Saving Malaysia’s Mother Tongues – ملائیشین مادری زبانوں کا تحفظ

ملائیشیاءایشیاءمیں مختلف زبانوں کی آماجگاہ سمجھا جاتا ہے، یہاں ایک درجن سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں، تاہم زبانوں کی اس ثقافت کے باوجود ماہرین کو ڈر ہے کہ یہاں کی کئی مقامی زبانیں ختم ہونے کے قریب ہیں۔

پچاس سالہ جو ڈنگ ،پُوچونگ کی رہائشی ہیں۔

جو ڈنگ” میرے تین بچے ہیں اور انکی مادری زبان ہوکِن ہیں، ہوکِن چینی زبان سے نکلی مقامی بولی ہے، میرے دو بیٹوں نے ہو کِن اپنے دادا دادی سے سیکھی، یہی وجہ ہے کہ وہ ابھی تک اس کو بول اور سمجھ سکتے ہیں”۔

وہ بتارہی ہیں کہ ان کی مادری زبان خاتمے کے قریب پہنچ گئی ہیں۔

جو ڈنگ” میری سب سے چھوٹی بچی اپنی مادری زبان نہ تو بول سکتی ہے اور نہ ہی سمجھ سکتی ہے۔ شروع میں ملائیشیا آنے والے چینی شہری منڈا رین زبان سے واقف نہیں تھے، کیونکہ وہ ہوکِن یا کینٹونز بولتے تھے، تاہم لگتا ہے کہ ہماری آئندہ کی نسل اپنی مادری زبانوں سے کم سے کم واقف ہوگی”۔

اقوام متحدہ کا تخمینہ ہے کہ دنیا میں اس وقت بولی جانے والی نصف سے زائد زبانیں 2100ءتک ختم ہوجائیں گی۔ملائیشیاءمیں ایک درجن سے زائد زبانیں بولے جانے کے باوجود یہاں کوئی ایسا حکومتی ادارہ نہیں جو غیر ملائیشین زبانوں کا تحفظ کرسکے۔ ڈاکٹر پیٹریشیا نورا ریگیٹ، ملایا یونیورسٹی کے ایشئن یو رپیئن لینگویجز ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ ہیں، وہ مادری زبانوں کی اہمیت بتارہی ہیں۔

پیٹریشیا” زبان ثقافت سے جڑی ہوتی ہے، زبان کے ذریعے ہی ہمیں اپنی ثقافت کے بارے میں معلوم ہوتا ہے، اور لوگوں کے طرز زندگی کا پتا چلتا ہے۔ مثال کے طور پر بچے جب اسکول جاتے ہیں تو ان کے لئے اپنی زبان میں تعلیم حاصل کرنا زیادہ آسان ہوتا ہے”۔

ڈاکٹر پیٹر،شِیا ایک قبیلے بِدائیو سے تعلق رکھتی ہیں، جن کی بیشتر آبادی ریاست ساراواک میں مقیم ہے، اس قبیلے کی آبادی اب صرف دو لاکھ رہ گئی ہے۔

پیٹرِشِیا” زیادہ سے زیادہ نوجوان بدائیوز اب اپنے گھروں میں اپنی مادری زبان بدائیو نہیں بولتے، وہ اپنے دوستوں کے ساتھ انگریزی یا باہاسا ملائیو زبان میں باتیں کرتے ہیں۔ میرے لئے یہ کہنا تو مشکل ہے کہ بدائیو خطرے کی زد میں ہے، مگر ہم نے کچھ نہ کیا تو اس کا خاتمہ بھی ہوسکتا ہے۔کیونکہ اس وقت تمام دیہات میں انٹرنیٹ اور ٹیلیویژن کی رسائی موجود ہے جس میں دیگر زبانوں پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے”۔

اُنیس سو سترکی دہائی کے بعد سے حکومت مالے کو انگریزی کے متبادل کے طور پر رائج کرنے کی کوشش کررہی ہے، جی وی کاتھا ئی آہ، تامل زبان کی خبروں کے ایڈیٹر ہیں۔

