Long Quest for Justice for Indian Women – بھارتی خواتین کی انصاف کیلئے جدوجہد

گزشتہ ہفتے دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا گیا، تاہم بھارت میں صنف نازک تاحال اپنے تحفظ کیلئے جدوجہد میں مصروف ہے۔ آئین میں خواتین کو مساوی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے، تاہم اس ملک میں ہر گھنٹے میں دو خواتین جنسی زیادتی کا شکار ہوجاتی ہیں۔

بتیس سالہ جگجیت کور نئی دہلی کی جنترمنتر گلی میں لگائے گئے ایک چھوٹے سے خیمے میں لیٹی ہوئی ہیں، درجنوں اخبارات میں ان کے بارے میں خبر صفحہ اول پر چھپی ہے، جگجیت کورکو بھوک ہڑتال پر ہیں اور اس کو ایک ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ جگجیت کورکا کہنا ہے کہ انہیں پنجاب کے ایک پولیس اسٹیشن میں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

جگجیت کور “ میں پولیس اسٹیشن میں اپنے گھر میں ہونیوالی چوری کی رپورٹ درج کرانے گئی تھی، ایک پولیس اہلکار نے مجھے چائے کا کپ دیا اور پھر اس نے دفتر کا دروازہ بند کردیا، اس نے مجھے برہنہ کی کوشش کی، جس پر میں مدد کیلئے چلانے لگی۔ اس وقت دو دیہاتی میری مدد کیلئے پہنچے تاہم ان پر تشدد کیا گیا اور حوالات میں بند کردیا گیا۔ اس کے بعد پولیس اہلکاروں نے میرے ساتھ زیادتی کی، اور جب میں جانے لگی تو پولیس والوں نے مجھے لاٹھیوں سے مارا جس سے میرا بازو ٹوٹ گیا۔ وہ اس وقت تک نہیں رکے جب تک میں بے ہوش نہیں ہوگئی”۔

یہ واقعہ تین سال قبل پیش آیا تھا، تاہم وہ اب تک اپنا مقدمہ درج نہیں کراسکی ہیں۔

جگجیت کور” میں نے دھرنے دیئے، پولیس حکام اور مقامی انتظامیہ کو شکایتی مراسلے بھیجے، عدالتوں کے چکر لگائے مگر کچھ بھی نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ میں نے وزیراعظم اور سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن کو بھی خطوط لکھے مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اب میں دارالحکومت میں آکر انصاف کا مطالبہ کررہی ہوں”۔

تاہم اب تک ان کے احتجاج پر حکومت کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

جگجیت کور” میں کافی دن سے بھوک ہڑتال پر ہوں، مگر لگتا ہے کہ کسی کو میری پروا ہی نہیں۔ اگر مجھے ریاستی حکومت سے انصاف نہیں مل سکتا، یا مرکزی حکومت مجھے انصاف نہیں دے سکتی، تو پھر میں کہاں سے انصاف حاصل کروں؟ آخر خواتین کا قومی کمیشن کہاں ہے؟ نیشنل ہیومین رائٹس کمیشن کہاں ہے؟ کیا وہ مجھے دہشتگرد بنانا چاہتے ہیں؟ اگر میں انصاف طلب کروں تو وہ مجھے مار دیتے ہیں یا میں ان سب کو مار دیتی ہوں”۔

انصاف کی تلاش میں صرف جگجیت کورہی جدوجہد نہیں کررہی۔

پچپن سالہ سہیب سنگھ نئی دہلی کے نواح میں رہائش پذیر ہیں، ان کی اٹھارہ سالہ بیٹی کو 2009ءمیں مقامی کونسلر نے اس وقت زیادتی کا نشانہ بنایا، جب سہیب سنگھ نے اس سے اپنی بیٹی کی شادی کرنے سے انکار کردیا۔ رواں برس کے شروع میں اسی کونسلر کے غنڈوں نے سہیب سنگھ کی بیوی پر جنسی حملہ کیا۔ انکا کہنا ہے کہ پولیس ان ملزمان کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کررہی۔

سہیب سنگھ” جہاں تک میری بیوی کے مقدمے کا تعلق ہے، پولیس نے اسے رجسٹر تو کرلیا ہے تاہم یہ صرف کاغذی کارروائی ہے، کیونکہ اس حوالے سے مزید تفتیش نہیں ہوئی۔ یہ غنڈے بہت بااثر ہیں اور وہ آزاد گھوم رہے ہیں۔ یہاں تک کہ انھوں نے مجھے پر بھی حملہ کیا، مگر پولیس نے کچھ نہیں کیا۔ ہم حکومت سے تحفظ اور پولیس اہلکاروں کو معطل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں”۔

نئی دہلی میں گزشتہ سال دسمبر میں ایک طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعے کے بعد سے ملک بھر میں جنسی تشدد کیخلاف احتجاج جاری ہے، حکومت نے خواتین کے خلاف جنسی جرائم پر قابو پانے کیلئے مزید اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت کچھ کیسز میں ملزمان کو سزائے موت کا حقدار ٹھہرانا بھی شامل ہے۔ گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ میں نئے مالی سال کا بجٹ پیش کیا گیا، اس کے علاوہ حکومت نے خواتین کے تحفظ کیلئے ایک خصوصی فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا، جسے نربھیا فنڈ کا نام دیا گیا۔پی چدم برم وزیر خزانہ ہیں۔

چدم برم” ہم اپنی لڑکیوں اور مردوں کے ساتھ کھڑے ہیں، اور ہم وعدہ کرتے ہیں کہ انہیں بااختیار بنانے، محفوظ اور تحفظ دینے کی ہرممکن کوشش کریں گے۔ اس سلسلے میں متعدد اقدامات کئے جارہے ہیں اور مزید پر حکومت اور غیر سرکاری ادارے غور کررہے ہیں”۔

تاہم مظاہرین ان اقدامات سے مطمئن نظر نہیں آتے۔

درجنوں افراد ملکی فوجداری نظام انصاف کے پتلے جلارہے ہیں، وہ نعرے لگارہے ہیں کہ نظام مرچکا ہے یہی وجہ ہے کہ جرائم
بڑھ رہے ہیں۔ رگھو ویر شرماگزشتہ سال دسمبر سے جنتر منتر گلی میں جاری اس احتجاج میں شریک ہیں۔

رگھو ویر شرما” ہماری جدوجہد انصاف کیلئے ہے، یہ بیمار نظام کو تبدیل کرنے کے لئے ہے۔ ہمیں اس نظام کے باعث بہت سی مشکلات کا سامنا ہوا ہے، تاہم اب ہم اسے برداشت نہیں کریں گے اور تبدیلی لازمی آئے گی۔جب تک نظام میں کوئی ٹھوس تبدیلی نہیں آتی ہم اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ ہمارا احتجاج حکومت یا کسی مخصوص پارٹی کے خلاف نہیں، بلکہ یہ پورے نظام کے خلاف ہے، اور جب تک ہمارے مقاصد حاصل نہیں ہوجائیں گے کوئی بھی شخص یہاں سے گھر واپس نہیں جائے گا”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *