اندرون سندھ میں جہاںخواتین پر تشددکے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے وہیں یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ خواتین کے قتل کو خود کشی کا رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔مٹھی میںسٹیزن کمیونٹی فار ہیومن ڈیولپمنٹ سے منسلک مریم صدیقہ کا کہنا ہے کہ گھریلو جھگڑوں کے نتیجے میں خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ،جس میں عموماًخواتین کے اہل خانہ اور سسرالی رشتے دار شامل ہوتے ہیں:
مریم صدیقہ نے بتایا کہ مٹھی میں ایسے واقعات عام ہیں کہ خواتین کو گھریلو جھگڑوں کے نتیجے میں قتل کیا جاتا ہے لیکن ایف آئی آرخود کشی کی کٹوائی جاتی ہے ،اورمزید تفتیش کے بجائے کیس وہیں ختم کر دیا جاتا ہے:
اندرون سندھ میں خواتین پر تشدد اور قتل کے واقعات کی ایک بڑی وجہ تعلیم کی کمی بھی ہے۔مٹھی سے مریم صدیقہ نے بتایا ہے کہ زیادہ تر گھرانے بچیو ں کی تعلیم کے شدید خلاف ہیں:
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے حسی یا خاموشی ظالموں کی پشت پناہی کے مترادف ہے جسکے لئے عملی اقدامات کئے جانے چاہئیںتاکہ ایک طرف خواتین پر ہونے والے تشدد کو روکا جا سکے تو دوسری طرف مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے افراد کو عبرت ناک سزا دی جا سکے۔