Nikah Naama نکا ح نامہ

نکاح نامہ دو افراد کے مابین باہمی رضامندی سے طے کیا جانے والا ایک سوِل کنٹریکٹ ہے اہم بات یہ ہے کہ پڑھے لکھے ، ناخواندہ ،شہروں میں رہائش پذیر یا دیہاتوں کے مکین بیشتر خاندانوں کی جانب سے نکاح نامے کو مکمل طور پرفِل نہیں کیا جاتا ،کئی شقیں خصوصاً عائلی قوانین کے تحت آنے والی چند دفعات کو پُر نہیں کیا جاتا یاپھر کاٹ دیا جاتا ہے۔اس سلسلے میں ہم نے معروف وکیل صالحہ نعیم سے بات کی تو انھوں نے ہمیں بتایا کہ معاشرتی سطح پر خواتین کے مسائل کا ازالہ کیا جا سکتا ہے اگر نکاح نامے میں موجودتمام شقوں کو مکمل طور پر اور درست طریقے سے پر کیا جائے :
نکاح نامے میں موجود جن شقوں کو سرے سے پر نہیں کیا جاتا یا کراس لگا دیا جاتا ہے اور جس شق سے بیشتر گھرانے آگاہ بھی نہیں ہیں وہ ہے حق طلاق بیوی کو تفویض کرنا،اس شق کے متعلق علماءکرام کے کچھ تحفظات بھی ہیں ،اس شق کی کیا قانونی اور مذہبی حیثیت ہے ،جانتے ہیں اس بارے میں ممتاز قانون دان دھنی بخش اوٹھو کیا کہتے ہیں:
صالحہ نعیم کا کہنا ہے کہ نکاح نامے میں موجود کچھ شرائط یا شقوں کو فل اِس لئے نہیں کیا جاتا کیونکہ مردوں کی برتری رکھنے والی اس معاشرے میں یہ تمام شقیں خود مردوں کے خلاف جاتی ہیں:
پاکستان جیسے ملک میں جہاں خواتین پر گھریلو تشدد عام ہے ہر روز کوئی نہ کوئی عورت گھریلو تشدد کے نتیجے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے ایسے میں مذہب اور قانون کی رو سے خواتین کو دیے جانے والے جائز حقوق کو کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے یہ جاننا ہر فرد خصوصاً گھروں کے بزرگوں اور خواتین کیلئے بے حد ضروری ہے۔یہاں یہ سوال بھی اُٹھتا ہے کہ جن دفعات کو کاٹ دیا جاتا ہے اُن پر کن افراد کو کن وجوہات کی بنا پر کیا اعتراضات ہیں،اس بارے میں صالحہ نعیم کا کہنا ہے:
قابل ذکر بات یہ ہے کہ کئی دفعہ مختلف پلیٹ فارم سے یہ مطالبات سامنے آئے ہیں کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کیلئے نکاح نامے کو مکمل اور درست طور پر پرکیا جائے نہ صرف یہ بلکہ اس میں چند شرائط کا اضافہ بھی کیا جائے جیسے میڈیکل سر ٹیفکیٹ منسلک کرنا وغیرہ لیکن تاحال یہ تمام باتیں محض ٹاک شوزتک محدود ہیں اِن پر عملی طور پر فی الحال کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ہیں،دھنی بخش اوٹھو کا کہنا ہے کہ تمام نکاح رجسٹرارز کو پابند کیا جا نا چاہئیے کہ وہ نکاح نامے کو مکمل طور پر فِل کریں اسکے ساتھ ساتھ خواتین پارلیمینٹرین اِس ایشو کے حوالے سے قانون سازی میں بے حد اہم کردار ادا کر سکتی ہی:
اِسکے ساتھ ساتھ ایک اور اہم مسئلہ جو دیکھنے میں آتا ہے وہ مرد کی دوسری شادی سے متعلق ہے ، اس معاملے میں کچھ طبقہ فکر کا ماننا ہے کہ مرد کیلئے پہلی بیوی سے شادی کی اجازت طلب کرنے کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔۔۔اس بارے میں معروف وکیل دھنی بخش اوٹھوکہتے ہیں:
نکاح کے موقع پر خاندان کے بزرگوں اور گواہان کو چاہئیے کہ نکاح نامے میں موجود تمام شقوں کودرست طور پرفِل کریں،سب سے اہم بات یہ ہے کہ جہاں دیگر ایشوز کے حوالے سے بل اور قرار دادیں منظور کی جاتی ہیں وہیں خواتین کو اُنکا قانونی اور شرعی حق دلوانے کیلئے بھی قانون سازی کی جانی چاہئیے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *