Korea Marks 60th Anniversary of Cease Fire Agreement – جنگ کوریا کے ساٹھ برس

ستائیس جولائی کو جنگ کوریا کی جنگ بندی کے معاہدے کو ساٹھ برس مکمل ہوگئے ، تاہم اب بھی شمالی و جنوبی کوریا کے درمیان تعلقات زیادہ بہتر نہیں۔حیرت انگیز طور پر اکثر حلقے اس لئے زیادہ پریشان ہیں کہ نوجوان نسل اس جنگ کی میراث کو بھولتے جارہے ہیں، اسی بارے میں سنتے ہیںآج کی رپورٹ

لی جونگ یﺅنگ جنگ کوریا میں اپنے مارے جانے والے ساتھیوں کے نام سرچ کررہے ہیں، 84 سالہ لی جیونگ نے 1950ءکی جنگ کوریا کے بعد جنوبی کورین فوج کیلئے کوئی خدمت سرانجام نہیں دی،اپنی انگریزی کی صلاحیت کی وجہ سے وہ امریکی میرینز کا حصہ بن گئے۔

لی جونگ یﺅنگ”میں کافی خوش قسمت تھا کیونکہ میں کئی بار مرتے مرتے بچا۔ اس کے ساتھ ساتھ میں ان افراد کیلئے افسردہ ہوں جو مارے گئے، خصوصاً وہ جو کورین شہری نہیں تھے، جو کوریا کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے، انہیں کسی نامعلوم مقام سے بلایا گیا تھا، میں ان کے بارے میں بہت افسردہ ہوں”۔

لی جونگ یﺅنگ نے جنرل ڈوگلاس ماکتھر کے ساتھ کیا اور سیﺅل کو شمالی کوریا کے ہاتھوں سے اس معرکے کے بعد نکالا جسے امریکی میرین کی تاریخ میں سب سے خونریز قرار دیا جاتا ہے۔ وہ اس دن کو یاد کرتے ہیں جب 27 جولائی 1953ءکو جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط ہوئے۔

لی”اس وقت میرینز بہت خوش تھے، قتل ہونے کا خطرہ ختم ہوگیا تھا، تاہم اس کے ساتھ ساتھ جنگ بندی سے بدلا کچھ نہیں، بس جنگ سے پہلے کی صورتحال پھر واپس لوٹ آئی”۔

سوال” کیا تقسیم کی صورتحال؟

لی”تو یہ انتہائی دکھ دینے والی صورتحال تھی، ساڑھے تین سال تک ہم لڑ کر قربانیاں دیتے رہے، جو کہ رائیگاں گئیں، سمجھ نہیں آتا کس طرح اپنے جذبات کا اظہار کروں”۔

اگر آپ ساٹھ برس کے دوران خبروں کا جائزہ لیں تو محسوس ہوگا کہ لڑائی ابھی تک رکی نہیں۔

جنگ ابھی تک جاری ہے اور امن معاہدے پر اب تک دستخط نہیں ہوسکے ہیں، تاریخ دان انڈریو سیلمون اس تنازعے کی تاریخ
ا پر روشنی ڈال رہے ہیں۔

سیلمون”جنوبی کوریا میں، جنگ کوریا کو خانہ جنگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، جو شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان ہوئی۔ اس کے مقابلے میں مغربی دنیا کی اکثریت اسے سرد جنگ کی پہلی گرم اور محدود جنگ سمجھتی ہے ۔ یہ وہ پہلی جنگ تھی جسے امریکہ جیتنے میں ناکام رہا”۔

یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں اسے فراموش شدہ جنگ قرار دیا جاتا ہے، تاہم اینڈریو سیلمون کا کہنا ہے کہ چھ دہائیوں کے بعد اس جنگ کی اہمیت جنوبی کورین افراد کیلئے بھی نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔

