برما میں مسلم کش فسادات کو چھ ماہ گزر جانے کے باوجود ہزاروں مسلمان تاحال بے گھر ہیں، جن میں سے بیشتر پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ہیںاسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
ستاون سالہ ڈا نی نی اس پناہ گزین کیمپ میں گزشتہ چھ ماہ سے مقیم ہیں، اس چھوٹے سے کمرے میں وہ اپنی بیٹی اور اس کے دو بچوں کے ساتھ رہ رہی ہیں، جب فسادات کے دوران ان کے گھر کو آگ لگی تو اس کی ملکیت کے کاغذات بھی نذرآتش ہوگئے۔انتظامیہ نے مکان کی دوبارہ تعمیر کیلئے نئے کاغذات فراہم کرنے کا وعدہ ضرور کیا ہے مگر کسی کو نہیں معلوم کہ یہ کام کب تک ہوگا۔
ڈاو”انکا کہنا ہے کہ مکان کے کاغذات کا اجراءکیا جائے گا، ہم اس کا انتظار کررہے ہیں”۔
سوال”آپ کب تک اپنی زمین دوبارہ حاصل کرسکیں گی؟
ڈاو”اس بارے میں تو ابھی تک کچھ نہیں بتایا گیا”۔
ڈاو نی نی کے شوہر بھی مارچ میں ہونے والے فسادات میں ہلاک ہوگئے تھے۔
ان فسادات کے نتیجے میں ہزاروں مسلمانوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے پڑے تھے، ڈاو نی نی کے بیٹوں پر بھی حملہ ہوا مگر انہیں ایک بدھ شخص نے بچالیا۔اب ڈاو نی نی حکومتی امداد حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔
ڈاو نی نی”اب حکومت ہماری مدد کی خواہشمند ہے یا نہیں مگر اب وقت آگیا ہے کہ ہم خود اپنے پیروں پر کھڑے ہوجائیں”۔
اس کیمپ میں 35 سالہ تھن تھن ماو بھی مقیم ہیں، جن کے شوہر ان فسادات میں مارے گئے تھے، جبکہ وہ اپنی ہر چیز سے بھی محروم ہوگئیں۔
تھن”اس وقت مجھے کوئی اندازہ نہیں کہ کیمپ سے نکل کر میں کیسے زندہ رہ سکوں گی، تاہم میں یہاں سے کہیں اور جانا چاہتی ہوں کیونکہ مجھے یہاں رہنا بالکل پسند نہیں”۔
ڈاو نی نی اپنے کزنز کی گوشت کی دکان میں کام کرکے اپنے خاندان کو خودکفیل بنانے کی کوشش کررہی ہیں۔
ڈاو”میں نہیں چاہتی کہ میرے بیٹے طویل مدت کیلئے یہ کام کریں مگر ہمارے حالات ایسے ہوچکے ہیں کہ ہر کام کرنا مجبوری بن چکا ہے”۔
میختلا کے تیرہ ہزار کے قریب افراد ان فسادات کے نتیجے میں بے گھر ہوئے، جن کو متعدد ذہنی امراض لاحق ہوچکے ہیں، ڈاکٹر مینتھ اوو، کمیٹی فار میڈیکل ایتھکس سو سائٹی کے سیکرٹری ہیں۔
مینتھ او”اگر یہاں کلینک قائم کرکے ماہرین نفسیات کو کام کرنے دیا جائے اور یہ لوگ انفرادی و گروپس کی سطح پر لوگوں کے ذہنی تکلیفوں کو ختم کرنے کا کام کریں، تو اس سے ان کے مسائل میں کافی کمی آئے گی”۔
لوگوں کو باہر جانے کی اجازت نہ ہونے سے یہ کیمپ جیلوں کا روپ اختیار کرچکے ہیں، مینتھ کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کو بے گھر افراد کی تشویش کم کرنے کیلئے کام کرنا چاہئے۔
مینتھ”سب سے اہم امر یہ ہے کہ قابل نفرت تقاریر سے اجتناب برتا جائے اور ہر شخص سے یکساں رویہ روا رکھا جائے”۔
تھن تھن ماو معاونت کا انتظار کررہی ہیں۔
تھن “اگر مجھے یہاں سے جانے کی اجازت مل گئی تو میری خواہش ہے کہ میں تمام ضرور اشیاءجیسے فرنیچر، کچن کا سامان اور دیگر کے ساتھ اپنی نئی نوڈلز شاپ چلاسکوں”۔