(Magazine shows Indian children a way out of sex work )بھارتی بچوں کی زندگی میں تبدیلی لانے والا جریدہ
بھارت میں ایسے بچوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کی مائیں جسم فروشی کے کام پر مجبور ہوتی ہیں۔ مگر اب بچوں کے لئے ایک جریدہ جاری کیا گیا ہے
بیس کے لگ بھگ لڑکے اور لڑکیاں ایک کمرے کے فرش پر بیٹھے کام کررہے ہیں، ان سب کی عمریں چھ سے چودہ سال کے درمیان ہیں۔ کچھ بچے باغات ، دریاﺅں اور پہاڑوں کی تصاویر بنارہے ہیں، جبکہ دیگر اپنے مستقبل کے عزائم کے بارے میں مضامین لکھ رہے ہیں۔ یہ سب کام ریاست بہار سے جاری ہونے والے جریدے جگنو کیلئے ہورہا ہے۔
ریاست بہار میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد جسم فروشی کے پیشے سے وابستہ ہیں، جن میں سے بیشتر غیر تعلیم یافتہ ہیں، تاہم ان کے بچے تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ان میں سے ایک لڑکی نسیمہ بھی ہے، جس نے حصول علم کے بعد آٹھ سال قبل ایک این جی او Parcham تشکیل دی تاکہ اپنے جیسے بچوں کی مشکلات کو حل کرسکے۔ اس این جی او کے تحت ہی یہ جریدہ جگنو شائع کیا جاتا ہے۔ پنکی نامی خاتون اس جریدے کی اشاعت کے انتظامات کرتی ہیں۔
پنکی(female) “اسکولوں میں بچے اور اساتذہ بھی کئی بار ان بچوں کے ماﺅں کی زندگی کے حالات کو بہت اچھالتے ہیں، یہ بچے تعلیم یا ملازمت کرتے ہوئے اپنی شناخت چھپاتے ہیں، ہم ان بچوں کو سیکھا رہے ہیں کہ وہ خود کو کمتر نہ سمجھیں، بلکہ آگے بڑھکر اہم شعبوں میں ملازمتیں کریں۔ ہمارا جریدہ ان بچوں کو ذہنی طور پر مضبوط کرنا چاہتا ہے”۔
این جی او Parcham جریدے کے ساتھ ساتھ ریاست بہار کے چھ اضلاع میں ان بچوں اور ان کی ماﺅں کیلئے طبی مراکز بھی چلارہی ہے،تاہم ان اضلاع میں بچے جگنو سے بہت زیادہ متاثر ہیں۔ Nikhat جریدے کی چیف ایڈیٹر ہیں۔
female) Nikhat)“یہ علاقے معاشرے کا ایک تاریک گوشہ ہے، جگنو لوگوں کو اس تاریک گوشے سے نکالنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ ان علاقوں میں رہنے والے بیشتر افراد کے پاس اس بدترین پیشے کو اپنانے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔میری اپنی ماں بھی اس علاقے میں رہی ہیں اور یہی کام کرتی رہی ہیں، معاشرہ یہ سوچ ہی نہیں پاتا کہ یہ عورتیں اس پیشے کے علاوہ کچھ اور کرسکتی ہیں۔ معاشرے کے اس خیال کو غلط ثابت کرنے کیلئے اور ان بدنام علاقوں میں رہائش پذیر باصلاحیت بچوں کی تلاش کیلئے ہم نے یہ جریدہ جاری کیا”۔
Nikhat جریدے میں آنے سے قبل بھی متعدد افراد کو غلط ثابت کرچکی تھیں، اس زمانے میں وہ ایک مقامی ٹی وی کیلئے کام کرتی تھیں۔ اب وہ ان بدنام علاقوں کے بچوں کیلئے نئے مواقع ڈھونڈنے کا کام کررہی ہیں۔
