اگر آپ ملائیشین وزارت دفاع میں ملازمت کے خواہشمند ہیں تو آپ کو ایسا لباس پہننے سے بچنا ہوگا جو دوسروں کو آنکھ مارنے پر مجبور نہ کردے۔ یہ جملے کی وہ دلچسپ غلطی ہے جس نے وزارت دفاع کو بوکھلا کر رکھ دیا ہے۔ وزارت کی ویب سائٹ کے انگریزی ورژن میں ہونیوالی اس غلطی نے ملائیشیاءمیں تعلیمی معیار پر بھی سوالات اٹھادیئے ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں جکارتہ انڈونیشیاءکے ریڈیو kbr68h کی آج کی رپورٹ
ملائیشیاءکی وزارت دفاع کی ویب سائٹ کے ایک حصے جسے اخلاقی ملبوسات کا نام دیا گیا ہے، میں ملازمین کے لئے ایس ملبوسات کی فہرست دی گئی ہے جو وہ پہن یا نہیں پہن سکتے۔ مگر یہ فہرست اس وقت لوگوں کیلئے دلچسپی کا سبب بن گئی جب اس میں ملائیشین زبان کا انگریزی ترجمہ غلط کر دیا گیا۔ Linda Ng ایک مقامی مالیاتی ادارے کی ڈائریکٹر ہیں جو وزارت دفاع کیلئے کام کرتا ہے۔ وہ اس ویب سائٹ پر اکثر جاتی رہتی ہیں۔
Linda Ng(female)”آنکھ مارنے کا جملہ پڑھ کر میں خود کو بہت شرمندہ محسوس کررہی ہوں۔ میرے خیال میں یہ ناقابل برداشت ہے کہ وزارت دفاع یا کوئی اور وزارت اس طرح کی غلطیاں کرے اور انگریزی کے بدترین معیار سے ہمیں شرمسار کرے۔ مجھے تو اب لگتا ہے کہ کمبوڈین ملازمائیں بھی ہم سے بہتر انگریزی بول لیتی ہیں”۔
وزارت نے تسلیم کیا ہے کہ اس نے Google Translation کی سہولت استعمال کی تھی جو اس غلطی کا سبب بنی۔ Linda Ng اس موقف کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں۔
Linda Ng(female)”گوگل ٹرانسلیشن کو الزام دینا انتہائی احمقانہ جواب ہے، حکومت اربوں ڈالر وزارتوں کو دیتی ہے، اس سے پہلے عوام کا خیال تھا کہ یہ رقم پیشہ ور مترجم کو ادا کی جاتی ہوگی جو ترجمے کا کام ٹھیک طریقے سے کرتا ہوگا”۔
عوامی تنقید کے باعث وزارت دفاع نے اپنی ویب سائٹ کا انگریزی ورژن بند کر دیا ہے، جبکہ عوامی مقامات پر یہ غلطی آج کل مزاح پیدا کرنے کا سبب بن چکی ہے، اور ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے ملائیشیاءمیں انگریزی کے ناقص معیار کا اندازہ ہوتا ہے۔ Noor Azimah Abdul Rahim، Parent Action Group for Education کی سربراہ ہیں۔
نور(female)”میرے خیال میں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں 1970ءمیں انگریزی میڈیم اسکولوں کو ختم کردیا گیا تھا”۔
ملائیشین والدین کا یہ گروپ اسکولوں میں سائنس اور ریاضی کی تعلیم انگریزی میں دینے کا مطالبہ کرتا ہے، اس گروپ نے
گزشتہ سال حکومت کو ایک یاداشت پیش کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ریاضی اور سائنس کو ملائے زبان کی بجائے انگریزی میں پڑھایا جائے۔ نور اس بارے میں بتارہی ہیں۔
نور(female)”اگر ریاضی اور سائنس کو ملائے زبان میں ہی رکھا گیا تو ہم آگے ترقی کرنے کی بجائے پیچھے ہی جاتے رہیں گے، کیونکہ انگریزی زبان کو سیکھنا صرف انگلش کے مضمون سے ہی ممکن نہیں، اور اس سے صورتحال بہتر نہیں ہوگی”۔
ملائیشیاءنے 1957ءمیں برطانیہ سے آزادی حاصل کی تھی اور اس کے بعد انگریزی میڈیم اسکولوں کو قائم رکھا تھا، تاہم 1970ءمیں حکومت نے تعلیمی نظام تبدیل کرکے اسے قومی زبان Bahasa Malaysia میں تبدیل کردیا۔ 2003ءمیں حکومت نے کروڑوں ڈالر خرچ کرکے ریاضی اور
سائنس ،انگریزی زبان میں پڑھانے کی پالیسی پر عمل شروع کیا، تاہم تین برس قبل اس فیصلے کو واپس لے لیا گیا۔اس وقت ملائیشیاءمیں Bahasa Malaysia سرکاری زبان ہے، تاہم انگریزی بھی بہت زیادہ استعمال ہوتی ہے، خصوصاً کاروباری حلقوں میں،Ng Chin Sing ایک بڑے اسٹور کے مالک ہیں، جنھیں ملازمین کی کمی کا سامنا ہے۔
Ng Chin Sing(male)”آج کل کے نوجوانوں کی انگریزی بہت خراب ہے، مثال کے طور جب یہ نوجوان ملازمت کی درخواست کا فارم بھرتے ہیں، جہاں ان کے شریک حیات کے نام کا حصہ ہوتا ہے وہ وہاں اپنے والدین کا نام لکھ دیتے ہیں۔ انگریزی آج کے دور میں بہت اہم ہے اور اس کی وجہ سے میری دکان میں اچھے ملازمین کی کمی ہوگئی ہے”۔
ملائیشیاءکے وزیر تعلیم نے حال ہی میں بیان دیا تھا کہ حکومت ریاضی اور سائنس کی تعلیم قومی زبان میں دینے کا سلسلہ جاری رکھے گی،یہ بیان اس وقت آیا جب ایک حکومتی سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ صرف گیارہ فیصد طالبعلم ان مضامین کی انگریزی میں تعلیم چاہتے ہیں۔رواں برس کے آغاز پر حکومت نے ایک انگریزی زبان کا معیار بہتر کرنے کیلئے English Language Council قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم نور کا اصرار ہے کہ یہ انتخاب طالبعلموں کے پاس ہونا چاہئے کہ وہ کون سی زبان میں تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں، یہ ان کو عالمی شہری بنانے کیلئے اہم ہے۔
نور(female)”یہ بات بالکل واضح ہے۔سب سے پہلے تو ہمیں عالمی سطح پر آکر سوچنا ہوگا کہ اس وقت سب سے زیادہ بولی جانیوالی زبان انگریزی ہے، جس سے ہم منہ نہیں موڑ سکتے۔ اگر آپ دنیا کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو اس کو سیکھنا لازمی ہے”۔
