(Indonesian School Using Recyclable Waste to Pay for School Fees)انڈونیشن اسکول

انڈونیشین دارالحکومت جکارتہ کی مقامی حکومت نے کچرے کو تلف کرنے کیلئے آئندہ برس دو نئے علاقے مختص کرنیکا فیصلہ کیا ہے،ان علاقوں میں کچرے کو دوبارہ قابل استعمال بنانے پر مقامی رہائشیوں کو پیسے بھی ملیں گے۔اس منصوبے سے کچرے سے حاصل ہونے والی رقم سے طالبعلموں کی اسکول فیس ادا کی جائے گی، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

پانچ سالہ عرفان کھیل رہا ہے، جبکہ اسکی ماں یولیاناقریب بیٹھی ری سائیکل کرنے کیلئے کچرا الٹ پلٹ کررہی ہے، یعنی دودھ کے ڈبے یا منرل واٹر کی پلاسٹک بوتلیں وغیرہ۔

گھریلو خاتون یولیانااس کچرے کو قابل استعمال بنانے سے حاصل ہونیوالی رقم اپنے بچے کے اسکول کی فیس کیلئے استعمال کرے گی۔

یولیانا”میں صرف دودھ کے کارٹن یا پلاسٹک کی بوتلیں وغیرہ جمع کرتی ہوں، پھر جب اسکول فیس کا وقت آتا ہے تو میں یہ کارآمد کچرا اسکول میں دے آتی ہوں”۔

عرفان اس وقت مغربی جاوا کے علاقے دیپک کے ایک نجی اسکول میں زیرتعلیم ہے، اس کی والدہ یولیا ناکو اس وقت اطمینان کا احساس ہوا جب گزشتہ سال اسکول کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ غریب خاندانوں سے تعلق رکھنے والے بچے اپنی فیس قابل استعمال کچرے کی شکل میں بھی ادا کرسکتے ہیں۔ عرفان کے والد ایک سرکاری اسکول میں عارضی ملازم ہیں، جبکہ یولیاناکپڑے دھو کر روزگار حاصل کرتی ہے۔

یولیانا”میرے شوہر ہر ماہ اسکول کی فیس ادا نہیں کرسکتے، کئی بار تو ہم تین تین ماہ تک فیس جمع نہیں کراپاتے تھے، اگر ہم اس سے زیادہ تاخیر کرتے تو میرے بیٹے کو مشکل ہوسکتی تھی”۔

اسکول کے دن کے آغاز پر چالیس بچے اپنے اسباق پڑھنے کیلئے تیار ہیں۔

آج بچوں کو پلاسٹک کی بوتلوں اور ڈھکنوں وغیرہ کا استعمال سیکھایا جارہا ہے۔کی کی اس اسکول میں پڑھاتی ہیں۔

کی کی “ہم ڈھکنوںکے ذریعے ایک گیم تیار کرتے ہیں، یعنی حروف تہجی یا ریاضی کے ہندسے ، پھول، گاڑیاں اور دیگر چیزیں، اس طرح ہم ان ڈھکنوں سے کھیل کے ذریعے تعلیم دیتے ہیں”۔

اب بچے گھر جانے کیلئے تیار ہیں، تاہم ان کے اساتذہ نے ایک اور ٹاسک تیار کیا ہوا۔

یہ کام ہے قابل استعمال کچرے کو جمع کرنے کا، جس کے بعد اسے کچرے خریدنے والے افراد کو فروخت کردیا جائے گا۔

آنی “ہم یہ کچرا الگ کرتے ہیں، اور ان میں سے پلاسٹک کی بوتلیں اور دودھ کے کارٹن الگ کرلیتے ہیں”۔

اسکول کی فیس قابل استعمال کچرے کے ذریعے ادا کرنیکا خیال محمودہ چاہواتی نے پیش کیا، وہ ایک اسکول کی مالکہ ہیں، اور وہ ہر بچے کے لیے تعلیم کا حصول یقینی بنانا چاہتی ہیں۔

محمودہ چاہواتی”ہمیں اسکولوں میں بچوں کی رسائی کو یقینی بنانے کے راستے ڈھونڈنے ہوں گے، اس طرح غریب خاندانوں کے بچے تعلیمی اخراجات کا بوجھ اٹھاسکیں گے اور انہیں بھاری فیسیں بھی ادا نہیں کرنا پڑیں گی۔ ہم اس کچرے کو استعمال کرتے ہیں کیونکہ ہر گھرمیں کچرا پیدا ہوتا ہے خصوصاً قابل استعمال کچرا، جو کہ آمدنی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ نامیاتی کچرا بھی فائدہ مند ہوتا ہے، مگر اس کیلئے کافی کام کرنا پڑتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم اسکولوں میں صرف قابل استعمال کچرے کو ترجیح دیتے ہیں”۔

اساتذہ میں شامل آنی کا کہنا ہے کہ روزانہ والدین سے اسکول کو چار کلوگرام کچرا مل رہا ہے۔

آنی”غیرنامیاتی کچرا جمع کرنا بہت آسان ہے کیونکہ ہر گھر میں ہی ایسا کچرا پیدا ہوتا ہے۔ ہم امیر طالبعلموں سے پوری فیس لیتے ہیں، جبکہ دیگر بچوں کیلئے رقم کچرا فروخت کرکے حاصل کی جاتی ہے”۔

محمودہ کے شوہرایریانتو اسکول کے فیصلے کی حمایت کرتے ہیں۔

ایریانتو”اسکولوں کو بہت زیادہ مہنگا نہیں ہونا چاہئے، زیادہ ضروری تعلیمی معیار ہے، اسکول کا معیار فیس سے طے نہیں ہوتا بلکہ اس کا انحصار اساتذہ کی تخلیقی سوچ پر ہوتا ہے”۔