بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں زچگی کے دوران ہلاکتوں کی شرح ملک بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ جس کی سب سے بڑی وجہ طبی سہولیات کی عدم فراہمی ہے۔تاہم اب حکومت اور ایک این جی او نے اس مسئلے کے حل کیلئے ملکر کام کرنے کی کوششیں شروع کی ہیں۔
اس وقت صبح کے سات بجے ہیں اور ہم لوگ اس وقت بالائی آسام میں دریائے برہما پتر میں ایک کشتی پر سفر کررہے ہیں۔اس وقت دریا میں کافی کشتیاں نظر آرہی ہیں۔ درجنوں کشتیوں میں سوار لوگ مختلف جزائر میں واقع اپنے دفاتر کا رخ کررہے ہیں، تاہم ہماری کشتی اس دریا میں موجود دیگر کشتیوں سے مختلف ہے۔ یہ ایک طبی مرکز کے طور پر کام کرتی ہے، جس سے دریائی جزیروں میں رہائش پذیر افراد کو طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ کشتی میں pharmacist، لیب ٹیکنیشن، تین نرسیں اور ادویات وغیرہ موجود ہیں۔ آج ڈاکٹر کی ذمہ داری Ritesh Kalwar کے سپرد ہے۔
(male) Ritesh Kalwar “آج ہم امرپور کے علاقے میں جارہے ہیں، جہاں ہم دو یا تین دیہات میں جاکر طبی کیمپ لگائیں گے۔ ہمیں آج کافی سفر کرنا ہوگا، کشتی سے پہلے بھی ہم نے ایک گھنٹہ جیب پر سفر کیا، اب کشتی میں تین گھنٹے کا سفر ہے، جسکے بعد ہمیں ایک گاﺅں تک پہنچنے کیلئے آٹھ سے دس کلومیٹر ٹریکٹر پر بھی سفر کرنا ہوگا۔ وہاں ہم اپنا کیمپ لگائیں گے اور اس کے بعد دوبارہ ٹریکٹر پر سوار ہوکر دوسرے گاﺅں کا رخ کریں گے، اسی طرح ہم کشتی پر واپس آئیں گے اور اپنے گھر پہنچ جائیں گے۔ بس اتنا سا کام ہے”۔
تیرتے ہوئے ان کلینکس کا خیال Sanjoy Hazarika نے پیش کیا، جو ایک این جی او Centre for North East Studies and Policy Research کے بانی ہیں۔
(male) Sanjoy “ایک دفعہ میں دریا پر سفر کے دوران اردگرد کے مناظر کی فلمبندی کررہا تھا۔ میں تبت سے سفر کرتا ہوا پہلے خلیج بنگال اور پھر آسام میں داخل ہوا ۔اس سفر کے دوران ہم ایک جزیرے Majholi پر رکے، جو کہ دنیا کے چند بڑے دریائی جزیروں میں سے ایک ہے۔ میں نے وہاں ایک کہانی سنی کہ ایک حاملہ خاتون دریا کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے پر واقع ہسپتال جاتے ہوئے مرگئی، یہ سن کر میں نے خود سے کہا کہ یہ ناقابل برداشت ہے کہ آج کے جدید عہد میں لوگ طبی سہولیات کی کمی کے باعث مر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے لوگوں کی خدمت کرنے کا فیصلہ کیا”۔
ان تیرتے ہوئے طبی مراکز کا آغاز 2005ءمیں ہوا، آج یہ آسام کے تیرہ اضلاع میں لوگوں کو حکومت کے ساتھ مل کر مدد فراہم کررہے ہیں۔ ان دریائی جزیروں پر رہائش پذیر افراد کیلئے یہ کشتیاں ہی طبی نگہداشت کا واحد ذریعہ ہیں۔
(male) Sanjoy “مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ ہماری کشتی ایک کیمپ سے واپس آرہی تھی کہ اس میں موجود عملے نے ایک چھوٹے سے جزیرے میں ایک جوڑے کوہاتھ میں بچہ اٹھائے بھاگتے ہوئے دیکھا۔ہمارے عملے نے ان لوگوں کو تکلیف میں دیکھ کر انہیں روکا، جس کے بعد معلوم ہوا کہ بچے کو دمے کا انتہائی شدید دورہ پڑا ہے اور اس کا رنگ نیلا ہوگیا ہے۔ چونکہ کشتی میں اس مرض کے لئے ادویات موجود تھی اور وہ اس معاملے سے نمٹنے کی صلاحیت بھی رکھتے تھے، یہی وجہ ہے کہ چند منٹوں کی کوششوں کے بعد بچے کو بچالیا گیا۔ بعد میں بچے کے والدین نے بتایا کہ انہیں معلوم تھا کہ یہ کشتی اسی وقت یہاں سے گزرتی ہے، اسی لئے ہم کشتی کا ہی انتظار کررہے تھے”۔
