(Long Road to Justice for Army Murders in Kashmir) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں ہلاکتیں

 

بارہ سال قبل مقبوضہ کشمیر کے Pathribal نامی گاﺅں میں پانچ افراد کو فوج نے حریت پسند قرار دے کر ہلاک کردیا تھا، ان کی لاشیں پوسٹ مارٹم کرائے بغیر دفن کردی گئی تھیں، تاہم بھارتی سی بی آئی نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ فوج نے جان بوجھ کر پانچ بے گناہ افراد کو ہلاک کیا ہے۔

راشد خان اس وقت 23 سال کے تھے جب ان کے والد جمعہ خان کو بھارتی فوج نے جنوبی کشمیر کے Pathribal نامی گاﺅں میں ہلاک کردیا۔ اس واقعے کو اب بارہ سال گزر چکے ہیں، مگر راشد تاحال انصاف کی تلاش میں ہیں۔

راشد خان(male) “کوئی بھی شخص ہماری بات سننے یا یہ بتانے کیلئے نہیں آیا کہ آخر کیوں ان معصوم افراد کو انتہائی ظالمانہ طریقہ سے ہلاک کیا گیا، اور آخر کیوں اب تک کوئی ملزم انصاف کے کٹہرے میں نہیں آیا ہے۔ان بارہ برسوں کے دوران مجھے محسوس ہوا کہ میں انسانوں کی بجائے پتھروں کے سامنے انصاف فراہم کرنے کی درخواستیں کررہا ہوں، اور پتھر تو کسی کی آواز نہیں سن سکتے”۔

2000ءمیں بھارتی پولیس نے راشد کے والد سمیت پانچ افراد کو ہلاک کیا تھا، اس ظالمانہ واقعے سے کئی روز قبل جنوبی کشمیر کے ہی ایک اور گاﺅں میں 36 سکھوں کو قتل کیا گیا تھا، جس کا ذمہ دار فوج نے غیرملکی حریت پسندوں کو قرار دیا۔GD Bakhshi سابق فوجی افسر ہیں، جو بھارتی فوج کا روایتی پروپگینڈہ کررہے ہیں۔

 (male) GD Bakhshi “لشکر طیبہ نے ان سکھوں کو Chattisinghpora گاﺅں میں قتل کیا تھا، ان کو شبہ تھا کہ یہ سکھ فوج کو ان کی سرگرمیوں کی مخبری کررہے ہیں”۔

بھارتی فوج نے سکھوں کے قتل کے بعد پانچ کشمیریوں کو جا ں بحق کیا اور ان کی لاشوں کو میڈیا کے سامنے پیش کرکے انکا تعلق لشکر طیبہ سے بتایا۔مگر مقامی رہائشییوں نے فوج کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے حکومت سے ان لاشوں کی شناخت کرانے کا مطالب کیا، حکومت نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جس سے ثابت ہوگیا کہ یہ پانچوں افراد غیرملکی نہیں بلکہ مقامی دیہاتی ہیں۔اس انکشاف کے بعد حکومت نے سی بی آئی کو اس معاملے کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا۔ سی بی آئی نے پانچ سال تک اس مقدمے کی تحقیقات کی، اور یہ نتیجہ نکالا کہ فوجی افسران نے جان بوجھ کر پانچ معصوم افراد کو فائرنگ کرکے مارا ہے۔ Ashok Bhan سی بی آئی کے وکیل ہیں۔

 (male) Ashok Bhan “اس مقدمے میں ان پانچوں افراد کو فوج نے رات کی تاریکی میں اٹھا کر غیرقانونی حراست میں رکھا اور پھر صبح انہیں ایک جگہ پر لے جاکر انتہائی سفاکانہ طریقہ سے قتل کردیا۔یہ سب باتیں ہماری تحقیقات سے سامنے آئی ہیں، سی بی آئی نے مجھے ہدایت کی ہے کہ میں عدالت کے سامنے اس سفاکانہ واقعے کی ساری حقیقت پیش کروں”۔