سیلمون”اس وقت جنوبی کوریا ایک بہت نوجوان ملک ہے، جہاں کے لوگوں کی ساری توجہ آج اور آنے والے کل پر مرکوز ہے، یعنی اس ملک کی ساری توجہ مستقبل پر مرکوز ہے، یہی وجہ ہے کہ متعدد مقامات پر اس جنگ کو لگتا ہے کہ بھلا دیا گیا ہے، گزشتہ پچاس سے ساٹھ سال کے دوران سیاسیات، اقتصادیات اور جمہوریت سمیت معاشرے کے ہر شعبے میں کوریا بہت تیزی سے تبدیل ہوا ہے، اب تو ایسا لگتا ہے کہ وہ جنگ کسی اور ہی ملک میں لڑی گئی تھی”۔

سیول سٹی ہال میں جنگ کوریا کے حوالے سے ایک تصویری نمائش ہورہی ہے، اس میں جنگ کے دوران معذور ہونے والے افراد اور دیگر متاثرین کی کافی تصاویر موجود ہیں، مگر متعدد افراد ان تصاویر کو دیکھنے کیلئے رکتے بھی نہیں۔ 21 سالہ لی ہن پیل کا کہنا ہے کہ اس نے اسکول کے بعد سے اس جنگ کی تصاویر کو نہیں دیکھا ہے۔ یونیورسٹی طالبہ کا کہنا ہے کہ اس کی نسل کے متعدد افراد کیلئے جنگ کوریا اور شمالی کوریا سے دوبارہ اتحاد صرف ان کی زندگیوں سے متعلق حصہ نہیں۔

لی ہن پیول”مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ہم ایسا کیوں نہیں کرپارہے، جن افراد کے رشتے دار شمالی کوریا میں مر رہے ہیں، اگر ہم نے جلد کچھ نہ کیا تو پھر کبھی کچھ نہیں ہوسکے گا”۔

لی کا کہنا ہے کہ اس نے کبھی اپنے دادا وغیرہ سے جنگ کوریا پر بات نہیں، اسی لئے جنگ بندی کے معاہدے کو 60 سال مکمل ہونے پر تقاریب کی اسکی نظر میں کوئی خاص اہمیت نہیں۔

لی “میری نظر میں تو یہ ایک عام دن ہے، مجھے اس میں کوئی خاص فرق نظر نہیں آتا، میڈیا میں کچھ خبریں ضرور ہیں جو میں نے پڑھی بھی ہیں مگر مجھے کوئی خاص فرق محسوس نہیں ہوا”۔

جنوبی کورین حکومت اتحاد کے حوالے سے عوامی عدم دلچسپی سے آگاہ ہے،حالیہ برسوں میں اس حوالے سے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر مہم چلا کر بھی نوجوانوں کے خیالات میں تبدیلی لانے کی کوشش کی گئی، اور صدر پارک گیون ہے نے نصاب کی کتب میں بھی جنگ کوریا کا زیادہ ذکر کرنے پر زور دیا ہے، تاہم تجزیہ کارجسپر کم کے خیال میں اس سے زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔

کم”آج یونیورسٹی کے طالبعلم اور نوجوان نسل اپنے والدین یا ان کے بھی بزرگوں کے مقابلے میں بالکل مختلف کوریا میں رہ رہی ہے، میرے خیال میں لوگوں اب گروپس کی بجائے خود پر زیادہ توجہ دیتے ہیں، ماضی میں لوگ ملک کو زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ میرے خیال میں اب یہ سوچ تبدیل ہوکر انفرادی سطح تک محدود ہوکر رہ گئی ہے”۔

انکا کہنا ہے کہ کورین نوجوان کو زیادہ فکر اچھی تعلیم یا ملازمت کے تلاش کی ہوتی ہے۔

سیﺅلز وار میموریئل کے اندر سابق فوجی لی جون یﺅنگ کا کہنا تھا کہ وہ کورین نوجوانوں کی سخت مسابقتی زندگی پر ان سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، مگران کی بے حسی قابل افسوس ہے۔

لی”یہ بہت افسوسناک ہے کہ پرانی نسل نے قربانیاں دیں، یہ انعام کیلئے نہیں بلکہ ملک کیلئے تھیں، مگر اب تو ان کے بارے میں کسی کو معلوم ہی نہیں، جو مجھے بالکل نامناسب لگتا ہے”۔