برمی صدر تھین سین نے میڈیا پر اظہار رائے کی آزادی میں ذمہ داری کے مظاہرے پر زور دیا ہے، تاکہ ملکی مسائل کے حل ڈھونڈیں جاسکیں، یہ ہدایت ٹائم میگزین پر حکومتی پابندی کے بعد سامنے آئی ہے، جس نے اپنے سرورق پر ایک انتہاپسند بدھ بھکشو کو بدھ دہشتگرد کے چہرے کا نام دیا تھا۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
سینکڑوں افراد ینگون کے ایک ہوٹل میں جمع ہوکر برما کو درپیش اہم مسئلے پر سوچ بچار کررہے ہیں، اور یہ مسئلہ ہے نفرت انگیز تقاریر۔ماضی میں فوجی حکومت کے سخت کنٹرول میں رہنے کے بعد اب میڈیا کو برما میں کافی آزادی مل چکی ہے، مگر موجودہ اصلاحات کا تاریک پہلو اس وقت سامنے آیا جب برمی مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کا سلسلہ بڑھنے لگا، ویب سائٹس اور فیس بک صفحات مسلم مخالف پیغامات سے بھرنے لگے، انتہاپسند بھکشو اس تحریک کی قیادت کررہے ہیں، یہ پورے ملک میں جاکر مسلمانوں کیخلاف تقاریر کرتے ہیں، اور ان کی یہ تقاریر ڈی وی ڈیز کی شکل میں گلی کوچوں میں فروخت کی جاتی ہیں۔ اس معاملے کے بعد اہم سوال سامنے آرہا ہے کہ حکومت کس طرح اظہار رائے کی آزادی اور نفرت انگیز تقاریر کے درمیان تفریق کرکے انہیں روک سکے گی۔
یی ہٹٹ، قواسی- سویلین حکومت کے ترجمان ہیں، انکا کہنا ہے کہ حکومت کو انٹرنیٹ پر بری زبان کے استعمال پر تشویش ہے اور ہم اسکی روک تھام کے پروگرام کی حمایت کرتے ہیں۔انکا کہنا ہے کہ حکومت کا پرانے زمانے کی سنسرشپ نافذ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، مگر درحقیقت حکومت نے حال ہی ایسا ہی کچھ کیا ہے۔حکومت نے ٹائم میگزین کے حالیہ جریدے پر پابندی لگائی ہے، جس میں ایک انتہاپسند بھکشو کو سرورق کا حصہ بناتے ہوئے اسے بدھسٹ دہشت کا چہرہ قرار دیا، اس جریدے کی اشاعت کے بعد برما میں شدید احتجاج سامنے آیا۔یی ةٹٹ کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس جریدے پر پابندی اس ڈر سے لگائی کہ اس سے تشدد پھیلے گا۔
یی ہٹٹ”ہم نے ٹائم میگزین کے رواں ماہ کے جریدے پر پابندی لگائی ہے، ٹائم میگزین برمی معاشرے میں تقسیم ڈالنے کا کام کررہا تھا، ہم نے اس پر پابندی لگاکر سب کو پیغام دیا ہے کہ حکومت اس تقسیم کو روکنے کیلئے ضروری اقدامات کررہی ہے۔اب اس کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا، ہمارے اقدامات کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ماضی جیسی سنسرشپ واپس لارہے ہیں”۔
برما میں گزشتہ برس بدھ افراد اور مسلمانوں کے درمیان جھڑپوں میں ڈھائی سو کے قریب افراد ہلاک اور ڈیڑھ لاکھ بے گھر ہوگئے، متاثرین میں اکثریت مسلمانوں کی تھی، مگر حکومت کی جانب سے ابھی تک انتہاپسند بھکشوﺅں کی سرگرمیوں کو روکنے کیلئے کچھ نہیں کیا گیا۔ ٹائم میگزین کے سرورق میں آنے والے بھکشوویرا تھو مسلمانوں کو انتہائی برے القاب سے پکار کر مساجد کو دشمنوں کا بیس کہتا ہے۔ایک سماجی کارکنسوئی مئے یا کا کہنا ہے کہ اس طرح کی تقاریر سے معاشرے میں تشدد بڑھ رہا ہے۔
سوئی مئے”مجھے یقین ہے کہ بھکشوﺅں اور موجودہ مسائل کے درمیان تعلق موجود ہے، میں حقیقی بھکشوﺅں پر الزام نہیں لگاتی، یہاں اچھے بھکشو بھی موجود ہیں، مگر چھ سو انہتر نامی گروپ کے بھکشو اورویراتھو موجودہ مسائل کی بڑا وجہ بن رہے ہیں”۔
ویراتھو اور دیگر انتہاپسند بھکشوﺅں کو روکنے کی بجائے حکومت نے حقائق سامنے لانے پر ٹائم میگزین کے خلاف مذمتی بیان جاری کردیا اورویراتھو کو بدھا کا بیٹا قرار دیا۔
میو لن اونگ ایک مسلمان ہیں اور وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ حکومت ان کی برادری کے تحفظ کیلئے کچھ نہیں کررہی۔
میو لن”میں حکومت سے درخواست کرتا ہوں جیسا اس نے ٹائم میگزین کے معاملے میں کیا، ایسا ہی وہ ان بھکشوﺅں کے خلاف بھی کرے جو ہماری برادری کے خلاف نفرت انگیز مہم چلارہے ہیں”۔
عالمی برادری نے برما میں نفرت انگیز تقاریر کے رجحان میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، اس سلسلے میں امریکی سفارتخانے نے ایک ورکشاپ کا انعقاد بھی کرایا، جس میں ان معاملات پر غور کیا جو جمہوریت کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں۔