India’s Free Food Program Encourages Schooling – بھارتی اسکولوں کی فوڈ اسکیم

بھارت میں بچوں میں تعلیم کا شوق بڑھانے کیلئے اسکولوں میں دوپہر کے کھانے کا انتظام کیا جاتا ہے اور اس کے باعث داخلے کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔،اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

علی الصبح کا وقت ہے اور اترپردیش کے قصبے ورنداوان کے ایک باورچی خانے میں ورکرز کام میں مصروف ہیں، یہ لوگ ڈیڑھ لاکھ سے زائد طالبعلموں کیلئے کھانا بنا رہے ہیں، یہ چاول، سالن اور روٹی پر مشتمل یہ کھانا ضلع بھر کے سولہ سو اسکولوں میں تقسیم کی جائے گا۔تاہم بھارت بھر میں جاری اس اسکیم کو کافی مشکلات کا بھی سامنا ہے، مثال کے طور پر ریاست بہار میں گزشتہ دنوں بیس سے زائد طالبعلم یہ کھانا کھا کر ہلاک ہوگئے، اور اس کھانے میں زہر پایا گیا۔اس کے علاوہ بدانتطامی اور ناقص معیار وغیرہ بھی مسائل کا حصہ ہیں، تاہم ناقدین اس بات سے متفق ہیں کہ جب سے دوپہر کے کھانے کی اسکیم متعارف ہوئی ہے گزشتہ چند برسوں کے دوران بھارتی اسکولوں میں داخلے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، خصوصاً لڑکیوں کے داخلے میں،سنیل شرما شمالی بھارت کے اسکولوں میں کھانا تقسیم کرنے والی انتظامیہ میں شامل ہیں۔

شرما”اس اسکیم کو چلانا ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ یہ بہت بڑی اور وسیع اسکیم ہے۔ہم اسے اچھے طریقے سے چلارہے ہیں تاکہ طالبعلموں کو بہتر معیار کا کھانا فراہم کرسکے۔ یہ اس لئے بھی مددگار ہے کہ اس سے شہریوں میں غذائی کمی کے مسائل پر بھی قابو پانے میں مدد مل رہی ہے، غذائی کمی کی وجہ غربت اور خوراک کی سپلائی میں کمی ہے”۔

ایک سرکاری اسکول کے اندر کلاس رومز بھرے نظر آتے ہیں، یہاں آنے والے تمام بچے ہی خالی پیٹ ہوتے ہیں۔ اوم ویر سنگھ اسکول کے پرنسپل ہیں۔

اوم ویر سنگھ”یہ اسکیم بچوں کیلئے بہت بڑی رحمت ہے، خصوصاً غریب بچوں کیلئے جنھیں کبھی گرم اور صحت بخش خوراک کھانے کا موقع نہیں ملا۔یہ اپنی تعلیم پر اسی وقت صحیح توجہ دے سکتے ہیں جب انہیں قوت بخش کھانا ملے گا، متعدد بچوں کیلئے تو یہ دن بھر کی واحد خوراک ہوتی ہے”۔

دوپہر کے کھانے کے موقع پر طالبعلم انتہائی پرجوش انداز میں قطار میں لگ کر اپنی پلیٹیں لیتے ہیں اور آس پاس بیٹھ جاتے ہیں۔راجواتی آٹھویں جماعت کی طالبہ ہے، اس کے والد مزدور ہیں۔

راجواتی”میرے خیال میں یہ بہت اچھا ہے، جو یہاں میری طرح بھوکے آتے ہیں ان کیلئے یہ کھانا بہت بڑی نعمت ہے، مجھے کھانے کے آخر میں ملنے والے میٹھا بہت پسند ہے”۔

سورج ایک اور طالبعلم ہیں جو گزشتہ چار برس سے اس اسکیم سے مستفید ہورہے ہیں۔

سورج”ان کھانوں میں مرچیں کم ہوتی ہیں اور یہ بہت لذیذ ہوتے ہیں۔ ہمیں گھر پر اس طرح کا کھانا نہیں ملتا اور اسی لئے ہم اسے دعوت سمجھتے ہیں، یہ کھانا ہمیں توانائی دیتا ہے اور پڑھائی پر توجہ میں مدد دیتا ہے”۔

اس اسکیم سے کم خوراکی کے مسئلے پر قابو پانے میں کافی مدد ملی ہے، اقوام متحدہ کی ہیومین ڈویلپمنٹ رپورٹ کے مطابق اس وقت 5 سال سے کم عمر 47 فیصد بھارتی بچے کم خوراکی کا شکار ہیں، اپنی فلاحی اسکیموں کیلئے حکومت نے کئی نجی کمپنیاں اور این جی اوز سے شراکت داری قائم کررکھی ہے۔ اکشے پترا بھارتی حکومت کی سب سے بڑی شراکت دار این جی او ہے، اس این جی او کے تحت آٹھ ریاستوں میں سترہ باورچی خانے کام کررہے ہیں، نارا سیمہا داسا اترپردیش میں اس کام کی نگرانی کرتے ہیں۔

داسا”جب ہم نے دیہی علاقوں میں اس پروگرام کو شروع کیا، تو یہاں اونچی اور نچلی ذات کے طالبعلموں کا بھی مسئلہ موجود تھا، ان بچوں کو نوکروں کی طرح استعمال کیا جاتا تھا، مگر اب کافی وقت گزر جانے کے بعد ہم دیکھ رہے ہیں کہ تمام بچے اکھٹے بیٹھ رہے ہیں، ذات پات کی تمام زنجیریں ٹوٹ چکی ہیں، یہ دوپہر کے کھانے کی اسکیم کا بہت بڑا کارنامہ ہے”۔

وہ مزید فوائد بھی بتارہے ہیں۔

داسا”ہم نے ایک ایجنسی سے غیرجانبدار سروے بھی کرایا ہے، جس میں دوپہر کے کھانے کے باعث طالبعلموں کی کارکردگی میں پڑنے والے فرق کا جائزہ لیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ اس میں بہتری آئی ہے اور اسکولوں میں حاضری اور داخلے کی شرح بھی بڑھی ہے”۔