(Indonesia’s Aceh cracks down on punks)انڈونیشین صوبے آچے میں پنک نوجوانوں کے خلاف مہم

انڈونیشیاءکے علاقے Aceh میں گزشتہ برس موسیقی کے رسیا نوجوانوں جنھیں Punk کا نام دیا گیا ہے، کہ خلاف کریک ڈاﺅن کیا گیا تھا، جس کے دوران 65 نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم موسیقی کے رسیا افراد کے خلاف یہ مہم صرف کنسرٹ ہال تک ہی محدود نہیں۔

انڈونیشیاءکے شمال میں واقع Aceh میں اگر احتیاط سے وقت نہ گزارا جائے تو پھر آپ کو شرعی قوانین پر عملدرآمد کرنے والی پولیس کسی بھی وقت پکڑ سکتی ہے۔ گزشتہ دنوں ہی ایک جوڑے کو گرفتار کرکے ان پر عوام کے سامنے نازیبا حرکات کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔اس جوڑے کو نو بار چھڑیوں سے مارا گیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس جوڑے کو نازیبا حرکات پر نہیں بلکہ موسیقی کا رسیا یا Punk ہونے کے باعث پکڑا گیا تھا۔ Aceh میں اس وقت انسداد punk مہم چل رہی ہے، جس کے دوران انڈونیشین عوام کی زندگی کے چند ضروری عناصر بھی پکڑ میں آرہے ہیں۔اس مہم کو کچھ حلقے انتہاپسندی قرار دیتے ہیں تو کچھ کی نظر میں یہ نافرمان نوجوانوں کو سبق سیکھانے کے لئے بہترین حکمت عملی ہے۔انڈونیشین دارالحکومت جکارتہ میں ایک میوزک بینڈ Citizen Useless اس مہم کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا ہے۔انسداد punk مہم کا آغاز گزشتہ سال دسمبر میں اس وقت ہوا ، جب Aceh کے دارالحکومت Banda Aceh میں ایک موسیقی کے پروگرام کے دوران پولیس نے چھاپہ مارا۔

اس چھاپے کے دوران نوجوانوں کو پکڑ کر زبردستی ٹھنڈے فرش پر بٹھایا گیا، جس کے بعد ایک پولیس اہلکار نے ایک چھوٹے سے پلاسٹک کے بیگ کو اٹھا کر نعرہ لگایا کہ اس میں منشیات ہے۔

چھاپہ مارے والے پولیس ٹیم کے سربراہ نے اس موقع پر کہا کہ ہمیں کہا گیا تھا کہ یہ پروگرام یتیم بچوں کی فلاح بہبود کیلئے کیا جارہا ہے، مگر یہ جھوٹ تھا۔ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ یہ Punk کنسرٹ تھا جس کی ہم نے اجازت نہیںدی تھی۔اس چھاپے کی تصاویر ویب سائٹ فیس بک پر بھی شائع ہوئیں جس سے عوامی سطح پر خوب احتجاج ہوا۔

ملک بھر میں اس چھاپے کے خلاف Solidaritas Punk Indonesia کے بینر تلے احتجاجی مظاہرے ہوئے۔یہاں تک کہ اس کی بازگشت قبضہ کرو لندن مہم کے دوران بھی سنی گئی۔اس مظاہرے میں شامل ایک شخص اپنے خیالات کا اظہار کررہا ہے۔

OCCUPY LONDON PROTESTER اگرہم زندہ انسان ہیں، تو انڈونیشین Punk کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے سب ایک دو تین کی گنتی گنے”۔

Aceh پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ یہ نوجوان گمراہ ہیں اور اپنے بے ہودہ لباس کے ذریعے یہ Aceh میں شرعی قوانین کا مذاق اڑاتے ہیں۔دسمبر میں پولیس نے ان نوجوانوں کے خلاف کارروائی کے دوران ٹی وی کیمرہ مینوں کو بھی مدعو کرتے ہوئے پکڑے جانے والے نوجوانوں کے سروں کے بال صاف کئے، اور انہیں ایک ہفتے تک بغیر کسی الزام کے جیل میں بند رکھا۔

اس گیت میں کہا جارہا ہے کہ انڈونیشیاءایک جدت پسند ملک ہے، اور جلد یہ Punk قانون کے دائرے میں رہ کر اپنی جدوجہد میں کامیابی حاصل کریں گے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *