Aziz Miyan’s Birth Anniversary معروف قوال عزیز میاں قوال کی سالگرہ

مقبول ترین پاکستانی قوال عزیز میاں کا 71 واں یوم پیدائش آج منایا جارہا ہے۔
عزیز میاں کی پیدائش 17 اپریل 1942ءکو دہلی میں ہوئی۔
ان کا اصل نام عبدا لعزیز تھا۔ میاں ان کا تکیہ کلام تھا، جو وہ اکثر اپنی قوالیوں میں بھی استعمال کرتے تھے، جو بعد میں ان کے نام کا حصہ بن گیا۔
انھوں نے1947ءمیں پاکستان ہجرت کرکے لاہور میں سکونت اختیار کی۔ استاد عبدالوحید سے فن قوالی سیکھنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے عربی،فارسی ادب، اور اردو ادب میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔
1966ءمیں شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کے سامنے یادگار پرفارمنس پر انعام و اکرام اور گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔ عزیز میاں قوال اپنی بیشتر قوالیاں خود لکھتے تھے ، اس کے علاوہ انہوں نے علامہ محمد اقبال،صادق اور قتیل شفائی کا کلام بھی بارہا گایا۔
عزیز میاں کا شمار قدرے روایتی قوالوں میں ہوتا تھا۔ ان کی آواز بارعب اور طاقتور تھی۔ لیکن ان کی کامیابی کا راز صرف ان کی آواز نہیں تھی۔ عزیز میاں نہ صرف ایک عظیم قوال تھے بلکہ ایک عظیم فلسفی بھی تھے ۔
انہیں اپنے ابتدائی دور میں فوجی قوال کا لقب ملا کیونکہ ان کی شروع کی سٹیج کی بیشتر قوالیاں فوجی بیرکوں میں فوجی جوانوں کے لیے تھیں۔
مختلف قسم کے معمولی الزامات پر انہیں کئی دفعہ گرفتار کیا گیا لیکن بعدازاں بری کر دیا گیا۔
عزیز میاں کو شاعری پڑھنے میں کچھ ایسی مہارت حاصل تھی جو سامعین پر گہرا اثر چھوڑ جاتی تھی۔ ان کی بیشتر قوالیاں دینی رنگ لیے ہوئے تھیں گو کہ انہوں نے رومانی رنگ میں بھی کامیابی حاصل کی تھی۔ عزیز میاں کی مقبول ترین قوالیاں “میں شرابی میں شرابی” “تیری صورت” اور “اللہ ہی جانے کون بشر ہے” شامل ہیں۔
عزیز میاں کا انتقال 6 دسمبر ، 2000ءکو ایران کے دارلحکومت تہران میں یرقان کی وجہ سے ہوا۔
انہیں حضرت علی کرم اللہ وجہ کی برسی کے موقع پر ایرانی حکومت نے قوالی کیلیے مدعو کیا تھا۔آپ کو ملتان میں دفن کیا گیا۔