں۔ یہاں موجود افراد کو رواں سال کے شروع میں دارالحکومت Phnom Penh میں ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا تھا۔
تیس سالہ Touch Kanha اپنے نئے بال دکھا رہی ہیں، ان کے بال مختصر ہیں اور وہ خود کو بوڑھی سمجھنے لگی ہیں۔
(female) Touch Kanha “میرے پاس بچوں کو کھلانے کیلئے خوراک نہیں، کئی بار میں اور میرے بچے بغیر کچھ کھائے سونے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ہم انتہائی مشکل زندگی گزار رہے ہیں، آپ کو معلوم ہی ہے کہ انسانی زندگی میں خوراک کو کتنی اہمیت حاصل ہے، یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے بال فروخت کردیئے”۔
رواں سال جنوری میں Touch Kanha نے اپنے بال کاٹ کر ایک بروکر کو بیس ڈالر میں فروخت کئے۔ اس کیمپ میں مقیم سو کے لگ بھگ خواتین اپنے بالوں کو فروخت کرچکی ہیں، بالوں کی قیمت ان کی لمبائی اور رنگ کے مطابق لگائی جاتی ہے۔ چار بچوں کی ماں 29 سالہ Ros Sokunthear نے اپنے بال چار ماہ قبل فروخت کئے تھے۔
(female) Ros Sokunthear “ہماری زندگی انتہائی مشکلات میں گزر رہی ہے، ہمارے بچے اسکول جانے سے محروم ہیں، میں اپنے بال چھوٹے نہیں کرانا چاہتی تھی مگر میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔ ہم اپنے بال پیسوں کے حصول کیلئے کٹواتے ہیں”۔
تاہم اسی کیمپ میں مقیم Khiv Lai اس خیال سے متفق نہیں۔
(female) Khiv Lai “یہ آپ کی زندگی کا انتخاب ہوتا ہے مگربال کٹوا کر یہ خواتین انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔بال چھوٹے کرانا Khmer روایات کے خلاف ہے، میرا ماننا ہے کہ بال کٹوانے والی خواتین اور ان کے بچوں کے ساتھ کچھ برا ہوسکتا ہے”۔
Khmir ثقافت میں لمبے بالوں کو خوبصورتی کی علامت سمجھا جاتا ہے، Keo Sreang، Touch Kanha کے شوہر ہیں۔ وہ اپنی بیوی کے بال کٹنے پر افسردہ ہیں۔
(male) Keo “یہ ہمارے گناہوں کا نتیجہ ہے کہ ہمارا خاندان مشکلات کا شکار ہے۔ ہمارے گھر میں حال ہی میں بچے کی پیدائش ہوئی ہے، یہی وجہ تھی میری بیوی نے اپنے بال فروخت کئے کیونکہ ہمیں ادویات اور دودھ کیلئے رقم کی ضرورت تھی۔ جبکہ اس سے ہم اپنے بچوں کیلئے چاول بھی خریدنے کے قابل ہوگئے”۔
Kem Lay سماجی تجزیہ کار ہیں۔
(male) Kem Lay “ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ رجحان بہت عجیب اور کم ہے، یعنی دیہی علاقوں کی غریب خواتین کی جانب سے پیسوں کے لئے اپنے بال فروخت کرنا، مگر اس کا مطلب ہے کہ ہمارے ملک میں غریب طبقے کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں”۔
کیمپ میں واپس چلتے ہیں، جہاں کمیونٹی چیف Chea Ny حکومت سے غریب خواتین کیلئے امداد کا مطالبہ کررہے ہیں۔
(male) Chea Ny “حکومت کو اس کیمپ میں مقیم افراد کے بارے میں سوچنا چاہئے، ہم یہاں کسی مناسب جگہ کے بغیر رہ رہے ہیں، ہم اس کیمپ میں نہیں رہنا چاہتے، کیونکہ اس سے لگتا ہے کہ جیسے ہمارے ملک میں ایمرجنسی نافذ ہے”۔
تاہم موجودہ حالات میں Ros Sokunthear ایک بار پھر بال فروخت کرنے کیلئے بھی تیار ہیں۔
(female) Ros Sokunthear “اگر مجھے کوئی ملازمت یا حکومت کی جانب سے امداد مل گئی تو میں اپنے بال آئندہ فروخت نہیں کروں گی، مگر حالات برقرار رہے تو میں اپنے بال ایک بار پھر بیچنے کیلئے تیار ہوں”۔