جی وی کاتھا ئی آہ” یہ حکمران جماعت کی پالیسی ہے کہ صرف ایک زبان کو ترجیح دی جائے جو کہ باہا سا ملائے ہے،منڈرین اور تامل زبانوں کو جانا ہوگا، یہی وجہ ہے کہ آج کا تعلیمی نظام اسی پالیسی کے تحت چل رہا ہے، اگر اس پر کامیابی سے عملدرآمد ہوگیا تو تامل اور چینی اسکول ختم ہوجائیں گے”۔

اس ملائیشیا میں 25 لاکھ بھارتی شہری تامل زبان بولتے ہیں، جی وی کا کہنا ہے کہ حکومت کو اپنے ملک کی مقامی زبانوں کا بھی احساس کرنا چاہئے۔

جی وی” ایک قوم اور ایک زبان کا تصور اب ختم ہوچکا ہے، قومی زبان اتحاد کا عنصر ضرور ہے اور ہمیں مالے زبان کی اہمیت کو ماننا چاہئے، مگر اس کے ساتھ ہمیں اپنی منڈرین، تامل اور دیگر زبانوں کی اہمیت کو بھی سمجھنا چاہئے۔ سنگاپور میں مالے قومی زبان ہے، جبکہ انگریزی، تامل اور منڈرین کو سرکاری زبانوں کی حیثیت حاصل ہے۔یہاں ایسا کرنے میں کیا مشکل ہے؟ ہمیں تو کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، مگر لگتا ہے کہ حکمران جماعت کے سیاستدانوں کو اس سے ضرور مسئلہ ہے”۔

گزشتہ سال حکومت نے سرکاری اسکولوں میں سائنس اور ریاضی کے مضامین میں انگریزی کا استعمال روک دیا تھا، وزارت تعلیم کا کہنا تھا کہ اس سے طالبعلموں کو پڑھنے میں زیادہ آسانی ہوگی، تاہم متعدد افراد اسے تعلیمی کی بجائے سیاسی اقدام قرار دیتے ہیں۔

او رینگ ایسلیس ملائشیاءمیں انتہائی قدیم زمانے میں آنے والے قبیلہ مانا جاتا ہے، مگر انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے کارکن رامن باہتُئن کے مطابق یہ قبیلہ بھی اپنی زبان کو بچانے کی مشکل کا شکار ہے۔

رامن باہتُئن” یہاں تک کہ میری نسل کے متعدد بچے بھی مالے یا انگریزی بولنے کو ترجیح دیتے ہیں، جب یہ نوجوان شہروں میں منتقل ہوتے ہیں تو دیگر زبانوں کو اپنا لیتے ہیں، جب آپ مختلف زبانوں کو ملاتے ہیں تو حقیقی زبان غائب ہوجاتی ہے، میں اس بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں کہ اگر کسی زبان کو بولنا چھوڑ دیا جائے تو وہ دو نسلوں کے اندر ہی ختم ہوجاتی ہے”۔

اگرچہ حالیہ برسوں کے دوران اورینگ ایسلیس کے حقوق پر توجہ دی گئی ہے، تاہم اب بھی اس قبیلے کے بہت سے افراد منظم طور پر عظیم مالے ثقافت میں مدغم کئے جارہے ہیں، ڈاکٹر پیٹریشِیا کے مطابق ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں زبانوں کو اہمیت دی جائے۔

پیٹریشیا” اس عالمگیر دنیا میں انگریزی کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے، ہر شخص انگریزی استعمال کرتا ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہم اپنی مادری زبانوں کو پس پشت ڈال دیں۔ اہم ترین چیز اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ بچے کئی زبانوں کو بولنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، یعنی اپنی مادری زبان اور انگریزی وغیرہ، میرے خیال میں تو یہی اس مسئلے کا حل ہے”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *