گرمیوں کا موسم آچکا ہے اور جیسے جیسے درجہ حرارت بڑھ رہا ہے بیماریوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔گرمی کے موسم میں لو لگنے ،ڈی ہائیڈریشن ،فوڈ پوائزننگ اور ہیضے کے مسائل دیکھنے میں آتے ہیں۔پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سے منسلک ڈاکٹر عزیز خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع ایسا ہے کہ یہاں اپریل سے سے لے جون اور پھر جولائی تک شدید گرمی ہوتی ہے، ایسے میں بے احتیاطی سے کئی بیماریاں وبائی شکل بھی اختیار کر جاتی ہیں لہٰذالوگوں کو کھانے اور پینے میں احتیاط برتنی چاہئیے:
گرمی کے موسم میں گھر سے باہر کام کرنے والے لوگوں کیلئے صحت کے حوالے سے کئی مسائل جنم لیتے ہیں خصوصادوپہر12سے سہ پہر03 بجے تک گرمی کی شدت زیادہ ہونے کی وجہ سے لو لگنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں ایسے میں گھریلو خواتین کو چھوٹے بچوں کو لو سے بچانے کیلئے خاص خیال رکھنا چاہئیے:
ڈاکٹر عزیز خان کا کہنا ہے کہ گرمی کے موسم میں ٹھیلوں ریڑھیوں سے کھانے پینے کی اشیاءخریدنے سے گریز کرنا چاہئیے، خصوصاً فاسٹ فوڈز یا گلے سڑے پھل اور سبزیوں کا استعمال ہیضے کا باعث بن سکتا ہے:
گرمی کے موسم میں ڈی ہائیڈریشن کے مسائل بھی دیکھنے میں آتے ہیں جس سے بڑے بچے سب ہی متاثر ہوتے ہیں:
ملازمت پیشہ خواتین اور کالج یونیورسٹیز جانے والی طالبات کو تیز دھوپ سے سر کے بالوں کو بچانا چاہئیے اسکے علاوہ دھوپ میں معیاری سن بلاک کا استعمال بھی مفید ہے ۔اس موسم میںگھریلو خواتین کو اپنی اور اپنے اہل خانہ کی صحت کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں تاکہ بیماریوں کا شکار ہونے کے بجائے آپ اور آپکا خاندان ہر موسم سے لطف اندوز ہو سکے۔۔۔