تاہم سی بی آئی کسی فوجی اہلکار کو گرفتار نہیں کرسکتی، کیونکہ انہیں بھارت کے Armed Forces Special Power Act کے تحت قانونی استثنیٰ حاصل ہے۔ اس قانون کو کالا قانون بھی سمجھا جاتا ہے، جس کے باعث بھارتی سیکیورٹی فورسز کو کشمیر میں انتہائی وسیع اختیارات دیئے گئے ہیں۔ Vrinda Grover انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی ایک وکیل ہیں۔

Armed Forces Special  (female) Vrinda Grover

Powers Act  کے باعث مرکزی حکومت کسی بھی فوجی افسر کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر ہے، فرضی مقابلوں میں لوگوں کو مار کر بھی یہ صاف بچ جاتے ہیں۔ اسی طرح گزشتہ بیس برس سے زیرسماعت لوگوں کو لاپتہ کرنے کے مقدمے میں بھی کئی فوجی افسران کو عینی شاہدین نے شناخت کرلیا تاہم ان کے خلاف کچھ نہیں ہوسکا”۔

تاہم رواں ماہ کے شروع میں بھارتی سپریم کورٹ نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ ان پانچ افراد کو قتل کرنے کے معاملے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف وہ فوجی عدالت میں کارروائی کرے گی یا سول عدالتیں اس معاملے کا فیصلہ کریں۔فوج کی جانب سے اس حوالے سے اعلان آئندہ چند دنوں میں متوقع ہے۔ بھارتی صحافی اجے شکلا اسے ایک بہت بڑا قدم قرار دیتے ہیں، تاہم انہیں اس بات پر یقین نہیں کہ فوج اپنے اہلکاروں کا مقدمہ سول عدالت میں چلانے کیلئے تیار ہوگی۔

شکلا(male) “فوج اس بات کو تسلیم نہیں کرتی کہ کشمیر کا عدالتی نظام فوجی اہلکاروں کے شفاف ٹرائل کے قابل ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ اس معاملے کو فوجی عدالتوں میں لے کر جانا پسند کرے گی، فوج کسی صورت اپنے اہلکاروں کو کشمیری عدالتوں میں پیش کرنے کیلئے تیار نہیں ہوگی”۔

جاں بحق افراد کے ورثاءکا مطالبہ ہے کہ ان کے پیاروں کو مارنے والے فوجی افسران کا کھلی عدالت میں ٹرائل ہونا چاہئے۔ طارق احمد کا بھائی اس واقعے میں جاں بحق ہوا تھا، طارق کا کہنا ہے کہ انہیں فوج پر اعتماد نہیں۔

طارق احمد(male) “فوجی عدالتوں کا کورٹ مارشل ایک سرکس ہے، یہ عدالتیں کسی کو سزا نہیں سناتیں، ہم ان بارہ برسوں سے یہ سب دیکھ رہے ہیں، یہ عدالتیں ملزم افسران کا تبادلہ کردیتی ہیں اور پھر انہیں بھول جاتی ہیں۔ان عدالتوں نے کبھی کسی فوجی اہلکاروں کو سزا نہیں سنائی”۔

انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے بین الاقوامی اداروں نے بھی بھارتی فوج کی جانب سے اپنے ملزم اہلکاروں کو سزائیں نہ دینے کے روئیے کی شدید مذمت کی ہے۔ خرم پرویز ایک انسانی حقوق کے گروپ Jammu and Kashmir Civil Society Coalition کے رکن ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کا تحفظ اسی صورت ممکن ہے جب فوج کو حاصل استثنیٰ ختم کردیا جائے۔

خرم پرویز(male) “انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی اصل وجہ فوج کو حاصل استثنیٰ ہے، اس کو ختم کیا جانا چاہئے۔ اگر بھارتی حکومت اور ریاستی حکومت عوام کے حقوق کے تحفظ کیلئے سنجیدہ ہو تو وہ اس استثنیٰ کو ختم کرنے کے بارے میں ضرور سوچیں گی”۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *