China’s Wealthy New Hobby: Horse Riding – چینی عوام میں گھڑ سواری کا رجحان

معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ چینی ایک نئی عادت کو اپنانے لگے ہیں اور وہ ہے گھڑ سواری، ایک سروے کے مطابق اس وقت گھڑ سواری چینی اعلیٰ طبقے میں سب سب تیزی سے فروغ پاتا ہوا کھیل ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں کی آج کی رپورٹ

ایقولیس بیجنگ کا ایک مہنگا ترین ہارس کلب ہے، 35 سالہ بینکارایرک ذووپچاس ہزار ڈالر میں درآمد کردہ جرمن گھوڑے پر سواری کررہےہ یں، انکا کہنا ہے کہ وہ ہفتے میں تین بار اس کھیل سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

ایرک ذوو”دفتر کے پرتناﺅ ماحول کے بعد میں کہیں جاکر ذہن کو سکون پہنچانا پسند کرتا ہوں، ایک دن ایک منصوبے کے اختتام کے بعد میرا منیجر مجھے اس کلب میں لے آیا اور یہاں میں نے گھڑسواری سیکھنا شروع کی، اور اس کے ساتھ ہی میں گھوڑوں کے عشق میں مبتلا ہوگیا، اس وقت میں ہفتے میں ایک یا دو بار یہاں آتا تھا مگر اب میں تین سے چار مرتبہ آتا ہوں”۔

سابق صحافی مشل وانگنے یہ کلب بارہ سال قبل دس گھوڑوں کے ساتھ کھولا تھا، آج ان کے پاس ایک سو ستر گھوڑے ہیں اور کلب اراکین کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

مچل”میرے خیال میں اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ زیادہ امیر ہوگئے ہیں اور اب وہ سیاحت پسند کرتے ہیں، لوگوں کو احساس ہے کہ گھڑ سواری ایک بہت اچھا کھیل ہے”۔

سینتیس سالہ یینگ فُو کن بیجنگ میں ایک مقابلے کی تیاریوں میں مصروف ہیں، وہ چین کے بہترین گھڑ سواروں میں سے ایک ہیں اور انکا گھوڑا رکاوٹوں پر ایک میٹر تک اچھل رہا ہے۔

یینگ”میرے دو گھوڑے بیلجئیم سے درآمد کئے گئے ہیں، یہ دونوں نو سال کے ہیں اور انکا خون گرم ہے، آج ہم اسی سینٹی میٹر، ایک سو بیس سینٹی میٹر اور ایک سو سینٹی میٹر کے مقابلوں میں شریک ہیں، آج یہاں متعدد چینی گھڑسوار اائے ہوئے ہیں جو بہت زبردست جوکی ہیں، بیشتر افراد اپنے گھوڑوں پر سواری کرتے ہیں، جو تمام کے تمام یورپ سے درآمد کئے گئے ہیں”۔

چینی عوام درآمدی گھوڑوں کو پسند کرتے ہیں اور وہ مقامی گھوڑوں کو چھوٹا سمجھتے ہیں، درآمدی گھوڑوں سے یہ لوگ اپنی حیثیت کی نمائش بھی کرتے ہیں،مشل اکثر یورپ جاکر گھوڑے خرید کر لاتی ہیں تاکہ اپنے صارفین کو مطمئن کرسکیں۔

مشل”ہم دس سال سے یورپ میں گھوڑے خریدنے کیلئے آرہے ہیں، اکثر ہم بیلجئیم اور ہالینڈ کے گھوڑوں کو ترجیح دیتے ہیں، ہم فرانس، برطانیہ کا بھی کافی سفر کرتے ہیں اور آئندہ برس ہم آئرلینڈ جانے کا منصوبہ بنارہے ہیں، یورپی گھوڑوں کی اوسط قیمت چالیس سے پچاس یوروز ہوتی ہے، جس میں ٹرانسپورٹ کا خرچہ بہت زیادہ ہے”۔

ایرک ذوو کا کہنا ہے کہ بیجنگ کے شہریوں میں گھوڑوں کی ملکیت کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

ذوو”ابھی گھوڑوں کی صنعت کا ابتدائی دور ہے مگر ہمارے پاس کافی اچھے کلب، ٹرینرز اور اچھی مارکیٹنگ نظام موجود ہے، عام افراد گھوڑوں میں کافی دلچسپی کا مطاہرہ کررہے ہیں، جبکہ چینی معیشت بھی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، یہ گھوڑوں کی ملکیت کے حوالے سے اہم عنصر ہے، یہی وجہ ہے کہ اوسط درجے کے افراد کے اندر بھی اپنے گھوڑے خریدنے کا شوق بڑھ رہا ہے، اور میرے خیال میں مستقبل میں اس رجحان میں مزید اضافہ ہوگا”۔

مشل وانگ مستقبل میں اپنے کلب کو مزید توسیع دینے کا منصوبہ بنارہی ہیں۔

وانگ”ہم مزید بین الاقوامی مقابلے اور ایونٹس کرانے کا منصوبہ بنارہے ہیں، یہاں ابھی رائیڈنگ کلب کے حوالے سے کافی مواقع موجود ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہماری انتظامیہ اپنا برانڈ اچھا بنانے پر توجہ دے رہی ہے”۔