Vietnam Lays Out Roadmap to Curb Traffic Pollutionویت نام ٹریفک مسئلہ

ایشیاءکے متعدد ممالک کی طرح ویت نام کو بھی گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث ہوائی آلودگی کا مسئلہ درپیش ہے، مگر اب اس مسئلے پر قابل پانے کیلئے ویت نام نے ایک منصوبے پر کام شروع کیا ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

ویت نام میں سڑکوں کو عبور کرنا بھی ایک فن سمجھا جاتا ہے، یہاں آنے والے سیاح سب سے پہلے اسی چیز کو نوٹس کرتے ہیں، اور تمام موٹرسائیکلوں کو پیچھے چھوڑ کر کسی سڑک کو پار کرنا راہ گیر کی بہت بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔

مگر بہت جلد یہ مسئلہ کافی حد تک کم ہوجائے گا، حکومت نے ٹریفک کی روک تھام کیلئے نئے اقدامات متعارف کرائے ہیں تاکہ آلودگی کے مسئلے پر قابو پایا جاسکے۔ ٹرنھ وان چنھ ہو چی مین سٹی کی ٹرانسپورٹ یونیورسٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔

ٹرنھ”ترقی کیلئے ہمیں سب سے پہلے راہ گیروں کیلئے مختص جگہ کو یقینی بنانا چاہئے، تاکہ لوگ آرام سے چل پھرسکیں، دوسری چیز یہ کہ ترقیاتی منصوبوں اور عوامی اصلاحات پر عملدرآمد منظم تحقیق کے بعد کیا جانا چاہئے، اور تیسری بات یہ ہے کہ ہمیں برقی گاڑیوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنا چاہئے”۔

حکام کا منصوبہ ہے کہ مصروف علاقوں میں ڈرائیورز پر فیس عائد کی جائے، جبکہ اسکولوں اور دفاتر کے اوقات میں تبدیلی لائی جائے۔ یہ منصوبہ آلودگی میں کمی لانے کیلئے ہے، حالانکہ یہ مسئلہ ویت نام میں اتنا بھی زیادہ بڑا نہیں جتنا چین میں ہے۔آکیرا ہاسومی ویت نام میںجاپان انٹرنیشنل کنسلٹنٹ فار ٹرانسپورٹیشن کی نمائندگی کرتے ہیں۔

آکیرا”اگر ہوائی آلودگی کی شرح اکثر شہروں میں ایک جیسی ہوجائے، تو میں کہہ سکتا ہوں کہ ویت نام میں اس ہوائی آلودگی کی وجہ کیا ہے، اس کی ہے جہ یہ ہے کہ یہاں اسی سے نوے فیصد لوگ دفاتر وغیرہ جانے کیلئے موٹرسائیکلوں کا استعمال کرتے ہیں”۔

اگر لوگوں کے کاموں کے اوقات مختلف ہوں تو مصروف اوقات میں سڑکوں پر زیادہ رش دیکھنے میں نہ آئے،ٹرن وان چن اس بارے میں بتارہے ہیں۔

ٹرن وان چن”میرے خیال میں اسکولوں اور دفتری اوقات کو تبدیل کیا جانا چاہئے، تاکہ صبح کے وقت سڑکوں پر ٹریفک کو کم کیا جاسکے، اس سے شہریوں کی روزمرہ زندگیوں پر کافی اثر پڑے گا، مگر اس سے پہلے میں چاہتا ہوں کہ ہم ایشیاءاور یورپ کے مختلف ممالک میں جاکر اس طرح کے حالات میں اپنائے گئے منصوبوں کا جائزہ لیں”۔

ہر سال ہزاروں ویت نامی شہری ٹریفک حادثات میں مارے جاتے ہیں، جبکہ متعدد زخمی ہوکر گھروں میں پڑجاتے ہیں۔ گوان نو تھیچ ترک ایک اسٹوڈنٹ گروپ آر بی ایکس کی سربراہ ہیں۔

گوان نو تھیچ ترک “میں اسکول جانے کیلئے سائیکل استعمال کرتی تھی، مجھے سائیکل چلانا بہت پسند ہے اور یہ ایک ورزش بھی ہے۔ مگر مجھے دمہ کا مرض لاحق ہوگیا جس کے باعث مجھے اس سواری کو چھوڑنا پڑا، میں ماسک نہیں لگاتی تھی اس لئے مجھے بہت زیادہ دھواں نگلنا پڑتا تھا، اب میں آلودگی کے باعث مزید سائیکل نہیں چلاسکتی اس لئے میں نے موٹرسائیکل لے لی ہے”۔

اگر آلودگی کی شرح کم ہوجائے تو لوگ پھر سے سائیکلیں چلانا پسند کریں گے، ایک شہری ڈو کوانگ ہوئی تو پیدل چلنے سے محبت کرتے ہیں۔

ڈو کوانگ ہوئی “اگر اندرون شہر کم گاڑیاں ہو اور وہاں ٹریفک جام نہ ہوتو سیاح وہاں آرام سے گھوم پھرسکیں گے۔ مثال کے طور پر اگر آپ گوان ہوئی یالی لوئی اسٹریٹ میں مصروف اوقات میں گھومیں تو وہاں بہت زیادہ آلودگی اور شور ہوتا ہے، لوگوںکے لیے سڑک پار کرنا بھی مسئلہ بن جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ میرے غیرملکی دوستوں نے مجھے بتایا کہ وہ ویت نام آکر بہت خوفزدہ ہوگئے ہیں”۔

ڈو کوانگ ہوئی کا کہنا ہے کہ وہ ہنسی خوشی موٹرسائیکل چھوڑنے کیلئے تیار ہے اگر نیا میٹرو سسٹم کا منصوبہ تیار کرلیا جائے۔ آکیرا ہاسومی جاپان کے معروف سب وے نظام کا تجربہ ویت نام میں کرنے پر زور دیتے ہیں۔

آکیرا ہاسومی”میٹرو سسٹم کی تعمیر سے سب مسائل حل نہیں ہوں گے، اس حوالے سے مختلف پالیسیوں کی ضرورت ہے، اگر آپ میٹر سسٹم فراہم کردیں مگر لوگ پھر بھی اپنی گاڑیاں استعمال کرتے رہے تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ تو اس وقت ہمیں نجی گاڑیوں پر کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے اور لوگوں میں اس خیال کو اجاگر کیا جائے کہ وہ پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں، تاہم جب تک آپ انفراسٹرکچر تعمیر نہیں کرتے اس وقت تک لوگوں کے پاس کوئی متبادل نہیں ہوگا، اور عوامی شکایات برقرار رہیں گی”۔