Indonesia Falling Behind on Preserving History-انڈونیشین ثقافتی مقامات

سنگاپور اور ملائیشیاءمیں دہائیوں سے ثقافتی علاقے سیاحت کی صنعت کو فروغ دے رہے ہیں، تاہم انڈونیشیاءکے دارالحکومت میں واقع اولڈ ڈچ ایریاز کو دیکھنے کیلئے آنے والے غیرملکی سیاحوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔

Flora اور Jan Haijkens کا تعلق ہالینڈ سے ہے۔
فلورا”  ہمیں اس جگہ جیسے پرانے مقامات سے بہت دلچسپی ہے، کئی مقامات بہت خوبصورت ہوتے ہیں تاہم جیسے جیسے مقامات پرانے ہوتے جاتے ہیں ان کی دیکھ بھال کی ضرورت بھی بڑھ جاتی ہے”۔

جان ہیجکینس”  ایسی متعدد پرانی عمارات بہت خراب حالت میں ہے، یہ بہت افسوسناک ہے”۔

فلورا اور Jan بیس سال قبل انڈونیشیاءچھوڑ کر ہالینڈ واپس چلے گئے تھے اور اب وہ دوبارہ واپس آنا چاہتے ہیں۔ جکارتہ کے پرانے شہر Kota Tua میں گھومتے ہوئے انہیں بہت سی چیزیں غائب نظرآئیں۔

جان”  نہ صرف عمارات بلکہ ماحول بھی بہت خراب ہے۔اگر آپ نہروں کو دیکھیں تو ان کی صورتحال بہت خراب ہے، میرے خیال میں اگر نہروں کی صفائی کردی جائے تو صورتحال کافی بہتر ہوجائے گی، اگر کام کیا جائے تو یہاں کا ماحول بھی اچھا ہو اور لوگ بھی اچھے لگیں۔ اسے اب کے مقابلے میں کافی اچھی جگہ بنایا جاسکتا ہے”۔

ایک سیاح اس بارے میں بات کررہے ہیں۔

سٹیند اَپ “ آج یہاں سیاحوں کے مقابلے میں بلیاں زیادہ آتی ہیں۔ یہاں پھرتے ہوئے آپ جو جس پہلے دیکھتے ہیں وہ جلی ہوئیں عمارات، گری ہوئیں چھتیں اور قدامت کا احساس ہے”۔
جنوب مشرقی ایشیاءکے دیگر ممالک میں سامراجی دور کے آثار کو سیاحت کے فروغ کیلئے استعمال کیا جارہا ہے، سنگاپور میں ہی پرانے برطانوی و چینی ادوار کے آثار کو دیکھنے کیلئے آنے والے افراد کی تعداد میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ 2011ءمیں ایک کروڑ تیس لاکھ افراد نے سنگاپور کا دورہ کیا، جبکہ اس کے مقابلے میں انڈونیشیاءآنے والوں کی تعداد نصف بھی نہیں تھی، جن میں سے بھی بیشتر افراد جزیرہ Bali دیکھنے کیلئے آئے۔Subrianto گزشتہ 5 برس سے اولڈ جکارتہ میں سائیکلیں کرائے پر دینے کا کام کررہے ہیں۔

سبریاینٹو”   یہ پرانا شہر آثار قدیمہ سے مالامال ہے، اگر حکومت تاریخ کو سراہے تو اس مقام کی دوبارہ تعمیر نو ہوسکتی ہے۔ یہ ہمارے ملک کیلئے آمدنی کا بہت بڑا ذریعہ بن سکتی ہے، اگر یہ عمارات یہاں نہ رہیں تو سیاح بھی یہاں آنا چھوڑ دیں گے۔ حکومت کو اس جگہ پر زیادہ توجہ دیتے ہوئے ثقافتی مقامات کی بحالی نو کرنی چاہئے”۔

ایک طالبہ Sari یہاں تفریح کیلئے آئی ہوئی ہے، اس کی خواہش ہے کہ زیادہ سے زیادہ انڈونیشین اس مقام کو دیکھے۔

