More Research and Development Needed to Feed the World-خوراک کے شعبے میں مزید فنڈز مختص کئے جانے کی ضرورت

ایشیاءمیں زرعی تحقیق کیلئے کم فنڈز خرچ کئے جانے کے باعث بہت سے ممالک میں خوراک کی قیمتیں اور غربت کی شرح بڑھ رہی ہے۔ عالمی بینک کے مطابق 2008ءسے اب تک دس کروڑ افراد غربت کی نچلی لکیر میں داخل ہوچکے ہیں۔

دو ہزار پانچ سے دنیا بھر میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کا مسئلہ مسلسل سنگین ہوتا جارہا ہے، اس کی وجہ اہم زرعی اجناس کی پیداوار میں کمی، طلب میں اضافہ اور بائیوفیول کی تیاری ہے۔ تاہہم عالمی بینک کے ریسرچ منیجر Will Martin کے خیال میں اس مسئلے کا حل موجود ہے۔

ول مارٹن” اس مسئلے کا ایک بنیادی حل یہ ہے کہ ہم زرعی ترقی اور تحقیق کیلئے سرمایہ کاری کو بڑھائے، ہم نے ایسا 1970ءمیں بھی خوراک کی قیمتوں میں اضافے پر کیا تھا، جس سے قیمتیں نیچے آگئی تھیں۔ مگر وقت کے ساتھ ہم نے سوچا کہ اب یہ مسئلہ حل ہوچکا ہے، جس کے بعد ہم نے اپنی سرمایہ کاری کم کردی، جس کا نتیجہ حالیہ برسوں میں قیمتوں میں اضافے کی شکل میں سامنے آیا ہے”۔

ترقی پذیر ممالک میں زراعت کی ترقی اور تحقیق کے عمل کو تیز کرنا بہت اہم ہے، اس وقت غریب افراد اپنی آمدنی کا ستر سے اسی فیصد حصہ خوراک پر خرچ کررہے ہیں، اور وہ ہی قیمتوں کی بلند شرح سے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔ ول مارٹن کا کہنا ہے کہ موجودہ قیمتوں نے تحقیقی مقاصد کیلئے فنڈز میں اضافے کے حوالے سے حکومت اور نجی اداروں کو دھچکہ پہنچایا ہے، تاہم انکا مزید کہنا ہے کہ دنیا اس چیز کو آگے بڑھنے کا موقع دینے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔

مارٹن” اس وقت سب سے اہم چیز یہ ہے کہ معاونت کے عمل آگے بڑھایا جائے اور ممالک کو تحقیق اور ترقیاتی نظام کو اپنانے کیلئے مدد فراہم کی جائے”۔
Phil Pardy، University of Minnesota کے پروفیسر ہیں، ان کے خیال میں گزشتہ پچاس برس کے دوران اس شعبے میں سرمایہ کاری کا رجحان بدلا ہے۔

پیرڈی” اگر آپ بڑے منظرنامے کو دیکھے تو یہ حوصلہ بخش نظر آئے گا، اگر آپ افراط زر کے خلاف کوششوں کا جائزہ لیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس شعبے میں عالمی سطح پر سرمایہ کاری چھ گنا اضافے سے پانچ ارب سے 34 ڈالرزتک پہنچ چکی ہے۔ مگر اصل فرق اخراجات میںاضافے اور اس سے حاصل ہونیوالے فوائد کا ہے”۔
امریکہ اور یورپ نے تحقیقی سرمایہ کاری کم کردی ہے، جبکہ چین نے گزشتہ دہائی کے دوران زراعت کیلئے اپنے فنڈز میں دوگنا
اضافہ کیا ہے، جبکہ بھارت نے بھی اپنا حصہ بڑھایا ہے۔ Phil Pardy مزید اظہار خیال کررہے ہیں۔

پیر ڈی “ میرے خیال میں پالیسی میں کافی تبدیلیاں آئی ہیں، آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ افریقہ میں اس حوالے سے کافی کام ہوا ہے، جبکہ چین نے بھی افریقہ میں سرمایہ کاری بڑھائی ہے، اس چیز نے افریقی معیشت کو تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔مگر میرے خیال میں اس حوالے سے کافی کچھ مزید کئے جانے کی بھی ضرورت ہے، ایک چیز جس پر توجہ دی جانی چاہئے وہ سرمایہ کاری اس نکتہ نظر کے ساتھ کی جائے کہ وہ آئندہ بیس یا تیس برس بعد دنیا کیلئے بے کار نہ ہو”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *