برما نے گزشتہ سال اپنے قومی بجٹ کا پانچ فیصد حصہ تعلیم پر خرچ کیا، جوکہ دفاعی بجٹ سے تین گنا کم ہے۔ برمی والدین کو اسکولوں میں اساتذہ پر تحفظات ہیں اور ان کے خیال میں بچے مشکلات کا شکار ہیں۔اسی وجہ سے بچوں کو اسکولوں کے بعد اضافی ٹیوشن پڑھنا پڑھتی ہے۔
بارہ سالہ Aung Moe Tha اسکول جانے سے پہلے اپنا بیگ پیک کررہا ہے اور ناشتہ کررہا ہے۔ اسکی ماں نے الوداع کہتے ہوئے اسے لنچ باکس دیا۔
اسکول میں پورا دن گزارنے کے بعد Aung Moe Tha دیگر بہت سے بچوں کی طرح ٹیوشن سینٹر کا رخ کررہا ہے۔
سوال”ٹیوشن پڑھانے والے استاد کیا آپ کو اسکول میں بھی پڑھاتے ہیں؟ اونگ موئی تھا “ نہیں، وہ دوسرے استاد ہیں”۔
سوال”آپ اپنے اسکول کے استاد کے پاس کیوں نہیں؟ اونگ موئی تھا “ وہ بہت دور رہتے ہیں، اگر وہ قریب آجائیں تو میں ضرور ان کے پاس جاﺅں گا”۔
اونگ موئی تھا کے خاندان نے حال ہی میں گھر تبدیل کیا ہے، جس کے بعد اس کی ماں Mon Mon Myat کا کہنا ہے کہ اسکے بیٹے کی تعلیمی کارکردگی زوال کا شکار ہوئی ہے۔
مون مون میت” ماہانہ امتحانات میں وہ ہمیشہ ریاضی میں سو نمبر لیتا تھا، مگر جب سے ہم یہاں آئے ہیں اور اس نے دوسری ٹیوشن کلاس میں جانا شروع کیا ہے، اس کی کارکردگی ماضی کے مقابلے میں خراب ہوگئی ہے۔ میں نے اس سے پوچھا بھی کہ آخر ہوا کیا ہے، تو اسکا کہنا تھا کہ وہ امتحانات میں سو نمبر اس وقت سے حاصل کرتا تھا کہ اس کے پرانے استاد اسے امتحانات سے پہلے ہی سوالات کے بارے میں بتادیتے تھے”۔
مجھے اسکول کے بعد ٹیوشن جانے سے پہلے Aung Moe Tha پیانو بجا رہا ہے۔
اونگ موئی تھا “ میں زیادہ سمجھ نہیں آتا مگر ٹیوشن کے اندر میں نصاب کو اچھی طرح سمجھ لیتا ہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹیوشن میں مجھے کافی وقت ملتا ہے، جبکہ وہاں میرے بہت ساتھی اسکول میں بھی میرے ساتھ پڑھتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ میں ٹیوشن پڑھتا ہوں تاکہ اپنا سبق صحیح طرح سمجھ سکوں”۔
حالیہ اصلاحات کے باوجود برمی تعلیمی نظام کی کارکردگی زوال پذیر ہے، ایک کروڑ اسی لاکھ برمی بچوں میں سے نصف سے بھی کم پرائمری اسکول تک تعلیم حاصل کرپاتے ہیں، جبکہ پچاس فیصد اساتذہ ہی تربیت یافتہ ہیں۔جو والدین اپنے بچوں کو تعلیمی میدان میں اچھا دیکھنا چاہتے ہیں، وہ ٹیوشن کے نام پر اضافی رقم خرچ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ سات سالہ Phyu Phyu پہلی جماعت کی طالبہ ہے۔
سوال”اس وقت آپ کہاں سے آرہی ہیں؟ پھیو “ ٹیوشن سے”۔
سوال”ٹیوشن سے کب چھٹی ملتی ہے؟ پھیو “ شام چھ بجے”۔
سوال”کیا ٹیوشن میں آپ کی ٹیچر اسکول سے ہی تعلق رکھتی ہیں یا کوئی اور ہیں؟ پھیو “وہ ہمارے اسکول کی ہیں، وہ پہلی جماعت کو پڑھاتی ہیں، انھوں نے برمی ادب میں ڈگری لے رکھی ہے”۔
