India’s Toilet Revolution – بھارتی ٹوائلٹ انقلاب

اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق دنیا کی لگ بھگ نصف آبادی کو بیت الخلاءیا ٹوائلٹ کی سہولت دستیاب نہیں، خاص طور پر بھارت جہاں کی 50 فیصد آبادی اس سہولت سے محروم ہے، جس کے باعث وہاں وبائی امراض پھیلنے کی شرح بھی بہت زیادہ ہے۔اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ۔

گوپال کمار اپنے گھر میں نئے بیت الخلاءکی تعمیر پر بہت فخر محسوس کررہا ہے، یہ اس کی پچاسی سالہ ماں رام پھولی دیوی کیلئے بہت اہمیت رکھا ہے، اس سے قبل وہ اپنے گاﺅں کے دیگر نو سو باسیوں کی طرح رفع حاجت کیلئے گھر سے باہر جانے پر مجبور ہوتی تھی۔

گوپال کمار”مجھے اس بات پر بہت برا لگتا تھا کہ میری نابینا ماں کو رفع حاجت کیلئے گھر سے کافی دور جانا پڑتا ہے۔ میرے خیال میں یہ بیت الخلاءہر شخص خصوصاً خواتین، بچوں اور بزرگوں کی مدد کرے گا، مرد تو کہیں بھی اپنی رفع حاجت پوری کرسکتے ہیں، مگر خواتین کے لئے یہ مرحلہ بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس سے امراض کے پھیلاﺅ کو روکنے میں بھی مدد ملے گی، جو گاﺅں میں صاف ستھرائی کا خیال نہ رکھے جانے کی وجہ سے عام ہے”۔

چوی رجاوت نامی ایک خاتون ٹوائلٹ انقلاب کی روح رواں ہیں، جب وہ 2010ءمیں اس گاﺅں کی سربراہ منتخب ہوئیں تو انھوں نے مقامی این جی او پریگیا چیتانیا کی مدد سے ہر گھر میں بیت الخلاءکی تعمیر کا بیڑہ اٹھایا، انکا کہنا ہے کہ خواتین کو اس سے سب سے زیادہ فائدہ ہوگا۔

راجاوت”یہاں خواتین اپنی حاجت پوری کرنے کے لئے رات کے اندھیرے کا انتظار کرتی تھیں، ایسے علاقے جہاں بجلی نہیں وہاں اکثر اس دوران حادثات میں پیش آجاتے تھے۔ یہ خواتین گڑھوں میں گرجاتی تھیں، اور میں آپ کو ایسی تصاویر دکھا سکتی ہوں میں جن میں خواتین کے ہاتھ اور پاﺅں وغیرہ میں فریکچر کا شکار کر بستر پر پڑی ہیں۔اس کے علاوہ کھیتوں میں سانپوں اور چھپکلوں سے بھی خطرات کا سامنا ہوتا ہے، جبکہ خواتین کو اپنی حاجت پوری کرنے کے لئے طویل انتطار کرنا پڑتا ہے، اس وجہ سے انہیں متعدد طبی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن میں سے اکثر امراض کا یہاں ڈاکٹروں کے پاس کوئی علاج بھی نہیں۔ یہ خواتین ہمیشہ سردرد، پیٹ میں خارش اور گیسٹرو کی شکایات کرتی ہیں، سب سے بدترین وہ لمحہ ہوتا ہے جب وہ اپنی حاجت پوری کررہی ہوتی ہیں اور کوئی قریب سے گزر جائے تو وہ بہت شرمندگی محسوس کرتی ہیں”۔

ٹوائلٹس کی تعمیر سے قبل گاﺅں کی جانب آنے والی سڑک انتہائی غلیظ نظر آتی تھی۔

چوی”یہ لوگ ٹوائلٹ تعمیر کرنے کے مخالف نہیں تھے، وہ ایسا کرنا چاہتے تھے مگر مسئلہ یہ تھا کہ ان کی اولین ترجیح اپنے خاندان کا پیٹ بھرنا تھا،جبکہ یہ لوگ انتہائی غریب ہیں۔ میرے خیال میں اگرچہ یہ لوگ ٹوائلٹ تو چاہتے ہیں مگر اس کی تعمیر کا بوجھ ان کے بس کی بات نہیں”۔

چاند شرما کے خاندان کو بیت الخلاءکی تعمیر کا صرف آدھا خرچہ ادا کرنا پڑنا، جبکہ باقی اخراجات گاﺅں کی کونسل نے اٹھائے۔

چاند”اگرچہ میری ماں کے لئے آدھی رقم کا انتظام کرنا بھی بہت مشکل تھا مگر اس سے ہمیں جو سکون ملا ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ اس سے نہ صرف ہمیں ٹوائلٹ سکون سے جانے کا موقع ملا ہے بلکہ ہمارے کئی طبی مسائل بھی حل ہوگئے ہیں۔ اس سے قبل کھیتوں کے مالک ہمیں اپنی زمین پر رفع حاجت کی اجازت نہیں دیتے تھے، میرے لئے یہ بہت ذلت آمیز تھا، اس کی وجہ سے میں کم کھاتی تھی تاکہ باہر نہ جانا پڑے مگر اب ہر چیز بدل گئی ہے”۔

اس کے والد رام کشور شرما کو اس بات پر فخر ہے کہ اس گاﺅں کا سب سے پہلا بیت الخلاءان کے گھر میں تعمیر ہوا۔

رام کشور”جب مجھے محسوس ہوا کہ کھیتوں میں رفع حاجت کے دوران میری گھر کی خواتین شرم کے مارے اپنے چہروں کو چھپا رہی ہیں، تو میں نے فوری طور پر اپنے گھر میں اس گاﺅں کا پہلا ٹوائلٹ تعمیر کرانے کا فیصلہ کیا”۔

پریگیا چیٹنیا نامی این جی او اس منصوبے میں شامل ہے، بھاسکر شرما اس این جی او کے سربراہ ہیں۔

بھاسکر شرما”اب تک ہم دو سو بیت الخلاءتعمیر کرچکے ہیں، جبکہ باقی آئندہ دو سے تین ماہ میں تعمیر کرلئے جائیں گے۔ اس کے بعد اس گاﺅں کے ہر گھر میں ٹوائلٹ کی سہولت موجود ہوگی”۔

شیو جی کا خاندان انتہائی بے تابی سے بیت الخلاءکی تعمیر کا انتطار کررہا ہے، اس سے اس کی ماں کو کافی راحت ملے گی، موتی دیوی گاﺅں کی ایک باسی ہیں۔

موتی دیوی”اس وقت مجھے ٹوائلٹ کیلئے ایک میل دور جانا پڑتا ہے، اس آنے جانے میں میرا ایک گھنٹہ لگ جاتا ہے”۔

اس وقت ایک اندازے کے مطابق بھارت میں ہر دس میں سے ایک موت نکاسی آب کے ناقص نظام اور صفائی ستھرائی نہ ہونے کے باعث ہورہی ہے۔