جنوبی کورین شہرسوون کے باسیوں کو اس وقت ایک چیلنج کا سامنا ہے وہ یہ کہ انہیں اپنی گاڑیوں کا استعمال ایک ماہ کیلئے ترک کرنا ہوگا، اس دوران انہیں موٹرسائیکلیں دی جائیں گی یا وہ پیدل چلیں یہ ان کی اپنی مرضی ہوگی، اس اقدام کی وجہ ہوائی آلودگی میں کمی لانا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
جیسے ہی ہم نے ہائینگن پلازہ میں قدم رکھا تو ایک برقی اسکوٹر میں سوار شخص ہمارے قریب آگیا، یہ سوون کے 29 سالہ شہری لی سیونگ_ ریونگ ہیں۔
لی”مجھے یہ برقی اسکوٹر پسند ہے کیونکہ اس کو چلانے کیلئے کوئلے یا تیل کی ضرورت نہیں، میرے خیال میں گاڑیوں کو بجلی پر ہی چلایا نا چاہئے کیونکہ یہ ماحول کیلئے زیادہ بہتر ہے، جبکہ پیدل چلنا جسمانی فٹنس کیلئے سب سے بہترین ہے”۔
لی اپنی طرز کی منفرد میلے سوون ایکو موبیلیٹی ورلڈ فیسٹول کے رضاکار ہیں، اس میلے کے پیچھے یہ خیال ہے کہ کسی شہر کو چلانے کیلئے گاڑیوں کی ضرورت نہیں۔
کترینا بورو میاواس میلے کی انتظامیہ آئی سی ایل ای آئی میں شامل ہیں، یہ جرمنی سے تعلق رکھنے والی ایک این جی او ہے۔
کترینا”ماحول دوست فیسٹیول کا انعقاد آئی سی ایل ای آئی، اقوام متحدہ اور اوون شہر کی انتظامیہ نے کیا ہے تاکہ گاڑیوں سے نجات پاکر شہریوں میں یہ شعور اجاگر کیا جاسکے کہ گاڑیوں کے بغیر بھی زندگی ممکن ہے”۔
سوال”اوہ تو ہمیں پیدل ہی گلیوں میں گھومنا پڑے گا ورنہ آپ کی گاڑی ہمیں ٹکر مار دے گی”
کترینا”مگر یہ یاد رکھیں کہ پیدل چلنے والے ہی سڑکوں کے بادشاہ ہوتے ہیں(قہقہ)مقامی افراد سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی گاڑیاں فیسٹیول کے مقام سے بہت دور کھڑی کریں جبکہ انتظامیہ نے لوگوں کو متعدد اقسام کی سائیکلیں اور موٹرسائیکلیں فراہم کی ہیں۔
کترینا”ہم نے شہریوں سے کافی بات چیت کی ہے، متعدد کا کہنا ہے کہ ان کو تو اب یاد ہی نہیں سائیکل یا موٹر سائیکل چلاتے کس طرح ہیں، یہ لوگ گاڑیوں کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کرسکتے، ہمارے خیال میں اگر ہم انہیں گاڑیوں سے دور کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں انہیں متبادل بھی فراہم کرنا ہوگا”۔
اس فیسٹیول کا تصور آئی سی ایل ای آئی کے عہدیدار کونراد اوتو،زیمرمان نے پیش کیا۔
کونراد”جب میں نے ایک شہر کو یہ شکل دینے کا خیال پیش کیا تو میرا کہنا تھا کہ صرف ایک ماہ کیلئے حقیقی شہر، حقیقی شہریوں کو سبز زندگی گزار کر دیکھنا چاہئے، اب یہ خیال حقیقی شکل میں سامنے آگیا ہے تاکہ دنیا کو دکھایا جاسکے کہ اس طرح بھی زندگی گزاری جاسکتی ہے”۔
انھوں نے یہ خیال دو سال کے دوران متعدد شہروں کے مئیرز کو پیش کیا مگر صرف سوون میں ہی ان کی دال گلی۔
اوتو”یہ بہت حیرت انگیز تھا کیونکہ کوریا گاڑیوں سے محبت کرنے والا ملک ہے جہاں لوگوں کی زندگی کا انحصار ہی اپنی سواری پر ہے، یورپ میں تو اکثر شہروں میں مستحکم ٹرانسپورٹ پالیسیوں پر عمل کیا جارہا ہے، یہی وجہ ہے کہ انہیں مزید آگے بڑھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی کیونکہ ان کے پاس پہلے ہی مخصوص اہداف طے ہیں، میرے خیال میں مشرقی ایشیاءاس حوالے سے مثالی ماڈل ثابت ہوسکتا ہے”۔
فیسٹیول کے آغاز سے قبل اکثر شاہرائیں گاڑیوں سے بھری نظر آتی تھیں اور یہ سڑکیں پیدل چلنے والوں کیلئے نہیں لگتی تھیں، شروع میں تو شہر کے رہائشیوں نے گاڑیوں کے بغیر زندگی کے خیال کی مخالفت کی۔ یی اوم ٹی یوئنگ یہاں کے مئیر ہیں۔
یوئنگ”اس شہر کے رہائشیوں کا انحصار گاڑیوں پر ہے اور کاروباری حلقوں بھی اسی بات پر انحصار کرتے ہیں کہ ان کے صارفین گاڑیوں پر آئیں، ہم نے ان سے بات چیت کی، تاہم فیسٹیول کے حوالے سے ان کی مخالفت ڈیڑھ سال تک چلتی رہی، انھوں نے سٹی ہال کے باہر احتجاج بھ کیا، اور متعدد نے تعمیراتی مقام پر لیٹ کر کام بھی بند کروا دیا”۔
تاہم مقامی حکومت نے رہائشیوں سے وعدہ کیا کہ وہ انہیں متبادل سہولیات فراہم کرے گی۔
ہم لوگ مختلف شاہراﺅں میں پہنچ کر اس فیسٹیول کے بارے میں لوگوں کا ردعمل جانتے رہے، ہائے یون،ہو،ہوانگ ایک ریسٹورنٹ کے مالک ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ وہ شروع میں تو اپنے کاروبار کے بارے میں فکرمند تھے مگر تعمیر نو کے بعد اب ان کے ریسٹورنٹ میں لوگوں کی آمد بڑھ گئی ہے۔گو چینگ ریونگ گزشتہ ایک سال سے ایک کیفے چلارہے ہیں، انکا کہنا ہے کہ پیدل چلنے کا تصور کاروبار کیلئے زیادہ بہتر ثابت ہورہا ہے۔
گو چینگ”گاڑیوں کے بغیر زندگی اب زیادہ بہتر ہوگئی ہے، اب شور کم ہوگیا ہے اور جبکہ دھول مٹی اور غیرقانونی پارکنگ کے مسائل بھی کم ہوگئے ہیں، مجھے تو ابھی فکر ہے کہ جب یہ فیسٹیول ختم ہوجائے گا تو ہمارے علاقے کا کیا بنے گا”۔
مئیریوم ٹی یوئنگ کا کہنا ہے کہ آلودگی پھیلانے والے ایندھن کے کم استعمال سے جنوبی کوریا میں ماحول اورمعیشت کو زیادہ بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
یوم ٹی”ہماری معیشت کو توانائی کے محدود وسائل دستیاب ہیں، مجھے تو فکر ہے کہ ہم اپنی مستقبل کی نسل کیلئے کچھ بھی چھوڑ کر نہیں جائیں گے، ہمیں خراب ایندھن سے جان چھڑانا ہوگی، ہمیں مستقبل کا سوچ کر تیار کرنا ہوگی اور یہ فیسٹیول اس کیلئے ماڈل ثابت ہوگا، کم از کم اس طرح کی کوشش تو کرنی چاہئے”۔