ساری “   ہمیں اپنی ثقافت کو بچانا چاہئے کیونکہ غیرملکی ثقافت عالمی سطح پر چھارہی ہے، جس کی مثال ڈانس وغیرہ ہے۔ اب نوجوان مغربی رقص کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں، انڈونیشین رقص ماضی کا قصہ بنتے جارہے ہیں، میں اپنی ثقافت کا تحفظ چاہتی ہوں، میں ایک ادارے میں اس مقصد کیلئے کام کرتی ہوں، ہم انڈونیشیاءسے محبت کرتے ہیں”۔

جکارتہ کے نئے گورنر کا کہنا ہے کہ وہ اس علاقے کی تعمیر نو کی منصوبہ بندی کررہے ہیں تاکہ سیاحت کو فروغ دیا جاسکے۔ اس طرح کے وعدے ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں، تاہم ان پر عمل نہیں ہوسکا۔

Indonesian Heritage Society جسے آئی ایچ ایس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، پرانے شہر کی طرح دیگر ثقافتی خزانوں کے تحفظ کیلئے کام کررہی ہے، وہ نہ صرف پرانی عمارات کو بچانا چاہتی ہے بلکہ انڈونیشین عوام کو بھی تاریخ کے بارے میں تعلیم دینے کی کوشش کررہی ہے۔Korinnick Lemarie اس تنظیم کی چیئرپرسن ہیں۔

کورینک لیمیری”  میں انڈونیشیاءکا دفاع کرکے بہت خوش اور فخر محسوس کرتی ہوں، ہر ابھرتے ہوئے ملک میں وقت کے ساتھ ساتھ جدید ہوتا چلا جاتا ہے، اس طرح پیدا ہونے والے خلاءمیں پرانی ثقافت کو برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے، چونکہ ہر شخص دولت اور آگے بڑھنے کی جدوجہد میں مصروف ہوتا ہے، اس لئے ثقافت ان کی نظر میں عیاشی بن جاتی ہے”۔

Valerie Pivon آئی ایچ ایس کی ایک رضاکار ہیں۔

ویلیری پیون” آئی ایچ ایس انڈونیشین ثقافت کو اجاگر کرنے کیلئے متعدد مواقعے فراہم کررہی ہے، میں اس کی سب سے پہلی رضاکار ہوں اور میں آئی ایچ ایس کے تحت ہونیوالے دوروں کا حصہ بنتی رہتی ہوں۔ مجھے جتنی معلومات حاصل ہوتی جارہی ہے اتنی ہی میرے اندر جاننے کی جستجو بھی بڑھتی جاری ہے۔ یہ انڈونیشین ثقافت کے بارے میں جاننے کا بہت خوبصورت ذریعہ ہے اور یقین کریں جب آپ اس کام کو شروع کریں گے تو خود کو روک نہیں پائیں گے”۔

ہم نے Valerie Pivon کے ہمراہ میوزیم کا دورہ کیا، اس دوران وہ ہمیں اس تنظیم سے حاصل ہونیوالے مواقعوں کے بارے میں بتاتی رہیں۔

ویلیری پیون”   آپ اس تنظیم کیلئے تحقیق کریں، آپ کو خصوصی تھیمز کے تحت سفر کا موقع ملتا ہے، اسی طرح کچھ لوگ تحقیق کیلئے مشرقی انڈونیشیاءبھی گئے، تاکہ وہاں موجود مندروں کے بارے میں جان سکیں۔ ہم نے مختلف نسلی گروپس جیسے Batik، Ceramic وغیرہ کے بارے میں تحقیق کی، جبکہ آپ اپنی پسند کے علاقوں کو بھی تحقیق کیلئے چن سکتے ہیں”۔
Merry Melawati-Kho نامی انڈونیشین خاتون کا کہنا ہے کہ انکے کام کا مقصد سیاحت کو فروغ دینے سے بڑھکر ہے۔

میری میلاواتی”  ان مقامات کے تحفظ کے بغیر آپ اپنی تاریخ کو سمجھ نہیں سکیں گے۔ تاریخ کو سمجھے بغیر آپ کو کسی مسئلے کا سامنا ہوا تو آپ اسے حل نہیں کرسکیں گے”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *