بھارتی ریاستی مدھیہ پردیش میں ہزاروں افراد ایک ڈیم کی تعمیر کے باعث اپنے گھربار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں، اب یہ افراد مسلسل احتجاج کررہے ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
دریائے نرمدا کے کنارے پر مقیم ہزاروں خاندان ایک طویل جدوجہد میں مصروف ہیں، اور اس دریا پر ڈیم کی تعمیر کے باعث گھروں سے بے دخل ہونے والے افراد احتجاجی تحریک چلارہے ہیں۔
مظاہرین میں خواتین زیادہ تعداد میں موجود ہیں، ان میں سے ایک 58 سالہ سکو بائی بھی شامل ہیں۔
سکو”تعمیراتی سائٹ کی صورتحال بہت خراب ہے، ہمارے پاس علاج کیلئے ہسپتال نہیں، ہمارے بچے کیلئے یا دیگر سہولیات دستیاب نہیں۔ ہمارے گھر اور زمینیں دریا برد ہورہے ہیں، ہمیں متعدد مسائل کا سامنا ہے مگر کسی کو ہماری پروا ہی نہیں”۔
نرمدا بھارت کا پانچواں بڑا دریا ہے، اور اس خطے کی زراعت اور اقتصادی وسائل کیلئے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ حکومت نے اس دریا پر بجلی کے حصول کیلئے پانچ ڈیموں کی تعمیر شروع کی ہے، تاکہ پانچ لاکھ گھروں کو بجلی میسر آسکے، جبکہ زراعت اور پینے کیلئے پانی کا ذخیرہ کیا جاسکے۔مگر ان منصوبوں کے باعث ہزاروں افراد اپنے گھروں اور زمینوں سے محروم ہوگئے ہیں، اور دیگر افراد کی طرح سکو کو لگتا ہے کہ انہیں مناسب معاوضہ نہیں دیا گیا ہے۔
سکو”ہم حکومت سے اپنی زمین کے بدلے کم از کم پانچ ایکڑ زمین چاہتے ہیں، ورنہ ہم اپنی جگہ نہیں چھوڑیں گے اور اپنے گھر گرنے نہیں دیں گے۔ ہم خود کو پانی میں ڈبو دیں گے، ہم حکومت سے چاہتے ہیں کہ وہ ہمیں کم از کم دس ہزار ڈالر فی ایکڑ معاوضہ دے۔ اس کے بغیر ہم کیسے زندہ رہ سکیں گے”۔
گزشتہ برس کچھ دیہاتیوں نے دو ہفتے تک واٹر احتجاج کیا، یہ لوگ روزانہ بیس گھنٹے تک خود کو گلے تک پانی میں ڈبوئے رکھتے تھے۔سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اگر ڈیموں میں پانی کی سطح دو میٹر تک بلند ہوئی تو اس سے پچاس ہزار سے زائد افراد کے گھر اور زمینیں ڈوب جائیں گے۔ دو سال قبل سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش حکومت کو ڈیمز منصوبوں کے متاثرین کی بحالی نو کا حکم دیا تھا۔ الوک اگروال ایک مقامی این جی اونرمدا موومینٹ سے تعلق رکھتے ہیں، انکا کہنا ہے کہ وہ حکومت پر عدالتی احکامات پر عملدرآمد کیلئے دباﺅ ڈال رہے ہیں۔
الوک اگروال”بحالی نو کی پالیسی بالکل واضح ہے، بے دخل افراد کو زمین کے بدلے زمین دی جائے گی اور انہیں بحالی نو کیلئے دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ یہاں تک کہ سپریم کورٹ نے بھی 2011ءمیں تسلیم کیا تھا کہ بحالی نو کی پالیسی کے تحت اس علاقے کے نوے فیصد افراد کو مناسب معاوضہ نہیں دیا گیا اور انکی دوبارہ بحالی نو نہیں کی گئی”
عدالتی احکامات کے تحت ریاستی حکومت نے حال ہی میں ایک پیکج کا اعلان کیا، جس کے تحت جلد اپنے گھروں کو چھوڑ دینے والے افراد کو ساڑھے چار ہزار ڈالرز دیئے جائیں گے، جبکہ کاشتکاروں کو فی ایکڑ زمین کے عوض ساڑھے چار ہزار ایکڑ ملیں گے۔ کچھ دیہاتیوں کو تو یہ رقم ملی ہے مگر بیشتر کو یا تو بہت کم معاوضہ دیا گیا ہے یا بالکل ہی نہیں دیا گیا۔ گوگل کالابائی نامی گاﺅں سے تعلق رکھتی ہیں۔
کالابائی”حکومت ہمیں فی ایکڑ صرف 3600 ڈالرز دینا چاہتی ہے، جو کہ مارکیٹ ریٹ سے کم ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ حکومت ڈیم کا منصوبہ ترک کرکے ہماری زمینوں کو بحال کرے”۔
جگدیش سنگ نارنگ کا تعلق بھاورلے گاﺅں سے ہے، انکا کہنا ہے کہ انہیں زبردستی حکومت سے ڈیل کرنے پر مجبور کیا گیا۔
جگدیش سنگھ”مقامی انتطامیہ نے ہم سے فارم پر کرنے کا کہا، تاکہ ہم عدالت سے رجوع کرکے حکومت سے مزید زرتلافی حاصل نہ کرسکیں۔ یہ اس قسم کا خط تھا جس میں کہا گیا تھا کہ متاثرہ افراد معاوضے سے مطمئن ہیں، متعدد افراد نے انتظامیہ کے دباﺅ کے باعث اس پر دستخط کردیئے، تاہم کافی لوگوں کو کسی قسم کا معاوضہ نہیں ملا، حالانکہ ان کے گھر اور زمینیں غرق ہوگئیں، ہمیں متعدد مشکلات کا سامنا ہے”۔
بچے بھی اس صورتحال میں بہت زیادہ متاثر ہورہے ہیں،سبھاش پاٹیل ایک پنچائیت کے سابق سربراہ ہیں۔
سبھاش”ڈیموں کی تعمیر سے قبل ہمارے گاﺅں سے اسکول صرف تین کلومیٹر دور واقع تھا، مگر اب وہ بہت دور ہوگیا ہے، کم از کم چالیس کلومیٹر، ہم اپنے بچوں کو شہر نہیں بھیج سکتے، کیونکہ ہمارے پاس پیسے نہیں۔ حکومت نے ہمیں دھوکہ دیا اور ہمارے پاس کچھ بھی باقی نہیں بچا”۔
یہ احتجاج مدھیہ پردیش کے ریاستی انتخابات کے موقع پر ہورہا ہے اور مظاہرین کو توقع ہے کہ اس موقع پر وہ حکومت اپنے وعدے پورے کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔ الوک اگروال اس حوالے سے اظہار خیال کررہے ہیں۔
الوک”ہم یہ جنگ اختتام تک جاری رکھنے کیلئے تیار ہیں، حکومت کو ہمارے مطالبات ماننے ہوں گے یا انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا ہوگا۔ ہزاروں متاثرہ افراد ان انتخابات میں حکومت کے خلاف ووٹ ڈالیں گے”۔