تیس ہزار سے زائد افراد کو برما کے علاقے تھِلاوا میں قائم کئے جانے والے خصوصی اقتصادی زون کے باعث جبری انخلاءکا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ برمی چیمبر آف کامرس اور جاپانی ٹریڈ آرگنائزیشن کا مشترکہ منصوبہ ہے، مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہیں منصفانہ طور پر زرتلافی ادا نہیں کیا گیا۔
چون سالہ مینٹ کی،پئیار گونے نامی گاﺅں میں رہائش پذیر کاشتکار ہیں، تاہم انہیں زبردستی ان کے فارم سے نکالا جارہا ہے۔
مینٹ” میں بہت اداس ہوں اور علاقے سے نقل مکانی کا نوٹیفکیشن ملنے کے بعد سے سو بھی نہیں سکا ہوں۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں اب کہاں جاﺅں گا”۔
یہ انکا واحد ذریعہ روزگار ہے، اور وہ ماہانہ سو ڈالرز تک کمالیتے ہیں۔اب تک حکومت کی جانب سے انہیں زرتلافی دینے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں ہوا، تاہم یہاں کے رہائشیوں نے علاقہ خالی کرنے سے انکار کیا تو انہیں ایک ماہ قید کی سزا کا اعلان ضرور کردیا گیا ہے۔
مینٹ” انھوں نے ہمیں علاقہ چھوڑنے کا حکم اس وقت سنایا جب ہم فصل بو چکے تھے، ہم نے کاشتکاری کیلئے قرض لیا تھا جو چکانا بھی ہے، ہم اداس اور پریشان ہیں کہ یہ قرضہ کس طرح چکائیں گے، اگر ہم یہاں سے چلے جاتے ہیں، تو ہمارے لئے کسی اور جگہ زمین خریدنا ناممکن ہوگا، کیونکہ ہمارے پاس پیسے نہیں۔ ہم کسی اور جگہ گئے تو وہاں کاشتکاری سے منافع نہ ہونے کے برابر ہوگا اور ہمارے لئے زندہ رہنا مشکل ہوجائے گا۔ مجھے نہیں معلوم کہ اب میں کس طرح کاشتکاری کا سلسلہ جاری رکھ سکوں گا”۔
تیس دیہات سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کو زبردستی علاقہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا اور تھِلاوا اکنامک زون منصوبے کیلئے چوبیس سو ایکڑ زمین حاصل کی گئی ہے۔یہ منصوبہ 2015ءتک کام کرنا شروع کردے گا، جبکہ اس سے ملکی معیشت کو فروغ ملنے کے ساتھ ساتھ مقامی افراد کو روزگار بھی ملے گا، تاہم یُو مینٹ کی کسی نئی ملازمت کی صلاحیت اپنے اندر محسوس نہیں کرتے۔
یُو مینٹ کی” میں بوڑھا ہوچکا ہوں، مجھے ڈرائیونگ کرنا نہیں آتی، جبکہ کوئی شخص مجھے سیکیورٹی گارڈ کی حیثیت سے رکھنا بھی پسند نہیں کرے گا۔ کوئی شخص مجھے کسی کام کے لئے کام دینا نہیں چاہے گا، مجھے سمجھ نہیں آتا کہ نئی زندگی کا آغاز کہاں سے کروں”۔
مقامی برادری کے رہنماءیُو مئیے نِنگ کا کہنا ہے کہ ہمیں اپنے آبائی علاقے میں رہنے کا حق حاصل ہے۔
یُو مئیے نینگ” ہم اس زمین کو استعمال کرنے پر حکومت کو ٹیکس ادا کرتے ہیں، آئین کے مطابق حکومت کو دیہاتیوں کو ان کی زمین سے نکالنے کا کوئی حق حاصل نہیں”۔
برما میں نئی سیاسی اصلاحات کے بعد سے بیرون ملک سے سرمایہ کاری بڑی رہی ہے، جس کے نتیجے میں زمینوں پر قبضوں کے واقعات بھی بڑھ گئے ہیں۔ کاشتکار اور دیہاتیوں کو حکومتی منصوبوں کیلئے گھربار چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے، جبکہ موجود قوانین کے تحت یہ بھی واضح نہیں کہ زمینوں کا مالک کون ہے، کیونکہ سرکاری طور پر تو انہیں حکومت کی ملکیت سمجھا جاتا ہے۔32 سالہ تِن وِن اونگ کا کہنا ہے کہ حکومت نے صنعتی منصوبے کیلئے انہیں ان کی زمینوں سے نکال پھینکا ہے۔
تِن وِن اونگ” جب حکومت نے تھُوانا میں ہماری زمین کو قبضے میں لیا تو میں نے یہاں آکر زمین کا یہ ٹکڑا خریدا، میرا خاندان بہت بڑا ہے اور ہمارا روزگار کاشتکاری سے وابستہ ہے۔ میرے والد کو گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، انکا کہنا تھا کہ ہم کاشتکار نہیں بلکہ غدار ہیں۔ ہمیں زبردستی کاغذات پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا اور ہمیں زمین سے نکال دیا گیا۔ حکومت نے ہمیں زرتلافی کے طور پر صرف بیس ڈالرز دیئے، جبکہ اس کی مالیت لاکھوں ڈالرز کی ہے۔ اس وقت مجبوراً ہم وہ رقم لینے پر مجبور ہوئے کیونکہ ہم مزید کسی اور مشکل میں نہیں پھنسنا چاہتے تھے”۔
صنعتی زون کا یہ منصوبہ جنوب مشرقی ایشیاءکا سب سے بڑا صنعتی زون قرار دیا جارہا ہے، جاپانی حکومت کی جانب سے اس منصوبے کی پرزور حمایت کی جارہی ہے، اور اس نے برما پر اپنا آدھا قرضہ بھی معاف کرنے اور انتہائی کم شرح سود پر مزید قرضہ دینے کی پیشکش کی ہے۔
حال ہی میں برما کے چیمبر آف کامرس اور جاپانی کمپنی کے ایک گروپ نے ان متاثرہ افراد سے مذاکرات کئے، یُو سیٹ اونگ برمی چیمبر سے تعلق رکھتے ہیں۔
یُو سیٹ اونگ “ دو سال قبل جب میں وزیر تھا تو میں اس علاقے میں تفتیش کیلئے آیا تھا، یہاں کچھ ایسے لوگ تھے جن کے پاس اپنی ملکیت ثابت کرنے کے لئے دستاویزات موجود نہیں تھے، ہم نے ان سے معلومات اکھٹی کیں اور موجودہ قوانین کے تحت ان پر غور کیا۔ خصوصی اقتصادی زون سے ملکی معیشت بہتر ہوگی، ہم پوری کوشش کریں گے کہ اس منصوبے کیلئے یہاں کے رہائشیوں کی زندگیوں کو خراب نہ کریں”۔
تاہم انھوں نے معاوضہ ادا کرنے کا وعدہ کرنے سے انکار کردیا۔ اُنچاس سالہ یُو کماکا کہنا ہے کہ وہ اپنے گاﺅں کو کسی صورت نہیں چھوڑیں گے۔
یُو کما” ہم یہاں سے نہیں جائیں گے، یہ ہماری اابائی زمین ہے، ماضی میں بھی ہمیں مختلف زمینوں کی وجہ سے اپنی زمینوں سے ہاتھ دھونا پڑے، اب ہم مزید کوئی قربانی نہیں دیں گے۔ ہم یہاں ہی رہیں گے اور ہم اپنی زمینوں کیلئے حکومت کو ٹیکس ادا کرتے رہیں گے”۔