Indonesia people smuggling conference – انڈونشین انسانی اسمگلنگ کانفرنس

ایک عالمی کانفرنس میں انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے انڈونیشیاءکی کوششوں کو سراہا گیا، جکارتہ میں ہونے والی کانفرنس میں بارہ ممالک کے نمائندگان نے شرکت کی، اسی بارے میں سنتے ہیںآج کی رپورٹ

لاکھوں پناہ مختلف ممالک جیسے افغانستان اور برما سے انڈونیشیاءاور ملائیشیاءوغیرہ میں پہنچ کر دیگر ممالک جیسے آسٹریلیا میں آبادکاری کا برسوں انتظار کرتے ہیں، ان میں متعدد تنگ آکر اپنی زندگیاں خطرے میں ڈال کر بحرہند میں کشتیوں کے ذریعے آسٹریلیا پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ٹونی برکے، آسٹریلیا کے امیگریشن وزیر ہیں۔

ٹونی” میں وہاں جانے کیلئے سب کچھ کروں گا، یہاں ایسے بھی لوگ ہیں جو کسی کشتی میں سوار ہوکر یہ خطرہ مول لے چکے ہیں اور ان کے سفر کے دوران کئی افراد ڈوب بھی گئے، مگر وہ سب جو آسٹریلیا پہنچ جاتے ہیں، وہاں انہیں ہماری پالیسی کے نتیجے میں سخت مشکلات کا سامنے کیلئے تیار رہنا چاہئے”۔

آسٹریلیا نے عالمی پناہ گزین کنونشن پر دستخط کررکھے ہیں، مگر سیاسی پناہ کے متلاشیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث وہ ان افراد کو اپنے ملک سے نکالنے کیلئے ہرممکن کوشش کررہا ہے۔وزیراعظم کیون رڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ اس مسئلے کو قریبی پڑوسی پاپُوا نیو گنی کو برآمد کردیا جائے۔ ایک نئے معاہدے کے تحت آسٹریلیا میں کشتیوں کے ذریعے پہنچنے والے پناہ گزینوں کو پاپُوا نیو گنی میں بسایا جائے گا۔ رمبنک پاتو اس ملک کے وزیر خارجہ ہیں۔

رمبک”ہر وہ شخص جو حقیقی پناہ گزین ہونے کی وجہ سے پاپُوا نیو گنیمیں آئے گا، اسے ہمارے شہریوں کے برابر تمام مواقع دستیاب ہوں گے، جبکہ آٹھ برس کے بعد ہمارے آئین کے مطابق ان پناہ گزینوں کو پاپُوا نیو گنی کی شہریت مل جائے گی”۔

تاہم انکا کہنا تھا کہ کچھ ایرانی تارکین وطن کو پناہ دینے کی بجائے انہیں ایران واپس لوٹ جانے کا کہا گیا ہے۔

رمبک”ان میں پچاس افراد کے بارے میں مجھے آج بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے ملک واپس لوٹنے پر رضامند ہوگئے ہیں”۔

سیاسی پناہ گزینوں کا معاملہ آسٹریلیا میں ایک بہت سیاسی موضوع بن چکا ہے، اور سیاسی جماعتوں نے اس معاملے میں انڈونیشیاءکو بھی گھسیٹ لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انڈونیشین صدر نے ایک فورم قائم کرنے کا خیال پیش کیا، جس میں ان ممالک کو شامل کیا گیا جنھیں یہ ممالک گزرگاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔یہ کانفرنس تین صفحات کے اعلامئے کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی، تاہم انڈونیشیاءوزیر خارجہ مرتے ناٹالیگاوا نے اس کانفرنس کے کچھ نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔

مرتے”میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آج صورتحال پہلے سے زیادہ بہتر ہے، جس کی وجہ کانفرنس میں شریک ممالک کا عزم ہے، جسکے ذریعے نے مختلف شعبوں میں اکھٹے کام کرکے حالات بہتر کئے، سرچ و امدادی آپریشنز پر مشترکہ تعاون صورتحال کو مزید بہتر کرے گا”۔