بنگلہ دیش میں جنگی جرائم کے ٹربیونل نے حال ہی میں ملک ی سب سے بڑی مذہبی جماعت کے ایک سنیئر رہنماءکو 1971ءکی جنگ میں قتل عام میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے نوے سال قید کی سزا سنادی، تاہم ہیومین رائٹس گروپس کا کہنا ہے کہ یہ سماعت عالمی معیار کے مطابق نہیں تھی، اسی سلسلے میں سوئیڈن میں ایک سیمینار کا انعقاد ہوا، جس کا احوال سنتے ہیںآج کی رپورٹ میں
جب بھی بنگلہ دیشی شہری کسی جگہ جمع ہوکر جنگی جرائم ٹربیونل کے بارے میں بات کرتے ہیں تو اس کے فیصلوں کی گونج بنگلہ دیش سے بہت دور سوئیڈن میں بھی سنی جاتی ہے، کچھ حلقوں کا ماننا ہے کہ یہ ٹرائل صحیح ہے اور ملزمان کو پھانسی پر لٹکانا چاہئے، مگر متعدد افعراد کو لگتا ہے کہ ٹربیونل بے گناہ افراد کو محض سیاسی وابستگی کی بنیاد پر سزا سنارہا ہے۔سوئیڈش پارلیمنٹ کے رکن میہمینت کپلان اسٹاک ہوم میں ہونے والے سیمینار کے دوران ماحول ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔
کپلان”میں چاہتا ہوں کہ آپ ایک دوسرے کا احترام کریں، خصوصاً اس عمارت کے اندر، ورنہ ہم یہ سیمینار روک دیں گے اور ہر شخص اپنے گھر چلے جائے گا، تو یہاں اپنی اچھی سوچ کا اظہار کریں”۔
یہ سیمینار ڈھاکہ میں عالمی جرائم ٹربیونل کی سماعت میں شریک ہونے والے وکلاءنے منعقد کرایا تھا۔ یہ ٹریبونل بنگلہ دیش میں 1971ءکی پاک بھارت جنگ میں مبینہ جنگی جرائم کے مرتکب افراد کیلئے تشکیل دیا گیا۔
ابوبکر”میرا نام ابو بکر مولا ہے”۔
ابوبکر بنگلہ دیش کی سب سے بڑی اسلامی جماعت، جماعت اسلامی کے ملزم قرار دیئے گئے رہنماءکے وکیل ہیں،اس ٹربیونل میں جماعت اسلامی کے کئی رہنماﺅں کو سزائیں سنائی گئی ہیں۔تاہم ابوبکر کا کہنا ہے کہ وکلاءکو ملزمان تک رسائی نہیں گئی اور مقدمے کی کارروائی سیاسی مقاصد پوری کرنے کیلئے چلائی گئی۔
ابوبکر”متعین طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا اور یہ سیاسی مقاصد حاصل کئے گئے، حکومت ان مقدمات کے ذریعے سیاسی فوائد حاصل کرنا چاہتی ہے، ٹربیونل کے ججز، تفتیش کار اور پراسیکیوٹرز کو ان کی سیاسی وابستگی کی بنیاد پر چنا گیا”۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومین رائٹس واچ نے اپنی رپورٹس میں عدالتی طریقہ کار میں خامی کی تصدیق کی ہے، اب تک اس ٹربیونل نے تین افراد کو سزائے موت سنائی ہے، جن میں جماعت اسلامی کے نائب سیکرٹری جنرل محمد خرم زمان بھی شامل ہیں۔مشات میاہ ان کی بہو ہیں۔
مشات”میں ان کی گرفتاری کے وقت وہاں موجود تھی، مجھے ان کی گرفتاری کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی، کیونکہ حکام نے کہا تھا کہ اس کی وجوہات بعد میں بتائیں گے، یہ بہت عجیب تھا کیونکہ میں سوئیڈن سے تعلق رکھتی ہوں اور یہاں پہلے الزامات سے آگاہ کیا جاتا ہے اور پھر کسی کو گرفتار کیا جاتا ہے”۔
وکیل ابوبکر کا کہنا ہے کہ خرم زمان اور دیگر سزا یافتہ افراد کو رواں سال کے آخر تک پھانسی پر لٹکایا جاسکتا ہے۔
ابوبکر”ممکنہ طور پر حکومت جماعت اسلامی کے ایک یا دو اراکین کو پھانسی پر لٹا سکتی ہے، تاکہ وہ لوگوں کو کہہ سکیں ہم نے جنگی مجرموں کو سزا دی ہے تاکہ انتخابات میں سیاسی سپورٹ حاصل کرسکے”۔
بنگلہ دیش میں عام انتخابات چار ماہ بعد ہورہے ہیں، اور جماعت اسلامی پر حال ہی میں پابندی لگادی گئی ہے، تاہم سوئیڈن مسلم پیس اینڈ جسٹس نامی تنظیم کے سربراہ یاسر خان کا کہنا ہے کہ اس سے وہاں بھی مصر جیسا خطرناک رجحان سامنے آسکتا ہے۔
یاسر”سیاسی جماعتوں پر پابندی تاریخی اعتبار سے کوئی اچھا خیال نہیں، اس سے وہ جماعتیں زیرزمین چلی جاتی ہیں، لوگ جلد یا بدیر مختلف سیاسی طریقہ کار پر عمل پیرا ہوجاتے ہیں اور ان میں سے ایک راستہ تشدد سے نکلتا ہے”۔
اب سیمینار میں واپس چلتے ہیں جہاں ایک شخص لوگوں کی مشکلات پر روشنی ڈال رہا ہے۔
شخص”ہمیں آگے بڑھنا چاہئے اور توقع ہے کہ حکومت کو احساس ہوگا کہ وہ صرف جماعت اسلامی کیساتھ نہیں بلکہ 1971ءکی جنگ کے متاثرین کے جذبات کو بھی مجروح کررہی ہے”۔