Could Vietnam Have Its Own Silicon Valley? – ویت نام سیلیکون ویلی

ویت نام اپنے نئے اقتصادی تجربے سلیکان ویلی ویتنام کے حوالے سے کافی پرجوش ہے، اقتصادی سست روی کے باعث ویت نام اپنی معیشت کو دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کے بانی اسٹیو جابز نے ویت نام میں متعدد افراد کو متاثر کیا ہے خصوصاً وہ لوگ جو ٹیکنالوجی کے میدان میں نام بنانا چاہتے ہیں۔

اب حکومت کو توقع ہے کہ اسٹیو جابس سے وہ بھی سرمایہ کاروں کو متاثر کرنے میں کامیاب ہوسکے گی۔ویت نام نے حال ہی میں دو بڑے منصوبے کا اعلان کیا ہے، جن میں سے ایک سلیکان ویلی ویتنام اور دوسرا ایک سو ملین ڈالرز مالیت کا فنڈ ہے۔ یہ دونوں منصوبے ملکی ترقی کیلئے اہم قرار دیئے جارہے ہیں۔ نگو ین ہے ٹیکنالوجی کی دنیا سے حکومتی تعلق جوڑنے میں مدد فراہم کررہے ہیں۔

ہے”اس منصوبے پر غور کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اب حکومت کو اس بات کا احساس ہوگیا ہے کہ موجودہ دور ٹیکنالوجی کا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ ویت نام میں ٹیکنالوجی کے فروغ کیلئے کوشاں ہے”۔

اب تک اس منصوبے کی زیادہ تفصیلات تو سامنے نہیں آئیں مگر اس کیلئے مختص فنڈز کو ہنو ئی اور ہو چھی منہ سٹی میں خرچ کیا جارہا ہے۔

ہے”منصوبے کے تحت ٹیکنالوجی کمپنیوں کو شروع سے ہی تعاون فراہم کیا جائے گا، ان کے کاروباری خیالات کو عملی شکل دی جائے گی اور پھر مارکیٹ میں اس کی آزمائش کرتے ہوئے مصنوعات متعارف کرائی جائیں گی۔ اس کے بعد اگلے مرحلے کا آغاز ہوگا”۔

کمیونسٹ ملک سمجھے جانے والے ویت نام میں حکومتی تعاون کے بغیر کامیابی مشکل سمجھی جاتی ہے، متعدد حلقوں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی کامیابی کیلئے موثر قوانین کی ضرورت ہوگی،کرس ہروے ایک انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کمپنی آئی ٹی وائس کے سی ای او ہیں۔

کرس”میں ہر اس حکومتی اقدام کی حمایت کروں گا جس کے ذریعے لائسنس کا حصول آسان ہوسکے، یا میرے لئے حکومت کو ٹیکس دینے کا طریقہ کار آسان ہوسکے، کاغذی کام میں سہولت ہو، اگر انٹرنیٹ کمپنیوں کیلئے خصوصی پروگرام موجود ہے تو اس طرح کے تیز رفتار پروگرام سے ہمارے لئے لائسنس کا حصول آسان ہوسکے گا اور یہ امر کاروبار کیلئے بہترین ثابت ہوگا”۔

ویت نام جنوبی کوریا، ملائیشیا اور سنگاپور وغیرہ کی مثالوں کو دیکھ رہا ہے جہاں حکومتوں نے اس طرح کے منصوبوں کیلئے کروڑوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کی، تاہم ویت نام کوایک اضافی فائدہ بھی حاصل ہے۔

ویت نام کی پچاس فیصد سے زائد آبادی کی عمر تیس سال سے کم ہے، جبکہ ایک تہائی افراد کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے۔ اسی طرح ایک سو بیس ملین افراد موبائل فونز استعمال کرتے ہیں، انہ منہ ڈوایک مقبول ٹیکنالوجی ویب سائٹ کے ایڈیٹر ہیں۔

انہ منہ”ابھی ہم نئی نسل کیساتھ تجربات کررہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ کافی رفتار دیکھنے میں آرہی ہے، متعدد نوجوان اس شعبے میں آرہے ہیں اور تجربہ کار افراد بھی اس شعبے کا حصہ بنے ہوئے ہیں، تو اس حوالے سے حاصل مواقع ماضی میں کبھی حاصل نہیں تھے”۔

ویت نام نے اس منصوبے کا آغاز اس لئے کیا کیونکہ اقتصادی شرح نمو میں ریکارڈ کمی دیکھنے میں آئی ہے، مگر انفارمیشن ٹیکنالوجی کا شعبہ ابھی بھی کافی مضبوط ہے۔کرس ہیروے اس حوالے سے بتارہے ہیں۔

کرس”انفارمیشن ٹیکنالوجی ویت نام کا بہترین شعبہ ہے، اس کیلئے بہت زیادہ سرمائے کی ضرورت نہیں، آپ کو بڑے کارخانے کی ضرورت نہیں ہوتی، یہ شفاف شعبہ ہے جس سے آلودگی بھی نہیں ہوتی، جبکہ تنخواہیں کافی زیادہ ہیں، اہم بات یہ ہے کہ دنیا کی پوری توجہ ہی اس شعبے پر مرکوز ہے”۔

نگو ین تھی تھُو ٹرام ٹیکنالوجی ماہر ہیں، انکا کہنا ہے کہ اس شعبے کو پرجوش کارکنوں کا ساتھ حاصل ہے۔

تھی تھُو”میں نے دیکھا ہے کہ اس شعبے میں کام کیلئے کافی چیلنجنگ مواقع موجود ہیں، میں نے اس ماحول سے ہی کافی کچھ سیکھا ہے، میرے خیال میں ہماری کمپنی اسقوآر ایک اچھی کمپنی ہے جہاں مجھے کافی کچھ سیکھنے کا موقع ملا”۔

اسقوآئر، سیگون ہب کو دفتر کے طور پر استعمال کررہی ہے، ہو اینگ ٹران قو یئنگ کھائی کا کہنا ہے کہ سیگون ہب کافی موثر تخلیق ثابت ہوئی ہے۔

ہو اینگ”ہوسکتا ہے کہ آپ گھر پر کام کررہے ہوں یا کسی کافی شاپ پر، مگر اس حوالے سے کمیونٹی کی کمی کا سامنا ہے۔ تو جب آپ یہاں آتے ہیں تو آپ کا عزم تمام کمپنیوں کیساتھ ملکر کام کرنے کا ہوتا ہے، آپ تمام وسائل اور معلومات کو شیئر کرسکتے ہیں، اور ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر کامیابی حاسل کرسکتے ہیں”۔