سوال”یعنی آپ کی ٹیچر ہی ٹیوشن کی بھی انچارج ہیں؟ پھیو “ جی ہاں”۔
پھیو بھی ٹیوشن پڑھتی ہے، ان کے اسکول کے اساتذہ ہی اسے ٹیوشن پڑھاتے ہیں،اسکول اور ٹیوشن کے درمیان پھنسنے کی وجہ سے وہ کھیلنے کیلئے بھی وقت نہیں نکال پاتی۔ ڈاکٹر Thein Lwin این ایل ڈی ایجوکیشنل کمیٹی کے رکن ہیں۔
تھن لیون “ دل لگا کر پڑھی ہوئی چیز کو بھلانا آسان نہیں، مگر اس طرح کی تعلیم کا اطلاق حقیقی زندگی، ملازمت یا پیشہ ور زندگی میں نہیں ہوسکتا”
بڑی جماعتوں کے طالبعلم خود پر زیادہ دباﺅ محسوس کرتے ہیں، فرسٹ ائیر کے طالبعلم Thaw Zin Tun کا تو یہی ماننا ہے۔ تھا زین تو” میں ٹیوشن لینے پر مجبور ہوں کیونکہ اسکولوں میں پڑھائی کا معیار بہتر نہیں، جبکہ اسکولوں میں ہجوم بھی بہت زیادہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اساتذہ کی بات کو کئی بار سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے”۔
ڈاکٹر تھین لیون کے خیال میں پرہجوم کلاس رومز، غیر تربیت یافتہ اساتذہ اور ناکافی وسائل کے باعث برمی تعلیمی نظام زوال پذیر ہورہا ہے۔
ڈاکٹر تھین لیون “عام طور پر ہر کلاس روم میں اسی سے سو طالبعلم ہوتے ہیں، جبکہ اساتذہ کی تعداد بہت کم ہے۔ اس مسئلے کے حل کیلئے مزید کمرے تعمیر کئے جانے کی ضرورت ہے، تاکہ ہر کمرے میں کم طالبعلموں کو پڑھنے کا موقع ملے۔ ہمارے تعلیمی نظام میں اصلاحات کے دوران کلاس رومز کی لمبائی پر نظرثانی کی ضرورت ہے، ایک استاد تیس طالبعلموں کو آرام سے پڑھاسکتا ہے، اس طرح کلاسیں زیادہ متحرک بھی ہوسکیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ میں کلاس رومز کے ڈیزائن پر نظرثانی کا حامی ہوں”۔
فوجی حکومت کے دوران میں فوج کی منظوری سے ہی نصاب پڑھایا جاتا تھا، جبکہ یونیورسٹیوں کو بند کردیا گیا تھا۔ مگر اب ملک میں اصلاحاتی عمل جاری ہے اور تعلیمی نظام پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔ حکومت نے رواں برس تعلیم کیلئے بجٹ بھی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، صدر Thein Sein کا کہنا ہے کہ غیرملکی قرضوں میں کمی کے بعد اب ہم تعلیم کے شعبے پر زیادہ خرچ کریں گے۔
تھین سین” تعلیمی اصلاحات برمی سیاسی اصلاحات، اقتصادی اصلاحات اور معاشرتی اصلاحات جیسی ہی اہم ہیں، تعلیم یافتہ نوجوان ملک میں معیشت کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں، اور ملکی ترقی کیلئے مرکزی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے تعلیمی شعبے پر توجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس پر مزید فنڈز خرچ کئے جائیں گے”۔