Pink Bus Service in Lahore پنک بس سر وس

زندہ دلان لاہور پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا شہر مانا جاتا ہے جسکی آبادی کا نصف حصہ خواتین پر مشتمل ہے۔حال ہی میںحکومت پنجاب کی جانب سے لاہور میںخواتین کیلئے خصوصی پنک بس سروس کا آغاز کیا گیا، خواتین کی جانب سے پنک بس سروس کا مثبت فیڈ بیک دیکھنے میں آرہا ہے نہ صرف یہ بلکہ خواتین کا مطالبہ ہے کہ شہر کے مزید روٹس پر بھی اس طرح کی خصوصی بسیں چلائی جائیں جبکہ ملک کے دیگر شہروں سے تعلق کھنے والی خواتین کی خواہش ہے کہ اُنکے شہروں میں بھی اس نوعیت کی بس سروس کا آغاز کیا جائے۔پنک بس سروس شروع کرنے والی لاہور کی نجی ٹرانسپورٹ کمپنی کی منیجر ہما دہہ کا کہنا ہے کہ بس سروس کے آغاز سے قبل خصوصی سروے کیا گیا تھا جس سے ہمیں اندازہ ہوا کہ پبلک ٹرانسپورٹ سے سفر کرنے والی خواتین کن دشواریوں کا سامنا کرتی ہیںیوں ہم نے خواتین کے مسائل کے ازالے کیلئے پنک بس سروس کا آغاز کیا:

ہما دہہ کا کہنا ہے کہ یہ ایک پائلٹ پروجیکٹ ہے اورمسافروں کی ڈیمانڈ کے مطابق اس پروجیکٹ میں مزید تو سیع کے امکانات ہیں۔اس سلسلے میں پنک بس سروس کا افتتاح کرانے والے پاکستان مسلم لیگ کے نامور رکن حمزہ شہبار شریف کا کہنا ہے :

پنک بس سروس میں سفر کرنے والی مختلف خواتین سے جب ہم نے اُنکی رائے جانناچاہی تو بے حد مثبت فیڈ بیک دیکھنے میں آیا۔پنجاب یونیورسٹی کے اسٹاپ پر پنک بس کے انتظار میں کھڑی ایک طالبہ مدیحہ شاہ کا کہنا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ سے سفر کرتے ہوئے ہمیں بے حد دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا لیکن اب صورتحال مختلف ہے:

خصوصی طور پر خواتین کیلئے چلائی جانے والی اِن گلابی رنگ کی بسوں میں مرد حضرات کے سفر کرنے پر پابندی ہے۔بس چلانے والا ڈرائیور ایک مرد ہے جبکہ بس کے گیٹ پرگلابی یونیفارم میں ملبوس خاتون کنڈیکٹرز موجودہے جو مسافروں کو مختلف بس اسٹاپس کے بارے میں آگاہ کر رہی ہیں:

پنک بس سروس کی کنڈیکٹریاسمین احمدکا کہنا ہے کہ خواتین مختلف فیلدز میں کام کر رہی ہیں لیکن کنڈیکٹری کے شعبے میں کم ہی خواتین دکھائی دیتی ہیں، یاسمین کہتی ہیں کہ خواتین مسافر اُن کے ساتھ بہت آرام دہ محسوس کرتی ہیں :

اس سلسلے میں جب ہم نے پنک بس سروس کا وزٹ کیا تو خواتین مسافروں کی جانب سے خوشگوار تاثرات دیکھنے میں آئے:

یہ بس کا اندرونی منظر ہے ، اس وقت بس میں 40مسافر خواتین موجود ہیں جبکہ کچھ نشستیں خالی ہیں، خواتین ایک دوسرے سے گپ شپ میں مصروف ہیں کچھ خواتین اخبار پڑھ رہی ہیں اورکچھ موسیقی سے لطف اندوزہو رہی ہیں،پبلک ٹرانسپورٹ میں اس قدر سہولت اور آرام سے سفر کرنا ان خواتین کیلئے یقینا ایک خوشگوار تجربہ ہے ۔پنک بس میں سفر کرنے والی فاطمہ کنیز اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں:

حکومت پنجاب کی جانب سے شروع کئے گئے پنک بس سروس پروجیکٹ میں خواتین ڈرائیوروں کو بھی تربیت دی جا رہی ہے تاکہ کنڈیکٹرز کے ساتھ ساتھ خواتین ڈرائیورز کی خدمات بھی حاصل کی جا سکیں، اس وقت شہر کے مختلف روٹس پر تین بسیں چلائی جا رہی ہیں جو روزانہ12گھنٹے چلتی ہیں اور شہر کے مختلف حصوں سے خواتین مسافروں کو اُنکی منزلوں تک پہنچاتی ہیں۔پنک بس سروس کے حوالے سے جہاں خواتین کا مثبت فیڈ بیک دیکھنے میں آیا ہے اور ملک کے دیگر حصوں میں بھی خواتین بس سروس کے آغاز کا مطالبہ کیا جا رہا ہے وہیں خواتین بس سروس کے حوالے سے کچھ مختلف خیالات اور نظریات بھی سامنے آئے ہیں، خواتین کے حقوق کیلئے سر گرم عمل ممتاز مغل کہتی ہیں:

دوسری جانب پنک بس سروس میں سفر کرنے والی ایک اسکول ٹیچر فوزیہ جمیل کا کہنا ہے اس طرح پبلک ٹرانسپورٹ میں بغیر کسی دشواری اور پریشانی کے سفرکرنا کسی نعمت سے کم نہیں ہے:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *