فیس بک اور دیگرسوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس فی زمانہ نوجوان نسل کی زندگی کا اہم حصہ ہی نہیں بلکہ اب اُنکی زندگی بن چکی ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق500ملین لوگ روزانہ فیس بک استعمال کرتے ہیں۔ فیس بک ،ٹوئیٹر،لنکڈ اِن،آرکٹ اور دیگر سوشل ویب سائٹس کے جہاں بے شمار فوائد ہیں، وہیں اِسکے کچھ نقصانات بھی سامنے آئے ہیں۔ہر روزکروڑوں لوگ فیس بک استعمال کرتے ہوئے اپنی تصاویر،معلومات،فیچرز اور لنکس دوستوں کے ساتھ شیئر کرتے ہیں جنکا جانے انجانے میں غلط استعمال بھی کیا جاتا ہے ، ایسے میںنوجوان لڑکیوں کو پرائیویسی سیٹ کئے بغیر فیس بک استعمال کرنے کی بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے۔نامور جرنلسٹ عافیہ سلام کا کہنا ہے کہ فیس بک کی بدولت دنیا کے کسی بھی خطے میں موجود کسی بھی شخص سے رابطہ کرنا اب انتہائی آسان ہو چکا ہے اسکے علاوہ فیس بک کو بزنس اور ایڈورٹائزمنٹ ٹول کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے:
جبکہ دوسری جانب فیس بک استعمال کرتے ہوئے پرائیویسی آپشنز سیٹ کرنا انتہائی ضروری ہے یا پھر فوٹوز اور دیگر معلومات صرف اور صرف انتہائی قابل اعتماد افراد کے ساتھ ہی شیئر کی جائیں تو بہتر ہے۔اس حوالے سے فیس بک میں ایسے آپشنز موجود ہیں جنہیں منتخب کرتے ہوئے آپ سیکیورٹی سیٹنگز کو یقینی بنا سکتے ہیں۔
دنیا بھر میں بے شمار لڑکیاں اس وقت فیک پروفائلز اور فوٹو ٹیمپرنگ کے باعث بلیک میلنگ،دھوکہ دہی اور دیگر سماجی مسائل کا سامنا کر رہی ہیں،اس حوالے سے پاکستان میں بھی کئی واقعات سامنے آئے ہیں جن میں نوجوان لڑکیوں کی تصاویر اور اُن سے منسلک دیگر معلومات کو مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے افراد ، اداروں اور ویب سائٹس نے استعمال کیا جسکی وجہ سے لڑکیوں اور اُنکے والدین کو شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ایف آئی اے کے ڈائریکٹر معظم جاہ نے ہمیں بتایا کہ سائبز کرائم کے حوالے سے موصول ہونے والی شکایات میںسے 70 فیصد کا تعلق فیس بک سے ہے ،جبکہ بلیک میلنگ کے لاتعداد واقعات منظر عام پر آتے ہی نہیں اور رسوائی اور بد نامی کے خوف سے خواتین خود کشی کرلیتی ہیں یا خودکو گھروں میں قید کر لیتی ہیں۔معظم جاہ کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کے سماجی مسائل سے بچنے کیلئے نوجوان لڑکیوںکو فیس بک پر اپنی تصاویز اپ لوڈ کرنے اور انجان افراد کو فرینڈ لسٹ میں ایڈ کرنے سے حتی الامکان گریز کرنا چاہئیے۔
“بولو بھی “سے منسلک فریحہ اختر نے ہمیں بتایا کہ کس طرح نوجوان لڑکیوں کی تصاویر کو مختلف گرافک ٹولز کے ذریعے ایڈٹ کرنے کے بعد غیر اخلاقی ویب سائٹس پر استعمال کیا جاتا ہے:
صرف پاکستان میں فیس بک استعمال کرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے جس میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ،جبکہ فیس بک پر بلیک میلنگ اور دھوکہ دہی سے متاثر ہونے والوں میں 99فیصد خواتین اور کم عمر لڑکیاں شامل ہیں۔ فیس بک میں وال پر شیئر کی جانے والی وڈیوز اور البمز کا بھی غیر مناسب استعمال کیا جاتا ہے ، خوبصورت اور دلکش خواتین کی پروفائل پکچرزاُنکی اجازت کے بغیر استعمال کرتے ہوئے انٹرنیٹ پر موجود سیکڑوں غیر اخلاقی ویب سائٹس پر کسی اور کی تصویر کے طور پر اَپ لوڈ کر دی جاتی ہیں:
ویب سائٹس کے علاوہ ذاتی دشمنی اور رقابت میں بھی خواتین کی تصاویر اور سیل نمبرز کا غیر اخلاقی استعمال کرتے ہوئے انھیں بلیک میل کیا جاتا ہے،بلیک میلنگ میں رقم سے لے کر عصمت فروشی اور دیگر غیر اخلاقی سرگرمیوں کے مطالبات سامنے آئے ہیں۔شہرت یافتہ شخصیات بھی سائبر کرائمز سے محفوظ نہیںرہیں، سلیبرٹیز کے جعلی پروفائل بنا کر اُنکے پرستاروں کو بیوقوف بنایا جاتا ہے ، اس حوالے سے ملکی اور غیر ملکی سطح پر کئی واقعات سامنے آچکے ہیں، یہ فیک پروفائلز کیسے بنائے جاتے ہیں اس بارے میں فریحہ اختر بتاتی ہیں:
پاکستان میں سائبر کرائم کے حوالے سے تاحال کوئی قانون موجود نہیں ہے،دوسری جانب غیر اخلاقی تصاویر اور وڈیوز کا کاروبار پاکستان بھر میں عروج پر ہے اس غیر اخلاقی اور غیر قانونی کاروبار سے منسلک لوگ کافی حد تک فیس بک سے استفادہ کرتے ہیں۔پاکستان کی نامور جرنلسٹ عافیہ سلام کا کہنا ہے کہ دفتری اوقات کار میں ریسورسز کے غیر مفید استعمال کی ایک وجہ سوشل ویب سائٹس بھی ہیںجسکی وجہ سے اہم کاروباری اداروں میں فیس بک کو بلاک کر دیا جاتا ہے:
فیس بک سمیت تمام سوشل ویب سائٹس کے استعمال میں لڑکیوں کو بے حد محتاط رہنا چاہئیے،ہیکنگ سے بچنے کیلئے ناقابل رسائی پاس ورڈ کا انتخاب کریں اسکے علاوہانٹرنیٹ کیفے وغیرہ میں فیس بک استعمال کرنے کے بعد اپنا اکاﺅنٹ لاگ آﺅٹ کرنا ہر گز نہ بھولیں۔۔ایف آئی اے سائبر کرائم سیل کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ فیس بک پر بلیک میلنگ کا شکار ہونے والی خواتین کو فوری طور پرمتعلقہ اداروں سے رجوع کرنا چاہئیے کیونکہ تاخیر کی صورت میں مجرمان ثبوت ضائع کر دیتے ہیں۔نوجوانوں میں بڑھتی سماجی بے راہ روی کو روکنے کیلئے والدین کی ذمے داری ہے کہ وہ اس بات سے آگاہ رہیں کہ اُنکے بچے کن سائٹس کو وزٹ کر رہے ہیں اور سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کا استعمال کس طرح کر رہے ہیں۔