بھارت کی نصف آبادی بیت الخلاءکی سہولت سے محروم ہے، جس کے باعث عالمی ادارہ صحت نے بھارت میں نکاسی آب کی صورتحال دنیا میں سب سے خطرناک قرار دیدی ہے، تاہم ایک بیس سالہ خاتون کے جرات مندانہ موقف سے اس صورتحال میں مثبت تبدیلی آئی ہے
گزشتہ سال مئی میں Anita Narre کی شادی ایک مزدور شیورام سے ہوئی، تاہم بیس سالہ خاتون نے شادی کی رات ہی اپنے شوہر کا گھر اس وقت چھوڑ دیا جب اسے پتا چلا کہ وہاں بیت الخلاءموجود نہیں۔
انیتا(female) “میں نے شیورام پر واضح کردیا کہ اگر وہ اپنے گھر میں میری واپسی چاہتا ہے تو اسے بیت الخلاءتعمیر کرانا پڑے گا، میں حوائج ضروریہ کیلئے باہر نہیں جاسکتی، میں اس چیز کی عادی نہیں اور اسے میرے لئے بیت الخلاءتعمیر کرانا ہی پڑے گا، مجھے اس کے علاوہ مجھے کوئی مسئلہ لاحق نہیں”۔
شیورام یہ بات سن کر سکتے میں آگیا تھا۔
شیورام(male) “میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ بھارت میں کوئی عورت شادی کی پہلی ہی رات ایسا بھی کرسکتی ہے۔ مگر چونکہ میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا اس لئے میں نے گاﺅں کے مقامی رہنماءسے رابطہ کیا اور ان کی مدد سے آٹھ روز کے اندر بیت الخلاءکی تعمیر مکمل کرائی”۔
یہ جوڑا مدھیہ پردیش کے ایک قبائلی گاﺅں Jheedtudhana میں رہائش پذیر ہے، اس گاﺅں کے رہائشی گھروں کے اندر بیت الخلاءکی موجودگی کو اچھا نہیں سمجھتے، جبکہ یہ کام ان کیلئے بہت مہنگا بھی ہے، کیونکہ بیت الخلاءکی تعمیر میں آٹھ سے دس ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں۔حالیہ اعدادوشمار سے معلوم ہوا ہے کہ ریاست مدھیہ پردیش کے ستر فیصد خاندان بیت الخلاءکی سہولت سے محروم ہیں، اور یہ بات خواتین کیلئے بہت مشکلات کا سبب بنتی ہے، کیونکہ انہیں حوائج ضروریہ کیلئے باہر کا رخ کرنا پڑتا ہے، تاہم وہ اس کیلئے رات کے اندھیرے کا انتظار کرتی ہے، مگر اس وقت ان پر حملے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔انیتا اس حوالے سے خوش قسمت ہیں کیونکہ ان کے والدین نے گھر میں بیت الخلاءتعمیر کرارکھا تھا۔وہ اپنے شوہر سے کئے جانیوالے مطالبے کے حوالے سے اظہار خیال کررہی ہیں۔
انیتا(female) “ہر خاتون کو باوقار زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے اور انہیں اس حق کیلئے جدوجہد کرنا چاہئے۔ میرے خیال میں خواتین کیلئے حوائج ضروریہ کیلئے باہر جانا محفوظ نہیں، انہیں متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ اکثر انہیںہراساں بھی کیا جاتا ہے”۔
انتیا کے اس مطالبے سے متاثر ہوکر گاﺅں کے دیگر خاندانوں نے بھی اپنے گھروں میں بیت الخلاءتعمیر کرائے ہیں، جبکہ اس جرات مندانہ موقف پر انیتا کو ایک این جی او Sulabh Internationalکی جانب سے دس ہزار ڈالر کا انعام دیا گیا، جو دیہی ترقی کے مرکزی وزیر جے رام رمیش نے انیتا کے حوالے کیا۔
جے رام(male) “ہمیں اپنے سماجی رویوں میں تبدیلی لانا ہوگی، اس وقت خواتین بیت الخلاءکی جگہ موبائل فونز کا مطالبہ کرتی ہیں، یہ وہ ذہینت ہے جس میں ہمیں تبدیلی لانا ہوگی۔ بھارت میں ساٹھ فیصد خاندان بیت الخلاءکی سہولت سے محروم ہے،مگر اس کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک میں ستر کروڑ افراد موبائل فونز استعمال کررہے ہیں، تو ہمیں لوگوں کی ذہنیت کو تبدیل کرنا ہوگا”۔
اس وقت انیتا کے گاﺅں میں لوگوں کا رویہ تبدیل ہورہا ہے، متعدد حلقوں کا ماننا ہے کہ انیتا کی مثال سے دیگر بھارتی لڑکیوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور وہ اپنے شوہروں کے گھر بیت الخلاءکی تعمیر کو یقینی بنائیں گی۔
انیتا(female) “بھارتی خواتین موبائل فونز کی جگہ بیت الخلاءکی تعمیر چاہتی ہیں، مگر مردوں کے کیلئے خواتین کے جذبات کو سمجھنا آسان نہیں۔ مردوں کو سمجھنا ہوگا کہ خواتین کا وقار کسی بھی چیز سے زیادہ اہم ہوتا ہے”
بھارتی حکومت گزشتہ دس برس سے دیہی علاقوں میں بیت الخلاءکی سہولیات کیلئے Total Sanitation نامی مہم کے تحت کام کررہی ہے، مگر گزشتہ برس اس مہم کو ناکام قرار دیدیا گیا، کیونکہ دیہات کے افراد ان نئے ٹوائلٹس کو سامان ذخیرہ کرنے کیلئے استعمال کررہے ہیں، مگر اب حکومت نے ایک نئے عزم کے تحت اعلان کیا ہے کہ آئندہ دس برسوں میں دیہی علاقوں میں لوگ گھر کے اندر ہی بیت الخلاءکی سہولت سے مستفید ہوسکیں گے۔ خواتین اس نئی مہم میں مرکزی کردار ادا کررہی ہیں۔Candrashekhar Borkar، اس ضلع کے سرکاری افسر ہیں جہاں انیتا رہائش پذیر ہیں۔
(male) Candrashekhar Borkar “میں نے حکومت کو ایک تجویز بھجوائی ہے کہ انیتا کو اس ضلع کی خیرسگالی سفیر مقرر کردیا جائے، جس سے دیہات کے رہائشیوں کے اندر مناسب نکاسی آب کی سہولت حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی ہو، میرے خیال میں انیتا وہ بہترین شخصیت ہیں جو قبائلی علاقوں میں نکاسی آب کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں “۔