اب ہم لوگ طبی ٹیم کے ہمراہ چار گھنٹے کے سفر کے بعد Napun نامی گاﺅں میں پہنچ گئے ہیں، یہاں ایک سو سے زائد مریض جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہیں، میڈیکل کیمپ کے مجوزہ مقام پر پہلے سے ہی ہمارا انتظار کررہے تھے۔ ان مریضوں نے جب ڈاکٹر کو دیکھا تو قطار بنا کر کھڑے ہوگئے، Nayanmuni Sukram ایک حاملہ قبائلی خاتون ہیں۔
(female) Nayanmuni Sukram “اس علاقے میں کوئی ڈاکٹر موجود نہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم یہاں اپنا طبی معائنہ کرانے کیلئے آتے ہیں۔ آخری بار جب میں یہاں آئی تھی تو میں نے اپنا ٹیسٹ کرایا تھا جس سے معلوم ہوا تھا کہ میں حاملہ ہوں۔ اب میں یہاں یہ معلوم کرنی آئی ہوں کہ میرے بچے کی پیدائش کب ہوگی۔ اس سے پہلے جب میرے پہلے بچے کی پیدائش ہوئی تھی تو مجھے بہت تکلیف کا سامنا کرنا پڑا تھا، اب میں دوبارہ اس تکلیف کا سامنا نہیں کرنا چاہتی”۔
Nayanmuni Sukram کا ڈر بالکل ٹھیک ہے۔اس نے اپنے علاقے میں بہت سی ماﺅں کو زچگی کے دوران مرتے ہوئے دیکھا ہے۔ آسام میں دوران زچگی اموات کی شرح بھارت میں سب سے زیادہ ہے۔
اس وقت ڈاکٹر کلوارNayanmuni کا معائنہ کررہے ہیں۔ ڈاکٹر Kalwar کو معائنے کے دوران معلوم ہوا کہ خون میں سرخ ذرات یا ہیمو گلوبن کا لیول کم ہے، جس کے بعد انھوں نے چند ادویات لکھتے ہوئے Nayanmuni پر زور دیا کہ وہ زچگی کیلئے ہسپتال کا رخ کریں۔ تاہم یہاں سے قریب ترین ہسپتال تک پہنچنے کیلئے گھنٹوں سفر کرنا پڑتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بیشتر خواتین گاﺅں میں زچگی کرانے کو ترجیح دیتی ہیں۔ Nayanmuni کا کہنا ہے کہ اس کے لئے بہترین چیز یہ ہوگی کہ اس کی زچگی کے دوران یہ طبی کلینک ان کے گاﺅں میں موجود ہو۔
Nayanmuni اس وقت pharmacist سے ادویات لے کر گھر واپس جارہی ہیں۔ Dr Kalwar نے آج سو سے زائد مریضوں کا معائنہ کیا ہے۔
(male) Kalwar “ہمارا سب سے بڑا چیلنج مریضوں کی جانب سے ادویات نہ لینا ہے۔یہ لوگ چند توہمات کے اسیر ہیں، یہ لوگ اب بھی زلزلے کو مانتے ہیں اور ان کے بقول زلزلہ اسی وقت آتا ہے جب وہ ہماری تجویز کردہ ادویات استعمال کرتے ہیں۔ تاہم ہمارا کام مریضوں کے اندر ادویات کے فوائد کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔ہم انہیں بتاتے ہیں کہ آپ کے خون میں ہیموگلوبن کا لیول کم ہوگیا ہے، لہذا صحت مند رہنے کے لئے یہ ادویات استعمال کریں۔ ہمیں درپیش بیشتر چیلنجز کی وجہ یہاں کے لوگوں میں شعور کی آگاہی نہ ہونا ہے”۔
ان طبی کلینکس کو ایک اور مسئلے کا بھی سامنا ہے اور وہ ہے موسمیاتی تبدیلیاں۔ دریائے برہما پتر ہر گزرتے برس کے ساتھ سکڑتا جارہا ہے، پانی کی سطح میں کمی کے باعث ان کشتیوں کیلئے جزائر تک رسائی مشکل ہوتی جارہی ہے۔ Murari Yadav آج آنے والی کشتی کے کیپٹن ہیں۔واپسی کے سفر کے دوران انھوں نے بتایا کہ وہ لڑکپن سے اس دریا میں کشتی چلارہے ہیں۔
(male) Murari Yadav “مجھے یاد ہے کہ 1988ءسے دریا کے پانی میں کمی آرہی ہے۔ اب دریا میں پانی کی گہرائی ماضی جیسی نہیں۔ اب دریا کی سطح میں ہر سال کمی ہورہی ہے، ماضی میں ہم دریا میں سفر کے دوران خوفزدہ رہتے تھے، مگر اب ہم چاہتے ہیں کہ اتنی بارش ہو کہ ہماری کشتیوں کو سفر کے دوران مسئلہ نہ ہو”۔