Women in Tharparker تھری خواتین

بازﺅںمیں سفید روایتی چوڑیاں پہنے شوخ رنگو ں سے مزین لباس میں ملبوس تھر پارکر کی خواتین کی زندگی محنت ،مشقت ، صبر اور برداشت سے عبارت ہے۔نیچی چھتوں اور تنگ دروازوںوالے گھروں میں رہنے والی ان خواتین کی زندگی شہری خواتین سے یکسر مختلف ہے۔52فیصد خواتین پر مشتمل تھرپارکر کا علاقہ حکومت کی عدم توجہی کا شکار ہے۔ذرائع آمدورفت سے لے کر جدید ٹیکنالوجی یہاں تک کہ گیس ، پانی اور بجلی تک کی سہولیات ناکافی ہیں۔سب سے زیادہ قابل رحم صورتحال صحت کے شعبے میں دکھائی دیتی ہے، سخت ماحول میں رہنے والی غذائی کمی کا شکار تھری خواتین کوبیماری یا زچگی کی صورت میں قریبی شہر تک لے جایا جاتا ہے جبکہ شدید بیماری یا پیچیدگی کی صورت میں بیشتر خواتین راستے میں ہی دم توڑ دیتی ہیں،میٹرنٹی ہومز اوراسپتالوں کی سہولیات اگر کچھ علاقوں میں موجود بھی ہیں تو وہ آبادی کے لحاظ سے ناکافی ہیں یا اُن میںاسٹاف اور طبی سہولیات موجود نہیں ہیں۔کرشن شرما تھرپارکر میں بطور صحافی اور سوشل ورکر کام کرتے رہے ہیں،وہ تھرپارکر میں خواتین کو درپیش مسائل بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
صحت ہی نہیں بلکہ تعلیم کی صورتحال بھی ابتر ہے یہاں شرح خواندگی2 فیصد سے زیادہ نہیں ہے جبکہ لڑکیوں کو تعلیم دلوانے کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے۔صحت کے مسائل ، تنگ دستی ، غربت ، بھوک اور افلاس نے یہاں رہنے والوں سے زندگی کی تمام تر دلکشی چھین لی ہے۔ٹی بی،انیمیا اور خوراک کی کمی کے باعث صحت کے مسائل تھر کی خواتین میں عام ہیں۔پورے کنبے کیلئے کھانا بنانے سے لے کر ،میلوں دور موجودکنویں سے پانی بھرنے اور مویشیوں کا چارہ کاٹنے تک تھری عورت کی زندگی میںکیف اور مسرت کے رنگ خاصے مدھم ہیں،شاید یہی وجہ ہے کہ ان خواتین کے پہناﺅں میں قدرے شوخ رنگ دکھائی دیتے ہیں،کرشن شرما کا کہنا ہے کہ تھری عورت بے حد سخت جان ہے:
صحرائے تھر میںفصل صرف بارشوں میں ہوتی ہے ایسے میں تازہ سبزی کا ملنا اس علاقے میں کسی معجزے سے کم نہیں تھری خواتین کا روزکا کھانا عموماً روٹی کے ساتھ سرخ مرچ کی بنی لئی پر مشتمل ہوتا ہے۔پورے کنبے کو کھلانے کے بعد خود کھانے والی تھری عورت کی زندگی اُسکے خاندان کے گرد گھومتی ہے اِس علاقے میں جہاں غربت اور افلاس نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں یہاں کی عورتین رلی بناکراورروایتی کڑھائی سے مزین لبا س سی کر قریبی دیہاتوں اور شہروں میںفروخت کرتی ہیں لیکن تعلیم کی کمی، سہولیات کی عدم دستیابی اور کاروباری رموزسے واقفیت نہ ہونے کے باعث یہ اپنی محنت کا درست معاوضہ حاصل نہیں کر پاتی ہیں:
روایت اور ثقافت یہاں کی فضاﺅں میں رچی بسی ہے ،گھاگرا چولی اور ہاتھوں میں روایتی چوڑیاں پہنے یہاں کی عورت ثقافت کا نمونہ ہے۔کہنیوں تک چوڑیاں زیادہ تر غیر شادی شدہ جبکہ پورے بازوﺅں میں عموماً شادی شدہ خواتین چوڑیاںپہنتی ہیں یہ اِنکے علاقائی رسم و رواج کا حصہ ہے۔پانی ، بجلی اور دیگر ٹیکنالوجی کے مسائل ان علاقوں میں دیکھنے میں آتے ہیں لیکن فطرت سے قریب تر زندگی گزارنے والوں کیلئے شاید یہ مسائل ہیں ہی نہیں۔۔۔تھری عورت اور تھر کا پس منظرہمیشہ سے داستانوں اورلوک گیتوں کا موضوع رہا ہے ۔عمر ماروی کی داستان اِسی بے کیف لیکن پر کشش صحرا سے منسوب ہے:
صحرائے تھر میں انسانی حقوق کے حوالے سے اقدامات کی شدید کمی ہے۔ننگر پارکر اور مٹھی سمیت تھر پارکر کے دیہاتوں میں قحط ، خشک سالی ، غذائی کمی اور صحت کے حوالے سے دیگر مسائل عام ہیں۔یہاں رہنے والی خواتین زیب تن کرنے کیلئے جس قدر شوخ رنگوں کا انتخاب کرتی ہیں اُنکی زندگیاں اُسی قدر مشکلات سے بھرپوربے رنگ اور بے کیف ہیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *