No Room for Tainted Politicians in India – بھارتی برے سیاستدانوں کی شامت

بھارتی سپریم کورٹ نے حال ہی میں تاریخ ساز فیصلہ سناتے ہوئے اس قانون کو کالعدم قرار دیدیا ہے جس کے تحت فوجداری مقدمات میں ملوث سیاستدانوں کو اپنے عہدوں پر رہنے کا اختیار مل جاتا تھا، اس فیصلے کا کافی خیرمقدم کیا جارہا ہے تاہم سیاسی جماعتیں ناخوش ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیںکی آج کی رپورٹ

ستاسی سالہ للی تھامس نے آٹھ برس قبل خراب سیاستدانوں کو انتخابات میں کھڑا ہونے سے روکنے کیلئے درخواست دائر کی تھی۔

للی تھامس”عدلیہ کو کسی بھی صورت جرائم پیشہ اور کرپٹ پس منطر رکھنے والے افراد کو عوامی نمائندگی کا اہل قرار نہیں دینا چاہئے، ہمیں سمجھنا چاہئے کہ کرپشن، جرائم پیشہ عناصر، کمزوریاں اور دیگر خرابیاں کو سختی سے مسترد کیا جانا چاہئے، انتطامیہ کی صفائی کیلئے سپریم کورٹ نے تاریخ ساز فیصلہ سنایا ہے”۔

للی تھامس کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کی سیاست میں آمد ایک خطرناک رجحان ہے۔

للی تھامس”ہمیں اپنی جمہوریت کا انداز بدلنا ہوگا، یہ براہ راست انتخابات، یہ کالا دھن، غیر مناسط فطرت کے افراد کا اہم ذمہ دار پوزیشنز پر قبضہ اور غیر مناسب افراد کا اقتدار میں آنا ہمارے ملک کو کمزور اور تقسیم کررہا ہے”۔

اس وقت ریاستی اسمبلیوں اور پارلیمنٹ کے ایک چوتھائی سے زائد اراکین کو فوجداری مقدمات کا سامنا ہے، ایک این جی او ایسوسی ایشن ٓد ڈیموکریٹک ریفارمز کے مطابق ایک سو سے زائد اراکین پر سنگین جرائم جیسے قتل اور عصمت دری کے الزامات ہیں۔جگ دیپ چھوکر اس این جی او کے سربراہ ہیں۔

جگ دیپ”یہ لوگ ہمارے لئے تو قوانین بناتے ہیں مگر خود ان پر عمل کرنے کیلئے تیار نہیں، انکا خیال ہے کہ وہ قوانین سے بالاتر ہیں، تمام سیاسی جماعتیں انتخابی اصلاحات کے خلاف متحد ہیں”۔

عدالتی حکم میں ریپریسینٹیشن آف پیپلز ایکٹ کو کالعدم قرار دیا گیا، جس کے تحت سیاستدانوں کو ماتحت عدلیہ سے ملنے والے سزا کیخلاف اپیل کے فیصلے تک انتخابات میں حصہ لینے یا عوامی عہدہ رکھنے کا حق حاصل تھا، مگر اب وہ کسی بھی سطح کی عدالتی سزا کے بعد اپنے عہدے یا انتخابات میں لڑنے کیلئے نااہل قرار پائے گئے۔مانیش ساسودیاکرپشن کیخلاف کام کرنے والے ایک رضاکار ہیں۔

مانیش”سپریم کورٹ نے اس قانون میں متعارف کرائے گئے امتیازی روایت کو ختم کردیا ہے، یہ قانون منتخب نمائندے کو استثنیٰ فراہم کرتا تھا اور وہ خود کو بھگوان کے برابر سمجھنے لگتے تھے، اور سوچتے تھے کہ وہ جو مرضی کرسکتے ہیں۔ اب انہیں عام شہریوں کے برابر کھڑا کردیا گیا ہے اور انہیں اسی طریقہ کار اور نظام کی خرابیوں کا سامنا کرنا پڑے گا جس کا سامنا عام افراد روزانہ کرتے ہیں، اس طرح انہیں عوام کے درد کا احساس ہوسکے گا”۔

تاہم کانگریس اور بی جے پی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے قانون کے ممکنہ غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کای ہے۔ میناکشی لیکھی بی جے پی کی ترجمان ہیں۔

میناکشی”اس قانون کا سیاستدانوں اور قانون کی اطاعت کرنے والے افراد کیخلاف غلط کافی تشویشناک معاملہ ہے، ہمیں اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کیونکہ اس فیصلے پر عملدرآمد کا غلط استعمال بھی جائز قرار دیدیا گیا ہے، اور اپوزیشن جماعتوں کو ہراساں کرنے کیلئے بھی اسے استعمال کیا جاسکتا ہے”۔

عدلیہ سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد بھی سپریم کورٹ کے فیصلے پر خوش نہیں، سپریم کورٹ کے سابق جج مارکنڈے کتجو کے خیال میں عدالت نے اس فیصلے میں اپنے اختیار سے تجاوز کیا ہے۔

کتجو”قانون سازی عدلیہ کا کام نہیں، یہ قانون سازوں کا کام ہے، مگر اس فیصلے میں عدالت نے اپنی حد سے باہر جاکر خود ایک قانون بنادیا ہے۔ عدالتیں قانون کی وضاحت اور عملدرآمد کیلئے ہوتی ہیں، انہیں بنانے کیلئے نہیں”۔

سنیئر صحافی گر دیپ سنگھ کا کہنا ہے اس سے سیاستدانوں کے حق اپیل کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

گردیپ”متعدد فیصلے اپیل کے مرحلے میں واپس ہوجاتے ہیں، تاہم اگر اب عوامی نمائندے کو ماتحت عدلیہ سے سزا ہوئی تو وہ نااہل قرار پاجائے گا، اور پھر کچھ عرصے بعد اعلیٰ عدلیہ میں وہ بری ہوجاتا ہے تو پھر؟ ہم کیا کرنا چاہتے ہیں؟ اس معاملے میں انفرادی سطح پر حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہورہی ، بلکہ ان افراد کی بھی حق تلفی ہورہی ہے جن اپنے نمائندوں کو چنتے ہیں”۔

کچھ سیاستدانوں کے خیال میں عدالتی فیصلے کا احترام کیا جانا چاہئے اور اس سے آئندہ برس عام انتخابات سے قبل اصلاحات کا موقع بھی ملے گا۔ امرجیت کور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے سنیئر رہنماءہیں۔

امرجیت کور”الیکشن کمیشن نے بھی کافی کوششیں کیں، مشاورت کی، اور مختلف معاملات پر تجاویز پیش کیں، مگر عملی طور پر کچھ نہ ہوسکا۔ آج عدالتی فیصلے کی بدولت کم از کم ہم اس معاملے پر بحث تو کررہے ہیں۔ یہ بحث ملک بھر میں جاری ہے، اگر عدالتیں مداخلت کرتی ہیں، تو سیاسی جماعتوں کو اسے تسلیم کرتے ہوئے اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہئے”۔