Tobacco Companies to Sue Thai Government over Health Warnings – تھائی لینڈ تمباکو قوانین

تھائی لینڈ کی حکومت نے متعدد ملٹی نیشنل تمباکو کمپنیوں اور سینکڑوں خوردہ فروشوں پر ہرجانہ عائد کیا ہے، تھائی محکمہ صحت نے نئے قوانین کے تحت سیگریٹ کے ڈبوں پر صحت کی نئی بڑی وارننگ نہ لگانے پر یہ ہرجانے عائد کئے۔اسی بارے میں سنتے ہیںآج کی رپورٹ

تھائی لینڈ میں سیگریٹ کی ڈبیوں پر مختلف بیماریوں کی بڑی اور خوفناک تصاویر آویزاں کی جاچکی ہیں، جبکہ ہر ڈبی کی قیمت میں بھی 55 فیصد اضافہ کردیا گیا ہے۔ نئے قوانین کے تحت قیمت کو 85 فیصد تک بڑھایا جائے گا جبکہ دنیا کی سب سے بڑی گرافک وارننگ سیگریٹ کی ڈبیوں پر لگائی جائے گی۔ بنگون رتھیپھاکڈے، ساوتھ ایسٹ ایشیا ءٹوبیکو کنٹرول کی ڈائریکٹر ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ تھائی لینڈ نے تمباکو کے کنٹرول کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت کے کنونشن پر دستخط کئے ہیں، جس میں اس طرح کے اقدامات کا کہا گیا ہے۔

بنگون”ہمارا ماننا ہے کہ سائز اہمیت رکھتا ہے، میرا مطلب ہے کہ بڑا سائز زیادہ بہتر ہے، کیونکہ اکثرتھائی تمباکو نوش کم تعلیم یافتہ ہیں، دیہی علاقوں کے بیشتر سیگریٹ پینے والے بہت کم پڑھے ہوئے ہوتے ہیں”۔

تھائی لینڈ نے 2005ءمیں سیگریٹ کی ڈبیوں پر گرافک وارننگ لگانا شروع کی تھی، تاہم اس بار تمباکو کمپنیوں کی جانب سے تصویر کے سائز میں اضافے کیخلاف مزاحمت کی جارہی ہے۔ فلپ مورس دنیا کے سب سے بڑے برانڈ مارلبورو سگریٹ برانڈبناتے ہیں، اس کے علاوہ وہ انڈونیشیاءاور فلپائن میں مقبول کئی مقامی برانڈز بھی فروخت کرتے ہیں۔ انھوں نے نئے قوانین کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے تھائی محکمہ صحت پر الزام عائد کیا کہ وہ قانون کی حکمرانی کا احترام نہیں کررہا۔اپنی ایک پریس ریلیز میں انکا کہنا تھا۔

فلپ مورس”درحقیقت اس مہم کے ذریعے تمباکو نوشی کے بارے میں عوامی شعور اجاگر کرنا نہیں، کیونکہ محکمہ صحت نے نصف تمباکو مصنوعات کو نئی وارننگ سے استثنیٰ دیدیا ہے۔ اس بات کی کیا تک ہے؟ ہمارے خیال میں یہ جانبدارانہ اقدامات ہیں”۔

جابان ٹوبیکو نے بھی مقدمہ دائر کیا ہے، فلپ مورس کو اس سے قبل آسٹریلیا میں مقدمے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، بنگون کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا میں انسداد تمباکو نوشی کیلئے طے کردہ معیار ہی تھائی لینڈ کا اصل مقصد ہونا چاہئے۔

بنگون”اصولی طور پر وارننگ کے معاملے میں آسٹریلیا کو فاتح قرار دیا جاسکت اہے، کیونکہ وہ سیگریٹ کی ڈبی بالکل سادہ ہوتی ہے اور تمباکو کمپنیوں کو اس پر اپنا ٹریڈ مارک لگانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ جہاں تک ہماری بات ہے تو توقع ہے کہ مستقبل میں ہم بھی آسٹریلیا کے نقش قدم پر چلیں گے، تو ہمیں توقع ہے کہ حکومت کا موجودہ انسداد تمباکونوشی پروگرام مزید آگے بڑھے گا، یعنی سیگریٹ کو مہنگا کیا جائے گا اور اس کے اشتہارات پر مکمل پابندی لگادی جائے گی، اسی طرح تھائی لینڈ میں سیگریٹ نوشوں کی تعداد میں کمی آئے گی”۔

اس وقت تھائی لینڈ کے 42 فیصد افراد تمباکونوشی کرتے ہیں اور اس تعداد میں کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آرہی۔