Fear of HIV/AIDS Stigma in Little Myanmar -برمی تارکین وطن میں ایڈز

برما میں معاشرتی بدنامی اور تعصب کے باعث بیشتر افراد ایچ آئی وی ایڈز کا ٹیسٹ کرانے سے گھبراتے ہیں، جس کے باعث اس مہلک مرض کا علاج نہیں ہوپاتا۔خصوصاً تھائی لینڈ میں موجود برمی تارکین وطن کو اس حوالے سے کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

تھائی لینڈ کی ماہی گیری کی صنعت میں لاکھوں برمی تارکین وطن کام کررہے ہیں، تاہم انہیں کم تنخواہوں میں انتہائی خطرناک حالات میں کام کرنا پڑتا ہے۔ ان میں سے بیشتر چھوٹے برما کے نام سے مشہور علاقے مہاچا ئی میں کام کرتے ہیں۔

بندرگاہ کے بیشتر کارکنوں کو روزانہ چھ ڈالرز ملتے ہیں، تاہم انہیں متعدد رکاوٹوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، ایک تہائی افراد کی رجسٹریشن نہیں ہوئی، جس کی وجہ سے وہ حکام اور جرائم پیشہ عناصر کے ہاتھوں ہراساں ہوتے رہتے ہیں، یہ لوگ زیادہ تعلیم یافتہ نہیں اور ایک دن گھر واپس جانے کا ارادہ رکھتے ہیں، مگر یہاں انہیں برما کے مقابلے میں شریک حیات کے انتخاب کی مکمل آزادی حاصل ہے، جس کی وجہ سے یہ ایچ آئی وی کا شکار بھی ہورہے ہیں۔زیار لِین،ایجو کیشن اینڈ ڈیویلیمینٹ نامی این جی او سے تعلق رکھتے ہیں۔

زیار”ایچ آئی وی کے بیشتر برمی متاثرین کی عمریں پندرہ سے پچیس سال کے درمیان ہیں، جس کی دو وجوہات ہیں، ایک تو یہ کہ آزادی ملنے کے باعث یہ بے راہ روی کا شکار ہورہے ہیں، دوسرا یہ کہ انہیں ایڈز کے حوالے سے زیادہ معلومات حاصل نہیں”۔

ایک این جی او رکس تھائی کے تحت برمی تارکین وطن میں ایڈز کی روک تھام اور علاج کیلئے یہ مرکز چلایا جارہا ہے، 42 سالہ تِن تِن سات سال قبل اس وقت اس مرکز میں آئیں جب انکے شوہر کا ایڈز کے باعث انتقال ہوگیا۔

تِن تِن اے”میں نے ایچ آئی وی کے بارے میں سنا تو ہوا تھا مگر مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کی روک تھام کیسے ممکن ہے”۔

اس مرکز میں برمی تارکین وطن کو ایڈز سے بچاﺅ کے حوالے سے تعلیم دی جاتی ہے، اس کے علاوہ انہیں طبی مشاورت اور دیگر خدمات تک رسائی بھی فراہم کی جاتی ہے۔ نیوے اس مرکز کی طبی مشیر ہیں۔

نیوے”ان لوگوں کو تعلیم دیئے جانیکی ضرورت ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم ایچ آئی وی پھیلنے کے حوالے سے انہیں احتیاطوں اور دیگر معلومات فراہم کرتے ہیں”۔

اس محفوظ مرکز کے باوجود بیشتر برمی ورکرز کو ایچ آئی وی کے انکشاف پر معاشرتی بدنامی کا خطرہ لاحق ہوتا ہے، ڈاکٹر کھن تھینٹ زن،رکس تھا ئی فاونڈیشن کی طبی مشیر ہیں۔

کھن”جب ان میں ایچ آئی وی پازیٹو کی رپورٹ آتی ہے تو وہ اپنے اس مرض سے رشتے داروں، شریک حیات یا قریبی دوستوں کو آگاہ کرنے سے گریز کرتے ہیں، یہی وجہ ہے جب وہ بہت زیادہ بیمار ہوجاتے ہیں تو ان کا خیال رکھنے والا کوئی ہوتا ہی نہیں، اس وقت وہ ہمارے مرکز میں آتے ہیں، ان لوگوں کو اپنی برادری میں تعصب کا خطرہ ہوتا ہے”۔