female) Nikhat) “یہاں کے متعدد بچے باصلاحیت ہیں، ہمارا جریدہ ان کے اندر چھپی صلاحیتوں کو دریافت کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے، یہ بچے مستقبل میں اچھے مصنف، مصور، صحافی، ڈاکٹر، انجنئیر یا کچھ اور بن سکتے ہیں۔ متعدد مائیں بچوں کو اپنے پیشے سے دور رکھنا چاہتی ہیں مگر انہیں کوئی راستہ نہیں ملتا، جگنو کا عزم ہے کہ وہ ایسے بچوں کو راستہ تلاش کرنے میں مدد فراہم کرے گا”۔
اس جریدے میں ابھی دس رپورٹرز کام کررہے ہیں، جن کی عمریں بارہ سے پچیس سال کے درمیان ہیں، اس جریدے کا ہر مضمون ہاتھ سے لکھا جاتا ہے تاکہ اسے لکھنے والے افراد میں فخر کا احساس پیدا ہو، اس ماہانہ جریدے کی اشاعت اس وقت آٹھ سو ہے، دس سالہ شائستہ پروین بھی اس جریدے کیلئے کچھ نہ کچھ لکھتی رہتی ہے۔
شائستہ(female) “میں اس جریدے میں اپنے خوابوں کے بارے میں لکھتی ہوں، اس کے علاوہ اپنے دیگر ساتھیوں کے خوابوں کو بھی لکھتی ہوں، میں ان بچوں کے خواب سن کر اسے کاغذ پر اتار لیتی ہوں اور پھر اسے ہماری ایڈیٹر Nikhat جی کو دے دیتی ہوں”۔
جگنو سے متاثر ہوکر اب بہت سے بچوں نے اسکول جانا شروع کردیا ہے۔ تیرہ سالہ Sekh Nehal چھٹی جماعت میں ہے۔
male) Sekh Nehal) “اس علاقے کے زیادہ تر بچے اسکول جانا نہیں چاہتے، یہی وجہ ہے کہ وہ سائیکل رکشہ یا آٹو رکشہ چلانے کے علاوہ کوئی اور کام نہیں کرپاتے۔ مگر میرے عزائم زیادہ بلند ہیں، میں پڑھنا چاہتا ہوں، میں جگنو کیلئے لکھتا ہوں، جس سے مجھے اپنے اندر مضبوطی کا احساس ہوتا ہے، میں رکشہ چلانے والا نہیں بننا چاہتا بلکہ میں ایک انجنئیر بننا چاہتا ہوں”
Paresh Prasad Singh بھارتی ریڈ کراس سوسائٹی کے برانچ سیکرٹری ہیں، وہ اس این جی او کے طبی پروگرام کیلئے مدد فراہم کرتے ہیں۔
male) Paresh Prasad Singh) “ان بدنام علاقوں میں جگنو کے مثبت اثرات مرتب ہورہے ہیں، جگنو کو پڑھ کر ہمیں اس بات کا احساس ہوتاہے کہ باصلاحیت بچے اس تاریک گوشے میں پھنسے ہوئے ہیں۔جگنو کیلئے لکھنے والے بچے اور جریدے کے قارئین معاشرے پر اپنی صلاحیتیں ثابت کرنے کیلئے بے چین ہیں۔ متعدد بچے اچھی تعلیم حاصل کرکے اچھی ملازمتیں حاصل کرپائیں گے۔ ان علاقوں کا ہربچہ معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کیلئے سنجیدہ ہے، جگنو ان علاقوں میں حقیقی معنوں میں انقلابی تبدیلی لایا ہے”۔
ایک جسم فروش عورت 45 سالہ مینا کی بیٹی جولی بھی جریدے کے اشاعتی عمل کا حصہ ہے۔
مینا(female) “جب میری بیٹی جگنو اور Parcham کے کاموں میں شامل ہوئی تو میں بہت غصہ کیا، میں نے سوچا کہ یہ این جی او جولی کیلئے اچھی ثابت نہیں ہوگی اور وہ وہاں اپنا وقت ضائع کرے گی، مگر چند برسوں میں میرا ذہن تبدیل ہوگیا، اب میں خوش ہوں کہ میری بیٹی اچھا کام کررہی ہے۔ اس کی زندگی تبدیل ہوگئی ہے جس سے میں بہت خوش ہوں”۔
شائستہ پروین اپنے روشن مستقبل کے بارے میں پریقین ہے۔
شائستہ(female) “میں بڑی ہوکر اس علاقے میں کام نہیں کرنا چاہتی، میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے کسی اور جگہ ملازمت کرنا چاہتی ہوں۔ میری خواہش ہے کہ میں پولیس افسر بنوں اور اپنے والدین کیلئے باعث فخر ثابت ہوں”۔