Pakistani Women Lose Their Pink Bus – پاکستانی پنک بس سروس

پاکستان میں دو سال قبل خواتین کیلئے پنک بس سروس متعارف کرائی گئی تھی، تاہم اب یہ بسیں غائب ہوتی جارہی ہیں، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

بائیس سالہ صنوبر کیلئے مصروف اوقات میں اپنے دفتر جانے کیلئے بس کی تلاش کافی مشکل کام ہوتا ہے۔

صنوبر”مجھے عام طور پر بس کیلئے ایک گھنٹے تک انتظار کرنا پڑتا ہے، جب میں بس اسٹاپ پر انتظار کررہی ہوتی ہوں، تو لوگ مجھے عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں، اور پوچھتے ہیں کہ میں یہاں اتنی دیر سے کیوں کھڑی ہوں؟”

پاکستان میں خواتین کیلئے پرہجوم بسوں میں جگہ حاصل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، یہاں تک کہ لیڈیز کمپارٹمنٹ بھی مردوں سے بھرا ہوتا ہے۔ اور اگر خواتین کو جگہ مل بھی جائے تو مرد مسافروں انہیں ہراساں کرتے ہیں۔

صنوبر”بسوں میں ہر جگہ مرد بھرے ہوتے ہیں، اوپر بھی اور بسوں کے اندر بھی، کئی تو خواتین کو چھونے اور پکڑنے کی کوشش بھی کرتے ہیں”۔

تاہم دو سال قبل حالات میں اس وقت تبدیلی آئی جب پنجاب میں ایک نجی بس کمپنی نے صرف خواتین کیلئے مخصوص بس سروس متعارف کرائی، جس کا مقصد خواتین کو سفر کی بہتر سہولیات فراہم کرنا تھا۔

لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی نے تین بسوں کیساتھ اس سروس کا آغاز کیا اور جلد اس تعداد کو پچاس تک پہنچانے کا وعدہ کیا۔ کمپنی کا دعویٰ تھا کہ پنک بس سروس کامیاب ثابت ہوئی ہے اور بسوں کی تعداد میں تبدریج اضافہ کیا جائے گا۔

مگر اب 55 سالہ خاتون بلقیس کا کہنا ہے کہ یہ بسیں غائب ہوتی جارہی ہیں۔

بلقیس”میں ایک ملازمت پیشہ خاتون ہوں، مجھے تو اب سڑکوں پر کوئی پنک بس نظر نہیں آتی، خواتین کیلئے بسیں ضرور چلنی چاہئے، کیونکہ متعدد خواتین اور لڑکیاں بہت دور دراز کے چھوٹے شہروں سے روزانہ لاہور آتی ہیں”۔

گھریلو خاتون مہناز تو ٹیکسی پر سفر کرنا زیادہ پسند کرتی ہیں۔

مہناز”نجی ٹیکسیاں بہت زیادہ کرایہ لیتی ہیں، ہم بسوں کے ذریعے سفر کرکے کافی رقم بچاسکتی ہیں، مگر آج کل ہم اس طرح کی بچت نہیں کرسکتیں”۔

پنک بس سروس کے آغاز کے چند ماہ بعد ہی کمپنی نے مالی وجوہات کی بناءپر اسے جاری رکھنے سے انکار کردیا تھا، اور اب تو انھوں نے بیشتر بسوں کو چلنے سے روک دیا ہے۔ اظہر جاوید لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کی پنک بس سروس کے پراجیکٹ منیجر ہیں۔

اظہرجاوید”اب صرف ایک روٹ پر ہی بسیں چل رہی ہیں، مستقبل میں بھی ہم اسے اسی صورت میں جاری رکھ سکتے ہیں جب حکومت مالی سبسڈی فراہم کرے، ورنہ ہمارے لئے اسے برقرار رکھنا مشکل ہوگا”۔

ایک سرکاری افسر نے نام چھپانے کی شرط پر بتایا کہ چونکہ یہ سروس مالی طور پر کامیاب نہیں ہوئی اس لئے کوئی اور نجی بس کمپنی بھی اس میں دلچسپی نہیں رکھتی۔