ایک نئی امریکی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ انسداد ملیریا کی جعلی ادویات کے باعث اس جان لیوا مرض پر قابو پانے کی جدوجہد کو ناکامی کے خطرے کا سامنا ہے۔یوایس نیشنل انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ کے ماہرین کے مطابق اس وقت جنوب مشرقی ایشیاءمیں ملیریا پر قابو پانے کی ایک تہائی ادویات جعلی ہیں، جبکہ افریقہ میں بھی یہ مسئلہ سر اٹھا رہا ہے۔
ملیریا پر قابو پانے کی ادویات اس جان لیوا مرض کے خلاف انتہائی موثر سمجھی جاتی ہیں، تاہم ایک حالیہ تحقیق نے ان ادویات کے حوالے سے سنگین سوالات کو اٹھایا ہے۔ امریکہ کے یوایس انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ کے طبی ماہرین کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایشیا اور افریقہ کی مارکیٹوں میں انسداد ملیریا کی جعلی ادویات عام ہیں، یہ وہ خطے ہیں جہاں سالانہ لاکھوں افراد ملیریا کے باعث ہلاک ہوجاتے ہیں۔پروفیسر James Beeson، میلبورن کے Burnet Institute’s Centre for Immunology سے تعلق رکھتے ہیں۔
جیمز(male) “یہ انتہائی تشویشناک امر ہے اور یہ مسئلہ آج کا نہیں بلکہ بہت پرانا ہے، تاہم دنیا کے سامنے یہ سچ اب آیا ہے”۔
پروفیسر جیمز کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ دن بدن بڑھتا جارہا ہے جو انتہائی تشویشناک امر ہے۔
جیمز(male) “چند طبی تحقیقاتی رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ ملیریا کے خلاف دستیاب اکثر ادویات میں ایسے اجزاءشامل نہیں جو ملیریا کے خلاف زیادہ موثر کردار ادا کرتے ہیں۔موجودہ تحقیق میں سامنے آنے والا سچ بدقسمتی سے ہمارے لئے زیادہ حیرت انگیز امر تو نہیں مگر یہ حقیقت کہ ایک تہائی ادویات جعلی ہیں، درحقیقت بہت بہت زیادہ تشویشناک بات ہے”۔
ملیریا سے سالانہ دنیا بھر میں بیس کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوتے ہیں، جن میں سے ساڑھے چھ لاکھ سے زائد ہلاک ہوجاتے ہیں۔ماہرین کو تشویش ہے کہ جعلی اور غیرموثر ادویات سے ان ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔پروفیسر جیمز اس حوالے سے بات کررہے ہیں۔
جیمز(male)“طویل عرصے سے ان ادویات کا استعمال ہورہا ہے، اور ان کی وجہ سے ملیریا پھیلانے والے جراثیم کی قوت مدافعت بڑھ رہی ہے، اور یہ اصل ادویات کے خلاف زیادہ مدافعت دکھا رہا ہے، جس سے اصل ادویات بھی غیرموثر ثابت ہونے لگی ہیں۔ ان جعلی ادویات کے باعث ملیریا کا جراثیم طاقت ور ہورہا ہے اور اب اس پر قابو پانے کیلئے زیادہ موثر ادویات دستیاب نہیں۔مختصر الفاظ میں کہا جائے تو درحقیقت مارکیٹوں میں دستیاب جعلی ادویات اس عالمگیر مسئلے کو بڑھا رہی ہیں، یہ ہمارے لئے بہت بڑا چیلنج ہے کہ دنیا بھر میں ملیریا پر کس طرح قابو پایا جائے”۔
اسی طرح کے خیالات کا اظہار ڈاکٹر Deb Mills نے بھی کیا جو گزشتہ دودہائیوں سے ایک طبی ورکر کی حیثیت سے کام کرہی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ سب سے تشویشناک امر یہ ہے کہ ان جعلی ادویات کے باعث ملیریا کے خلاف سب سے موثر طریقہ علاج artemisinin کے خلاف جراثیم کی مدافعت بڑھ رہی ہے۔
(female) Deb “ایک ایسی دوا دستیاب ہے جسے چینی عوام نے ching-hao-su کا نام دیا ہے، اسے ایک دوا artemisinin کے ساتھ ملاکر تیار کیا گیا ہے۔ یہ واحد گولی ہے جو چند مقامات پر موثر ہے، مگر اب ملیریا پھیلانے والے جراثیم اس دوا کے خلاف بھی مزاحمت کررہے ہیں جو کہ انتہائی تشویشناک امر ہے”۔
پروفیسر جیمز کا کہنا ہے کہ اس مسئلے پر قابو پانے کیلئے متعدد اقدامات کئے جانے کی ضرورت ہے۔
جیمز(male) “دنیا بھر میں متعدد اقدامات کئے جانے کی ضرورت ہے، جبکہ قوانین کا اطلاق بھی کیا جانا چاہئے، مثلاً جعلی ادویات کو روکنے کیلئے پولیس کو سرگرم کیا جائے، تفتیش کرائی جائے اور ان ادویات کو تیار کرنے والے افراد کو پکڑ کر مناسب سزائیں دی جائیں۔ یہ انتہائی سنگین مسئلہ ہے اور میرے خیال میں اس پر قابو پانے کیلئے عالمگیر کوششیں ہونی چاہئے۔مختلف ممالک میں مقامی سطح پر اچھے اقدامات ہورہے ہیں، جن پر عالمی سطح پر عمل ہونا چاہئے۔ مثال کے طور پر ایک جگہ انسداد ملیریا ادویات مخصوص کوڈ کے ساتھ دستیاب ہیں، وہاں جو شخص بھی ان ادویات کو خریدتا ہے وہ اصل یا نقل ادویات کی شناخت موبائل فون پر ایک ایس ایم ایس کے ذریعے کرسکتا ہے”۔